Loading
کسی بھی ریاست کو اپنے انتظامی امور چلانے، ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے اور شہریوں کو تعلیم، صحت، تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے محصولات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے ٹیکس وصول کرنا بذاتِ خود کوئی غیرمنصفانہ عمل نہیں۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ حکومت ٹیکس کس سے وصول کر رہی ہے، اس کی شرح کتنی ہے اور جمع ہونے والی رقم کہاں خرچ کی جا رہی ہے۔
ایک منصفانہ مالیاتی نظام میں زیادہ آمدن رکھنے والے طبقات زیادہ ٹیکس دیتے ہیں، جبکہ کم آمدن والے شہریوں کو تحفظ اور سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس جب حکومت اپنی آمدن بڑھانے کے لیے روزمرہ ضروریات پر بالواسطہ ٹیکسوں کا انحصار بڑھا دے تو محصولات میں اضافہ قومی کامیابی سے زیادہ عوامی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
مالی سال 2025-26 کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں ریکارڈ 1567 ارب 45 کروڑ روپے کی وصولی اسی تناظر میں سنجیدہ غور وفکر کا تقاضا کرتی ہے۔ حکومت نے مذکورہ مالی سال کے لیے پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا ہدف 1468 ارب روپے مقرر کیا تھا، لیکن حقیقی وصولی حکومتی ہدف سے تقریباً 100 ارب روپے زیادہ رہی۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اس مد میں 1546 ارب روپے کی وصولی کا تخمینہ لگایا تھا، لیکن حکومت نے اس اندازے سے بھی تقریباً 21 ارب روپے زیادہ جمع کیے۔ اس کے علاوہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 50 ارب 16 کروڑ روپے الگ وصول کیے گئے۔ سرکاری حسابات میں اسے مالی ہدف سے بہتر کارکردگی قرار دیا جا سکتا ہے، مگر اس ریکارڈ وصولی کا دوسرا رخ عام شہری کی خالی ہوتی جیب ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے اعداد و شمار پیٹرولیم لیوی پر بڑھتے ہوئے حکومتی انحصار کو واضح کرتے ہیں۔ مالی سال 2022-23 میں اس مد میں 580 ارب روپے وصول کیے گئے تھے۔ مالی سال 2023-24 میں یہ رقم بڑھ کر 1019 ارب روپے ہو گئی۔ مالی سال 2024-25 میں وصولی 1220 ارب 21 کروڑ روپے تک پہنچی، جبکہ 2025-26 میں یہ رقم 1567 ارب 45 کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔ یوں صرف چند برسوں میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی تقریباً تین گنا ہو گئی۔ یہ اضافہ کسی معمول کی مالی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت نے اپنے مالیاتی خسارے پورے کرنے کے لیے ایندھن کو محصولات کا مستقل اور آسان ذریعہ بنا لیا ہے۔
اس وقت پیٹرول پر 80 روپے فی لیٹر، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 77 روپے 28 پیسے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر پانچ روپے فی لیٹر کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی الگ عائد ہے۔ اس طرح صارف صرف پیٹرولیم مصنوعات کی اصل قیمت ادا نہیں کرتا بلکہ ہر لیٹر پر بھاری سرکاری محصول بھی برداشت کرتا ہے۔ پیٹرول پمپ حکومت کے لیے ٹیکس وصولی کا ایسا مؤثر مقام بن چکا ہے جہاں شہری اپنی مالی حیثیت سے قطع نظر خودکار طور پر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ حکومت کو نہ ٹیکس گوشوارے کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور نہ ہی کسی بااثر نادہندہ کے خلاف کارروائی کرنی پڑتی ہے۔
پیٹرولیم لیوی بنیادی طور پر بالواسطہ محصول ہے، جس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں شہری کی آمدن اور معاشی حیثیت کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ ایک صنعت کار، جاگیردار، اعلیٰ سرکاری افسر اور موٹر سائیکل پر روزگار کے لیے جانے والا مزدور فی لیٹر تقریباً ایک ہی شرح سے لیوی ادا کرتا ہے۔ رقم کی ظاہری برابری کے باوجود اس کا معاشی اثر یکساں نہیں ہوتا۔ زیادہ آمدن والے شخص کے لیے ماہانہ چند ہزار روپے کا اضافی خرچ معمولی ہو سکتا ہے، مگر کم تنخواہ والے استاد، کلرک، سیلز مین، دکاندار یا مزدور کے لیے یہی رقم بچوں کی فیس، خوراک، ادویات یا بجلی کے بل کی ادائیگی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا براہِ راست اثر ذاتی سفر پر پڑتا ہے، جبکہ ڈیزل پر عائد لیوی پوری معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ پاکستان میں زرعی مشینری، ٹیوب ویل، بسیں، ٹرک اور مال بردار گاڑیوں کی بڑی تعداد ڈیزل استعمال کرتی ہے۔ جب ڈیزل کی قیمت بڑھتی ہے تو زمین کی تیاری، فصل کی کٹائی اور زرعی پیداوار کو منڈی تک پہنچانے کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ٹرانسپورٹر اضافی خرچ کرایوں میں شامل کرتے ہیں، تاجر اسے اشیا کی قیمتوں میں منتقل کرتے ہیں اور بالآخر اس کا بوجھ صارف پر آتا ہے۔ یوں ڈیزل پر عائد لیوی صرف گاڑی رکھنے والوں کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ آٹا، سبزی، پھل، ادویات اور دوسری ضروری اشیا خریدنے والے ہر شہری کو متاثر کرتی ہے۔
یہ پالیسی مہنگائی کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ نقل و حمل مہنگی ہونے سے چھوٹے کاروباروں کا منافع کم، خام مال کی لاگت زیادہ اور تیار مصنوعات کی قیمتیں بلند ہو جاتی ہیں۔ برآمدی صنعتوں کو عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ حکومت ایک جانب صنعت، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافے کی خواہش ظاہر کرتی ہے، مگر دوسری جانب توانائی اور نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات کاروباری ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ پیٹرولیم لیوی مختصر مدت میں سرکاری آمدن بڑھا سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں مہنگائی، کمزور طلب اور کاروباری سست روی پیدا کرکے مجموعی معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ ہدف سے تقریباً 100 ارب روپے زیادہ وصول ہونے والی رقم کس مقصد کے لیے استعمال کی جائے گی۔ یہ رقم عوام سے مقررہ اندازے سے زائد وصول ہوئی ہے، اس لیے اصولی طور پر اس کا فائدہ بھی عوام کو پہنچنا چاہیے۔ کیا اس اضافی رقم سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایے کم کیے جائیں گے؟ کیا کم آمدن والے موٹر سائیکل سواروں کو ہدفی ریلیف ملے گا؟ کیا چھوٹے کسانوں کو زرعی استعمال کے لیے رعایتی ڈیزل فراہم کیا جائے گا؟ کیا تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کے بجٹ میں اضافہ ہوگا؟ اگر اس رقم کے استعمال کی کوئی واضح تفصیل سامنے نہیں آتی تو ریکارڈ وصولی مالی کامیابی کے بجائے عوام سے ضرورت سے زیادہ محصول وصول کرنے کا تاثر پیدا کرے گی۔
کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 50 ارب 16 کروڑ روپے کی وصولی الگ شفافیت کی متقاضی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔ تباہ کن سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی، فضائی آلودگی اور پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے بڑے مالی وسائل درکار ہیں۔ لہٰذا ماحول کے تحفظ کے نام پر رقم جمع کرنا اصولی طور پر درست ہو سکتا ہے، لیکن حکومت کو اس کا قابلِ تصدیق حساب دینا چاہیے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس رقم سے کتنی برقی بسیں خریدی گئیں، کتنے چارجنگ اسٹیشن قائم ہوئے، شجرکاری اور سیلاب سے بچاؤ پر کتنی رقم خرچ ہوئی اور فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے کون سے عملی منصوبے شروع کیے گئے۔
اگر کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی رقم عام سرکاری اخراجات میں شامل ہو جائے تو اس کے مقصد پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ حکومت کو اس مد میں وصول ہونے والی رقم کے لیے الگ، شفاف اور قابلِ نگرانی فنڈ قائم کرنا چاہیے۔ اس فنڈ کی سالانہ آڈٹ رپورٹ پارلیمان اور عوام کے سامنے پیش کی جائے۔ اس سے شہریوں کو یقین ہوگا کہ ماحول کے نام پر وصول کی جانے والی رقم واقعی ماحولیاتی تحفظ، صاف توانائی اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
پیٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ پاکستان کے غیرمتوازن ٹیکس نظام کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت کے لیے پیٹرول، ڈیزل، بجلی، گیس اور موبائل فون پر ٹیکس وصول کرنا آسان ہے، کیونکہ صارف ادائیگی سے بچ نہیں سکتا۔ اس کے برعکس بڑی جائیدادوں، وسیع غیررسمی کاروباروں، غیرمعمولی منافع اور قابلِ ٹیکس زرعی آمدن رکھنے والے طاقتور طبقات کو مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں لانا سیاسی طور پر مشکل سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ محدود آمدن رکھنے والے شہری اپنی خریداری کے ذریعے مسلسل ٹیکس دیتے ہیں، جبکہ زیادہ مالی استعداد رکھنے والے کئی افراد اپنی اصل آمدن کے مطابق قومی خزانے میں حصہ نہیں ڈالتے۔
حکومت کو فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں مکمل شفافیت پیدا کرنی چاہیے۔ ہر پندرہ روز بعد قیمتوں کے اعلان کے ساتھ ایک سادہ تفصیل جاری ہونی چاہیے جس میں عالمی قیمت، درآمدی لاگت، شرحِ مبادلہ، فریٹ، ڈیلر مارجن، پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور دیگر واجبات الگ الگ درج ہوں۔ اسی طرح ہر سہ ماہی میں لیوی کی وصولی اور استعمال کی رپورٹ پارلیمان میں پیش کی جائے۔ عوام کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ حکومت نے کتنا محصول جمع کیا؛ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ وہ رقم کہاں خرچ ہوئی۔
ہدف سے زیادہ وصول ہونے والے تقریباً 100 ارب روپے کا ایک حصہ کم آمدن والے شہریوں اور چھوٹے کسانوں کے لیے مختص کیا جانا چاہیے۔ عمومی سبسڈی کے بجائے شناختی کارڈ، کسان کارڈ اور سماجی تحفظ کے موجودہ ڈیٹا کی بنیاد پر مستحق افراد کو محدود اور ہدفی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ موٹر سائیکل استعمال کرنے والے کم آمدن ملازمین کے لیے مخصوص ماہانہ مقدار پر رعایت دی جا سکتی ہے، جبکہ چھوٹے کسانوں کو زرعی سرگرمیوں کے لیے رعایتی ڈیزل فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے سے مالی وسائل کے ضیاع کے بغیر حقیقی مستحقین کو ریلیف پہنچایا جا سکتا ہے۔
پیٹرولیم لیوی کی زیادہ سے زیادہ شرح بھی قانونی حد کے تابع ہونی چاہیے۔ حکومت کو انتظامی فیصلے کے ذریعے اسے مسلسل بڑھانے کا غیرمحدود اختیار نہیں ملنا چاہیے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہونے کی صورت میں اس کا مناسب فائدہ صارف کو منتقل کیا جائے۔ اگر عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود مقامی قیمت صرف اس لیے برقرار رکھی جائے کہ زیادہ لیوی جمع ہو سکے تو عوام کا حکومتی معاشی پالیسی پر اعتماد مزید کم ہوگا۔
عوام سے قربانی مانگنے والی حکومت کو اپنے اخراجات میں بھی عملی کفایت شعاری دکھانی چاہیے۔ سرکاری گاڑیوں، مفت ایندھن، غیرضروری دوروں، شاہانہ دفاتر اور اعلیٰ حکام کی مراعات میں نمایاں کمی ضروری ہے۔ یہ ناانصافی ہوگی کہ عام شہری اپنی محدود آمدن سے بھاری لیوی ادا کرے، جبکہ بااختیار طبقہ سرکاری خزانے سے مفت ایندھن استعمال کرتا رہے۔ معاشی اصلاحات کا آغاز ہمیشہ اوپر سے ہونا چاہیے تاکہ عوام کو یقین ہو کہ مشکل حالات کا بوجھ سب پر منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔
عوام بھی ایندھن کے غیرضروری استعمال میں کمی، مشترکہ سفر، کار پولنگ اور گاڑیوں کی بروقت دیکھ بھال کے ذریعے اپنے اخراجات محدود کر سکتے ہیں۔ تاہم اصل ذمہ داری حکومت کی ہے کہ وہ سستی، محفوظ اور قابلِ اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ مہیا کرے۔ جدید ریل، برقی بسوں، الیکٹرک موٹر سائیکلوں، شمسی توانائی اور شہری سائیکل ٹریکس میں سرمایہ کاری سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی رقم ایسے ہی قابلِ پیمائش منصوبوں پر خرچ ہونی چاہیے۔
1567 ارب 45 کروڑ روپے کی پیٹرولیم لیوی وصولی کو صرف حکومتی کامیابی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ یہ رقم قومی خزانے میں ضرور جمع ہوئی ہے، لیکن اس کی ادائیگی عام شہریوں نے اپنے سفر، خوراک، تعلیم، علاج اور گھریلو بجٹ میں کمی کی صورت میں کی ہے۔ حکومت کی اصل کامیابی ریکارڈ محصول جمع کرنا نہیں بلکہ ایسا منصفانہ نظام قائم کرنا ہے جس میں امیر اپنی حیثیت کے مطابق ٹیکس دے، غریب کو تحفظ ملے اور ہر وصول شدہ روپے کا حساب عوام کے سامنے موجود ہو۔
معیشت صرف اہداف، تخمینوں اور اربوں روپے کے اعداد کا نام نہیں؛ یہ مزدور کے چولہے، کسان کی فصل، طالب علم کے کرایے اور متوسط خاندان کے ماہانہ بجٹ سے جڑی حقیقت ہے۔ اگر حکومتی ہدف پورا ہو جائے مگر عوام کی زندگی مزید مشکل ہو جائے تو ایسی پالیسی کو کامیاب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حکومت کو اضافی وصولی عوامی ریلیف، پبلک ٹرانسپورٹ، ماحول دوست منصوبوں اور سماجی تحفظ پر خرچ کرکے ثابت کرنا ہوگا کہ ریاست محصولات صرف خزانہ بھرنے کے لیے نہیں بلکہ شہریوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے جمع کرتی ہے۔ یہی طرزِ عمل مالی استحکام، عوامی اعتماد اور حقیقی قومی ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل