Loading
مشرق وسطیٰ میں آج جنگ صرف آسمان پر اڑتے طیاروں، زمین پر بکھرے ملبے اور سمندر میں رواں جہازوں کا نام نہیں رہی، یہ اب سفارتی اعتبار، معاشی بقا اور عالمی طاقت کے مستقبل کا سوال بن چکی ہے۔ غزہ کے ملبے سے اٹھنے والا دھواں لبنان کی فضا تک پہنچتا ہے، لبنان کی گونج ایران کے محاذ سے ٹکراتی ہے اور ایران کے گرد بڑھتی کشیدگی آبنائے ہرمز کے پانیوں میں عالمی معیشت کی دھڑکن تیز کر دیتی ہے، یوں ایک خطے کا بحران بتدریج پوری دنیا کے لیے آزمائش بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، مصر، انڈونیشیا، اردن اور قطر کا مشترکہ بیان اسی بدلتی ہوئی صورت حال میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ان ممالک نے اسرائیل کی جانب سے غزہ جامع منصوبے اور فلسطینی ریاست کو مسترد کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنگ کا خاتمہ محض ہتھیار خاموش کرا دینے سے ممکن نہیں۔ پائیدار امن کے لیے فلسطینی عوام کے سیاسی مستقبل کا تعین بھی ضروری ہے۔ 1967 کی سرحدوں پر آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، کے مطالبے کا اعادہ دراصل اس بنیادی اصول کی توثیق ہے کہ کسی قوم کو اس کے حق خودارادیت سے محروم کرکے امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔
یہاں مسئلہ صرف ایک سیاسی منصوبے کی قبولیت یا مخالفت کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جنگ کے بعد غزہ کی حیثیت کیا ہوگی، اس کے شہریوں کو کون سی سیاسی ضمانت حاصل ہوگی، تعمیر نو کیسے ہوگی اور آیندہ کسی فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے کون سا نظام موجود ہوگا، اگر ان سوالات کے جوابات نہ دیے گئے تو جنگ بندی محض ایک وقفہ ثابت ہوگی۔ ملبہ ہٹ سکتا ہے، عمارتیں دوبارہ بن سکتی ہیں، مگر اگر ناانصافی کی بنیادی وجہ باقی رہے تو اگلا بحران صرف وقت کا منتظر ہوگا۔
اس تناظر میں امریکا کا کردار سب سے زیادہ فیصلہ کن ہے۔ واشنگٹن کے پاس اسرائیل پر اثرانداز ہونے کے لیے سیاسی، عسکری اور اقتصادی وسائل موجود ہیں، اگر امریکی انتظامیہ ایک طرف امن منصوبے کی حمایت کرے اور دوسری طرف اس منصوبے کی مخالفت کرنے والے فریق کے لیے کوئی موثر سیاسی قیمت مقرر نہ کرے تو سفارت کاری اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ امن صرف بیانات سے نہیں آتا،اس کے لیے طاقتور فریقوں کو اپنے طرز عمل کی حدود تسلیم کرنا پڑتی ہیں، یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی پالیسی کا امتحان ہے۔غزہ کے ساتھ جنوبی لبنان کی صورت حال بھی اسی تشویش کو بڑھا رہی ہے۔ انصار میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں سات افراد کی ہلاکت اس حقیقت کی تلخ یاد دہانی ہے کہ جنگ بندی اور امن ایک چیز نہیں۔ اگر جنگ بندی کے باوجود فضائی حملے جاری رہیں اور شہری جانیں محفوظ نہ ہوں تو سرحد کے دونوں جانب خوف باقی رہتا ہے۔ لبنان پہلے ہی سیاسی کمزوری اور اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے۔ مسلسل فوجی دباؤ اس کی ریاستی صلاحیت کو مزید کمزور کر سکتا ہے، جب کہ عوامی بے چینی کسی نئے تصادم کے لیے زمین ہموار کر سکتی ہے۔
خطے کی بدلتی ہوئی سیاست کا ایک اور پہلو خلیجی ممالک کی امریکا سے بڑھتی ہوئی بے چینی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین اب بھی واشنگٹن کو اہم دفاعی شراکت دار سمجھتے ہیں، لیکن امریکا ایران کشیدگی کو سفارتی راستے سے کم کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ان ریاستوں میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ صرف بیرونی فوجی موجودگی ان کی سلامتی کی کتنی ضمانت دے سکتی ہے۔ کئی خلیجی ممالک کا امریکی فوجی اڈوں کے مستقبل پر غور کرنا اسی اضطراب کی علامت ہے۔
یہ تبدیلی امریکا مخالف محاذ کی تشکیل سے زیادہ اسٹرٹیجک تنوع کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ریاستیں اب شاید ایک ہی طاقت پر انحصار کرنے کے بجائے متعدد شراکت داروں کے ساتھ تعلقات بڑھانا چاہتی ہیں۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان باہمی دفاعی تعاون بھی اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسے کسی بڑی طاقت کے خلاف صف بندی کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم دنیا کے بعض اہم ممالک اپنی سلامتی کو علاقائی تعاون کے ذریعے مضبوط بنانے کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں، یہ ایک اہم ذہنی تبدیلی ہے۔
آبنائے ہرمز اس پوری کشیدگی کا سب سے حساس اقتصادی مرکز بن چکی ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان جہازرانی کے راستے کے نقشے پر اتفاق کی خبر اس لیے امید افزا ہے کہ ہرمز میں معمولی کشیدگی بھی عالمی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔ خلیج فارس سے نکلنے والی توانائی کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ یہاں بحری آمدورفت میں نمایاں رکاوٹ صرف مشرقِ وسطیٰ کے لیے مسئلہ نہیں بنے گی بلکہ ایشیا، یورپ اور دنیا کی صنعتی معیشتوں تک اس کے اثرات پہنچیں گے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا بلند رہنا اسی خطرے کا ابتدائی اظہار ہے۔ برینٹ کی قیمت 88 ڈالر سے زیادہ اور امریکی خام تیل کی قیمت 82 ڈالر سے زائد رہنا سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔ گزشتہ ہفتے پانچ فیصد سے زیادہ اضافے نے واضح کر دیا کہ ہرمز سے متعلق معمولی خبر بھی قیمتوں کو حرکت دے سکتی ہے، اگر امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی راستہ مزید تنگ ہوا اور بحری نقل و حرکت متاثر رہی تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی افراط زر کو نئی قوت دے سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے۔ ہماری معیشت پہلے ہی توانائی کی درآمد، بیرونی ادائیگیوں اور مہنگائی کے دباؤ سے دوچار رہتی ہے۔ عالمی تیل مہنگا ہونے کا مطلب صرف پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوتا؛ اس کا اثر بجلی، ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت، خوراک اور تقریباً ہر شعبے کی لاگت پر پڑتا ہے۔ اس لیے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پاکستان کے لیے دور کا جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ براہ راست معاشی خطرہ ہے۔ قومی پالیسی میں توانائی کے متبادل ذرائع، درآمدی انحصار میں کمی اور علاقائی اقتصادی تعاون کو زیادہ اہمیت دینا ہوگی۔
ایران کی داخلی کیفیت بھی اس بحران کی پیچیدگی واضح کرتی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا یہ اعتراف کہ جنگ، تیل کی آمدنی میں کمی اور صنعتی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان نے معیشت پر شدید دباؤ بڑھایا ہے، اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ جنگ کی قیمت میدان جنگ سے کہیں زیادہ وسیع ہوتی ہے۔ نائب صدر اول محمد رضا عارف کی جانب سے مزید پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے خدشے کا اظہار بھی بتاتا ہے کہ عسکری کشمکش کے بعد معاشی محاذ زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔
مسلم ممالک کے لیے موجودہ بحران ایک سنجیدہ تاریخی امتحان ہے۔ مشترکہ بیان ایک ضروری قدم ہے، مگر اس کی اصل قدر عملی اقدامات سے ثابت ہوگی۔ غزہ کی تعمیر نو، انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی، فلسطینی سیاسی حقوق کی حمایت، جنگ بندی کی نگرانی اور خطے میں قابل اعتماد سلامتی کے نظام کے قیام کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں درکار ہیں، اگر مسلم دنیا صرف ردعمل دینے کے بجائے مذاکرات، تعمیر نو اور علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ ادارہ جاتی کردار پیدا کرے تو اس کی سیاسی اہمیت کہیں بڑھ سکتی ہے۔پاکستان کے لیے بھی راستہ واضح ہے۔ اسے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی اصولی حمایت برقرار رکھتے ہوئے کسی جنگی بلاک کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ پاکستان کی طاقت اس کے سفارتی توازن، مسلم دنیا سے تعلقات اور خطے کے مختلف فریقوں سے بات چیت کی صلاحیت میں ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ بڑھتا ہوا دفاعی تعاون اس وقت زیادہ مفید ثابت ہوگا جب اسے وسیع تر اقتصادی اور سفارتی تعاون کے ساتھ جوڑا جائے۔ اسلام آباد کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی ملکی معیشت کو غیر ضروری جھٹکے نہ دے۔
دنیا کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ جنگ کو جغرافیائی حدود سے باہر پھیلنے سے کیسے روکا جائے۔ غزہ کا سیاسی حل، لبنان کی سلامتی، ایران کے ساتھ موثر سفارت کاری اور آبنائے ہرمز کی محفوظ جہازرانی ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ ان میں سے کسی ایک محاذ پر مسلسل ناکامی باقی بحرانوں کو بھی شدید کر سکتی ہے۔ اسی لیے اب ضرورت کسی ایک فریق کی فتح کے بجائے ایسے سیاسی بندوبست کی ہے جس میں تمام ریاستوں کو جنگ کے بجائے مذاکرات میں اپنا مفاد نظر آئے۔
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت اپنے عروج پر بھی دائمی نہیں ہوتی، مگر جغرافیہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کا جغرافیہ اسے عالمی سیاست سے الگ ہونے نہیں دیتا، لیکن اسی جغرافیے کو مسلسل جنگ کا میدان بنانا بھی کسی کے مفاد میں نہیں۔ غزہ کے بچوں، لبنان کے شہریوں، ایرانی عوام اور خلیج میں تجارت کرنے والی دنیا کے کروڑوں انسانوں کا مستقبل اس بات سے وابستہ ہے کہ طاقتور ریاستیں کب یہ سمجھتی ہیں کہ ہر بحران کا فوجی جواب نہیں ہوتا، اگر سفارت کاری کو آخری راستہ نہیں بلکہ پہلا راستہ بنایا جائے تو تباہی کے اس پھیلتے دائرے کو محدود کیا جا سکتا ہے، ورنہ آج جو آگ غزہ میں دکھائی دے رہی ہے، کل وہ عالمی معیشت، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی سیاست کے دروازے پر دستک دے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل