Tuesday, August 18, 2026
 

جاگ ریلوائی جاگ

 



یہ کتاب ’’جاگ ریلوائی جاگ‘‘ ٹریڈ یونین رہنما منظور رضی کے ان مشاہدات اور تجربات پر مشتمل ہے جو ریلوے کے ایک ملازم اور محنت کشوں کی تنظیم سے وابستہ فرد کی حیثیت سے ان کی زندگی کا حصہ بنے۔ منظور رضی نے ریلوے کوارٹرز ہی میں آنکھ کھولی اور پھر ساری زندگی ٹرینوں، پلیٹ فارموں، بکنگ دفتروں، مظاہروں کی گزرگاہ بننے والی سڑکوںاور جیل خانوں میں گزاردی۔ ستربرس کے ان مشاہدات اور تجربات کو انٹرویوز کی شکل میں ریکارڈ کر کے ٹرانسکرائب کیا گیا ہے اوران کو کتابی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کا انتساب بابائے محنت کش کسان مرزا محمد ابراہیم اور پاکستان کے محنت کشوں کے نام ہے۔ اس کتاب کا آغاز لاطینی امریکا کے شاعر پاپلونروداکی نظم ’’ریلوائی جاگ‘‘ سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد نے تعارف کے عنوان سے کتاب کے آغاز پر لکھا ہے کہ’’ پاکستان میں ریلوے کے محنت کشوں کی صبر آزما جدوجہد کے لیے اپنی زندگی وقت کردینے والے کارکن اور رہنما منظور رضی کی داستان حیات کو ’’جاگ ریلوائی جاگ‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ لاطینی امریکا کے مشہور شاعر پاپلونرودا نا Let The Rail Splitter Awake کے عنوان سے ایک خوبصورت نظم لکھی تھی۔ پاپلونرودا کی اسی علامت سے منظوررضی اور ریلوے ورکرز کی جدوجہد بھی متفق ہے۔ کبھی تیز تر حرکت، کبھی سست روی اور خاموشی کبھی اجتماعی سرخروی کا احساس اور کبھی جان لیوا تنہائی، پاکستان کے محنت کشوں کی تحریک ان ہی مراحل سے عبارت ہے۔ منظور رضی نے ڈاکٹر سید جعفر احمد کو ایک طویل انٹرویو دیا۔ انھوں نے انٹرویو میں مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریلوے کالونی کراچی سٹی میں 4 دسمبر 1945کو پیدا ہوئے۔ بقول منظور رضی میرے والد پہلے مشرقی پنجاب کی ریاست کلیانے سے کراچی آئے تھے۔ منظوررضی کے والد 1940میں ریلوے میں بھرتی ہوگئے تھے۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میٹرک کے بعد والد نے مجھے ریلوے میں نوکر کرادیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اکتوبر 1967میں ایوب خان کے خلاف تحریک چلی تھی۔ 13 دن گاڑیاں بند رہیں، یہ ایوب خان حکومت کے خلاف آخری جھٹکا تھا۔ رضی نے مزید بتایا کہ میں تو شاعری یا فلمی دنیا کی طرف جانے والا تھا، ہمارا ہیڈ کلرک پیر خان ہزارہ کا رہنے والا تھا۔ یہاں کمیونسٹ پارٹی چین نواز گروپ کے لوگ کام کرتے تھے۔ طفیل عباس کا گروپ تھا۔ ایک فرد ہمیں منشور اور ماؤزے تنگ کی ریڈ بک دیتا تھا، یہ 4 آنے میں دیتا تھا۔ اسی طرح ان سے رابطہ ہوا لیکن میں کوئی یونین پارٹی کی طرف نہیں تھا۔ جب تین چار دن ہڑتال کو ہوگئے تو وہ تھک گئے۔ ہم کلرکوں کی ہڑتال نہیں تھی۔ ایک شخص آیا اور کہا چلو کینٹ اسٹیشن چلو، وہاں ہڑتالی مزدور چار دن سے بیٹھے ہیں اور تقریریں ہورہی ہیں، میں نے ویتنام پر نظم لکھی تھی۔ میرا ہڑتال سے تعلق نہیں مگر مجھے اسٹیج پر بلایا گیا اور میں نے نظم پڑھی ۔ پولیس آئی ، میں بھی گرفتار ہوا، پھر کراچی سینٹر ل جیل بھیج دیا گیا۔ سنٹرل جیل میں مجھے اسی ادیب میکسم گورکی کی کتاب پڑھنے کو دی گئی۔ اس وقت جیل کے برے حالات تھے، پھر مجھے بھی ریلوے سے نکال دیا گیا، ابا نے 1969 میں دوبارہ کمرشل بکنگ کلرک بھرتی کرایا، ہمیں ٹریننگ کے لیے والٹن لاہور بھجوایا گیا۔ وہاں کوٹ لکھپت میں تقریریں بھی کیں اور اب میں مارکسٹ بن گیا تھا۔ جب میں کراچی آیا تو یہاں ایک سی بی اے یونین ورکشاپ تھی اور لائن یونین کا سیکریٹری ایک ہیڈ کلرک تھا۔ اس نے جا کر ڈویژن کمرشل افسر کو کہا ’’منظور رضی آگیا ہے۔‘‘ کمرشل افسر نے کہا ’’اس نے والٹن پاس کیا ہے میں تو اس کو نہیں نکال سکتا مگر اس کو کراچی میں نوکری نہیں کرنے دوں گا۔‘‘ انھوں نے مجھے ایک چھوٹے اسٹیشن دھورونارو بھیج دیا، اس سے آگے عمر کوٹ تھا۔  جب پیپلز پارٹی 1967 میں بنی تو پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ طفیل عباس کا تھا، چار آنے ممبرشپ تھی۔ ذوالفقارعلی بھٹو جب ایوب خان کے وزیر بنے اور چین کے پیکنگ ہال میں گئے تھے تو وہاں طفیل عباس کی تصویر لگی ہوئی تھی تو بہت متاثر ہوئے۔ فیصلہ ہوا کہ ہم لیفٹ کے لوگ ہیں ، ہم سب بھٹو کے ساتھ جائیں گے۔ جے رحیم، ڈاکٹر مبشر، مختار رانا اور عبدالوحید عرشی سب پارٹی میں شامل تھے۔ 1948میں لال جھنڈے والی ریلوے ورکرز یونین بنی تھی جو پورے ملک کی مدر یونین تھی، پھر پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن بنی۔ صدر مرزا ابراہیم اور نائب صدر فیض احمد فیض تھے۔ فیض صاحب چارج شیٹ کے جوابات دیتے تھے۔ میں دھورنارو اسٹیشن پر کام کرتا تھا۔ وہاں چھور فوجی چھاؤنی میں بھٹو صاحب جلسہ کرنے آئے، میں ان سے ملنے گیا۔ بھٹو نے پوچھا ’’تم یہاں کیسے؟‘‘ میں نے بتایا کہ مجھے یہاں بھیج دیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ رسول بخش تالپور بھی تھے۔ رسول بخش تالپور نے ایک ڈی ایس ایم زمان پٹھان کو ٹیلی فون کیا اور کہا کہ ’’میں تالپور بول رہا ہوں۔ بھٹو صاحب موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اسے کراچی واپس بھیج دیا جائے۔ ‘‘ یوںکراچی میں پہلی پوسٹنگ ماڈل کالونی میں ہوئی۔  منظور رضی نے پیپلز پارٹی کی حکومت میں اپنی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ بھٹو نے یوٹرن لیا۔ ہم سب کو جیلوں میں ڈلوادیا، اس دوران ٹیم انڈرگراؤنڈ ہوگئی۔ ہمارے خاصے ساتھی گرفتار ہوگئے۔ میں نے ڈی ایس کو ٹیلی فون کیا کہ ہمارے ساتھیوں کو رہا نہ کیا گیا تو آپ کا گھر بم سے اڑادوں گا۔ پولیس نے میرے والد کو گرفتار کرلیا۔ کراچی پولیس نے مجھے گرفتار کرکے ریلوے پولیس کے حوالے کیا۔ سٹی اسٹیشن پر مجھے سادہ کپڑے والوں نے روڈ پر برہنہ کرکے بہت مارا، مجھے بعد ازاں سی آئی اے والوں کے حوالے کیا گیا۔ مجھے لگا یہ اب مجھے اور ماریں گے۔ وہاں ایک آدمی نے میرے زخم صاف کیے، میں خاصے عرصے تک بند رہا۔ میری اہلیہ نے میری رہائی کے لیے مہم چلائی۔  صحافی عبدالحمید چھاپرا نے ہفت روزہ میگزین میں ایک آرٹیکل لکھا۔ ممتاز بھٹو مواصلات کے وزیر بنے اور ہم سب رہا ہوئے۔ منظور رضی نے اپنے بھائی سے انٹرویو میں بتایا کہ 1981 میں پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے ایم آر ڈی بنائی۔ 1983 میں کراچی کے ریلوے ورکرز یونین کی سالانہ ورکرز کانفرنس میں ریلوے ہال انسٹی ٹیوٹ میں منعقد ہوئی۔ یہ طے کیا گیا کہ کانفرنس کے آخری دن کانفرنس شروع ہونے کے بعد ہال کے دروازے بند کردیے جائیں گے اور کوئی شخص باہر نہیں جاسکے گا۔ اچانک بیگم نصرت بھٹو چادر اوڑھ کر فتحیاب علی خان اور سردار شوکت علی کے ہمراہ ہال میں 4بجے کے قریب داخل ہوئیںاور تقریر کی، یہ ایم آر ڈی کی تحریک کا آغا زتھا۔ جب بیگم بھٹو پولیس کی پہنچ سے دور نکل گئیں تو ہال کے دروازے کھول دیے گئے، یہ تاریخی کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی۔ شام کو بی بی سی اور جرمنی ریڈیو کے ذریعہ بیگم نصرت بھٹو کی روپوشی کے خاتمے اور ایم آر ڈی تحریک کے آغاز کی خبریں ساری دنیا نے سنیں۔ اس کتاب میں منظور رضی کی زندگی اور پاکستان کی مزدور تحریک کے بارے میں بہت کچھ ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل