Loading
ایران نے امریکی فوجیوں کے خلاف سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے ایسے افراد کے لیے 30 ہزار ڈالر انعام مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے جو کسی امریکی فوجی کو گرفتار کرکے ایرانی حکام کے حوالے کرے یا اسے ہلاک کرے۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ اعلان کرتے ہوئے ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے بتایا کہ اگر یہ کارروائی کسی خاتون کی جانب سے کی گئی تو انعام کی رقم دگنی ہوجائے گی۔
امیر حاتمی نے امریکا کو خبردار کیا کہ امریکی فوج کو خلیج فارس، خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرانی آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو خطے سے نکل جانا چاہیے اور ایران اپنی سرحدوں اور اہم بحری گزرگاہوں کے تحفظ کے لیے اپنی پوزیشن پر قائم ہے۔
رپورٹس کے مطابق امیر حاتمی نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کو گرفتار یا ہلاک کرکے ایرانی حکام کے حوالے کرنے والے شخص کو 30 ہزار امریکی ڈالر یا ایرانی کرنسی میں تقریباً 5 ارب تومان ادا کیے جائیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام عوام کی جانب سے موصول ہونے والی بڑی تعداد میں درخواستوں کے بعد تیار کیا گیا ہے۔
خاتمی کے بیان میں خواتین کے لیے دگنے انعام کی بات بھی کی گئی، جس کا مطلب ہے کہ کسی خاتون کی جانب سے امریکی فوجی کو پکڑنے یا ہلاک کرنے کی صورت میں انعام 60 ہزار ڈالر تک ہوسکتا ہے۔
ایرانی حکام کے اس اعلان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی میں ایک نیا پہلو پیدا کردیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تہران مسلسل واشنگٹن سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ سے اپنی فوجی موجودگی ختم کرے اور خطے کے اہم آبی راستوں سے دور رہے۔
غیر ملکی ذرائع کے مطابق ایران کے اندر امریکی زمینی فوج کی کسی باقاعدہ اور مستقل تعیناتی کی اطلاع نہیں ہے۔
تاہم رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اپریل میں ایک امریکی طیارہ گرنے کے واقعے کے بعد امدادی کارروائیوں کے سلسلے میں امریکی اہلکار ایران میں داخل ہوئے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے امریکی اہلکاروں سے متعلق تازہ اعلان کو موجودہ جنگی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔
ایرانی حکام کے اس اعلان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی میں ایک نیا پہلو پیدا کردیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تہران مسلسل واشنگٹن سے مطالبہ کررہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ سے اپنی فوجی موجودگی ختم کرے اور خطے کے اہم آبی راستوں سے دور رہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے دوران خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پہلے ہی کشیدگی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ یہ دنیا کی اہم ترین گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر کا 20 فیصد تیل و گیس سپلائی ہوتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل