Loading
سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، جس میں واضح کیا گیا کہ نظرثانی کی درخواست کو اپیل کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے12 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا، جس میں کہا ہے کہ مجرم کی استدعا تھی کہ ذہنی مریض ہونے پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے جبکہ مجرم نے ایسے شواہد پیش نہیں کیے کہ عدالت فیصلے پر نظرثانی کرے۔
فیصلہ میں بتایا گیا کہ ریکارڈ سے ثابت ہے کہ مجرم انتہائی سنگین جرم کا مرتکب ہوا ہے، مجرم کا جرم ایسا نہیں تھا کہ اس کی سزا میں کمی جا سکے اور نظرثانی میں عدالت کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہوتا ہے جبکہ نظرثانی کی درخواست کو اپیل کے طور نہیں لیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق سال 2024 میں 50 ہزار خواتین آشنا یا اہل خانہ کے ہاتھوں قتل ہوئیں، اسلام نے خواتین کو بے حد تحفظ اور احترام دیا ہے، خواتین پر تشدد، عدم تحفظ کا شکار کرنا شرعی اور دنیاوی قوانین کے خلاف ہے۔
خیال رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو نور مقدم کو زیادتی اور قتل پر سزائے موت دی تھی، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل