Loading
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق مذاکرات میں تعطل کے باعث خطے میں کشیدگی اور تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنگ بندی مذاکرات کے لیے ثالثیوں کی سرگرم ہونے کے باوجود اب تک ایران اور امریکا کے بڑوں کے درمیان بیٹھک ممکن نہیں ہوسکی ہے۔
اس عدم اعتماد کے ماحول میں دونوں ممالک کے رہنماؤں اور عسکری افسران کی جانب سے لفظی گولہ باری کا سلسلہ بھی جاری ہے جس سے معاملات مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مشیر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے امریکا کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیوں کی دھمکی کے جواب میں صدر ٹرمپ کو انتہائی تنگ نظر اور بچکانہ قرار دیدیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر کے پاس مستقبل کے لیے کوئی طویل المدتی وژن نہیں۔ وہ دور رس نگاہوں اور پیش بینی کے ادراک سے محروم رہنما ہیں۔
ایرانی جنرل نے امریکی صدر کو ناقابل بھروسہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے الفاظ میں مستقل مزاجی نہیں اور وہ مستقبل کے لیے قابلِ اعتماد بنیاد فراہم نہیں کرتے۔
ان کے بقول ٹرمپ کے بیانات کی پالیسی میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے امریکا کی عالمی حیثیت بھی متاثر ہوئی ہے کیوں کہ وہ اپنے بیانات کے نتائج پر اگلے 24 گھنٹوں کے بعد بھی غور نہیں کرتے۔
جنرل نقوی کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو ایسے زبانی وعدوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے جن کے پیچھے قابلِ عمل اور قابلِ نفاذ ضمانتیں موجود نہ ہوں۔
انھوں نے کہا کہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ ایک ٹیکسی ڈرائیور کی باتوں پر اعتماد اور بھروہ کرتا ہوں۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے جنرل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا اس جنگ میں ایران کے خلاف اپنے اہداف اور مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی اور ملک کو تقسیم کرنا چاہتا تھا لیکن ایسا نہ ہوا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل