Loading
ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث امریکا کے اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو (SPR) میں خام تیل کا ذخیرہ 44 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو سے گزشتہ ہفتے مزید 53 لاکھ بیرل خام تیل نکالا گیا جس کے بعد ذخیرے میں موجود تیل تقریباً 29 کروڑ 34 لاکھ بیرل رہ گیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ یہ سطح 1982 کے اواخر کے بعد کم ترین ہے جبکہ رائٹرز نے بھی 17 اگست کی اپنی رپورٹ میں تصدیق کی کہ امریکی خام تیل کے ہنگامی ذخائر 1982 کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہونے کے باعث امریکی حکومت نے ذخائر سے تیل نکالنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ امریکا کے اسٹریٹجک ذخائر میں حالیہ کمی ایران جنگ میں سامنے آئی ہے۔
فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل شدید متاثر ہوئی۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل خام تیل اور تیل کی مصنوعات آبنائے ہرمز سے گزرتی تھیں جو دنیا کی سمندری تیل تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔
ایران جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں شدید کمی نے عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات بڑھا دیے جس کے بعد امریکا سمیت رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا۔
امریکا نے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جاری کرنے کا وعدہ کیا
11 مارچ کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے 32 رکن ممالک نے متفقہ طور پر ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل عالمی منڈی میں لانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ ادارے کی تاریخ میں سب سے بڑا مشترکہ تیل ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ تھا۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے بقول اس منصوبے میں امریکا کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ اور اُس نے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل تیل اپنے ہنگامی ذخائر سے جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا۔یہ مقدار امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر کے موجودہ حجم کے نصف سے بھی زیادہ بنتی ہے۔
اس سے پہلے جولائی میں امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر تقریباً 31 کروڑ 65 لاکھ بیرل تک گر گیا تھا جو اپریل 1983 کے بعد کم ترین سطح تھی۔ اس وقت بھی امریکی حکام ایران جنگ کے باعث کیے گئے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل کے ہنگامی اجرا کے پروگرام پر عملدرآمد کررہے تھے۔
اب مزید کمی کے بعد ذخیرہ 29 کروڑ 34 لاکھ بیرل تک آگیا ہے یعنی صرف چند ہفتوں میں کئی کروڑ بیرل تیل اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر سے نکل چکا ہے۔
آئی ای اے کے بقول جنگ کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے 10 فیصد سے بھی کم رہ گئی تھیں۔
امریکا کے اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر کا مقصد
امریکی Strategic Petroleum Reserve دنیا کا سب سے بڑا سرکاری ہنگامی خام تیل ذخیرہ ہے۔ اسے بنیادی طور پر ایسے حالات کے لیے قائم کیا گیا تھا جب جنگ، قدرتی آفت یا عالمی سپلائی میں شدید خلل کے باعث امریکا کو اچانک تیل کی کمی کا سامنا ہو۔
امریکی قانون کے تحت اس میں ایک ارب بیرل تک پٹرولیم ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے تاہم موجودہ بحران میں ذخائر سے مسلسل تیل نکالنے سے اس کا حجم تاریخی طور پر کم سطح تک پہنچ گیا ہے۔
1982 کے بعد سب سے کم ذخیرہ کیوں اہم ہے؟
امریکا کے اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر کی موجودہ سطح اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ تقریباً چار دہائیوں سے زائد عرصے میں پہلی بار اتنی کم ہوئی ہے۔
جولائی میں رپورٹ کیا گیا تھا کہ یہ ذخائر 31 کروڑ 65 لاکھ بیرل تک گر گئے تھے جبکہ 1982 میں تاریخی کم ترین سطح تقریباً 27 کروڑ 50 لاکھ بیرل ریکارڈ کی گئی تھی۔ موجودہ سطح اب اس تاریخی نچلی حد کے قریب پہنچ رہی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکا مستقبل میں کسی نئے عالمی تیل بحران کا سامنا کرتا ہے تو حکومت کے پاس فوری طور پر مارکیٹ میں لانے کے لیے پہلے کے مقابلے میں کہیں کم سرکاری ذخیرہ دستیاب ہوگا۔
امریکا کیلیے عالمی توانائی منڈی میں بڑا امتحان
آئی ای اے نے مارچ میں واضح کیا تھا کہ 40 کروڑ بیرل کا ہنگامی اجرا عالمی منڈی کے لیے ایک اہم عارضی سہارا ہے لیکن اصل حل آبنائے ہرمز سے تیل کی معمول کی ترسیل کی بحالی ہے۔
یوں امریکا کے اسٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر کا 29 کروڑ 34 لاکھ بیرل تک پہنچ جانا صرف امریکی ذخائر میں کمی نہیں بلکہ ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی توانائی سلامتی کے باہمی تعلق کی واضح علامت ہے۔
اگر ہرمز بحران طویل ہوتا ہے تو امریکا کو ایک طرف بلند ایندھن قیمتوں سے نمٹنا ہوگا اور دوسری جانب اپنے تیزی سے کم ہوتے ہنگامی تیل ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے چیلنج کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل