Thursday, August 20, 2026
 

گلوکارہ نیرہ نور کو مداحوں سے بچھڑے چار برس بیت گئے

 



بلبل پاکستان، ممتاز گلوکارہ نیرہ نور کو دنیا سے رخصت ہوئے چار برس بیت گئے مگر ان کی آواز آج بھی سننے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ نرم، مدھر اور دل میں اتر جانے والی نیرہ نور کی آواز نے غزل کو گہرائی، نظم کو تاثیر اور ملی نغموں کو جذبۂ حب الوطنی دیا۔ نیرہ نور 3 نومبر 1950 کو گوہاٹی میں پیدا ہوئیں۔ بچپن ہی سے موسیقی سے غیر معمولی لگاؤ تھا۔ پاکستان آنے کے بعد طالب علمی کے دور میں شوقیہ گائیکی کی، پھر ریڈیو پاکستان سے ان کی آواز نے سامعین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ 1971 میں پی ٹی وی سے فنی سفر کا آغاز ہوا تو نیرہ نور نے اپنی منفرد آواز کے ذریعے بہت جلد الگ شناخت بنا لی۔ مرزا غالب، فیض احمد فیض، ناصر کاظمی اور ابنِ انشا جیسے بڑے شعرا کا کلام گایا اور اسے نئی زندگی بخشی۔ نیرہ نور کی آواز صرف غزل اور شاعری تک محدود نہیں رہی۔ فلموں کے لیے گیت ریکارڈ کیے، ڈراموں کے لیے پس پردہ گائیکی کی اور ملی نغموں میں وطن سے محبت کے جذبات کو ایسی تاثیر دی کہ ان کے گیت آج بھی قومی تقریبات کا حصہ بنتے ہیں۔ نیرہ نور نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں کی تھی لیکن ان کی خداداد صلاحیت، مسلسل ریاضت اور بڑے فنکاروں کو سننے کے شوق نے انہیں موسیقی کی دنیا میں منفرد مقام عطا کیا۔  نیرہ نور کو 2006 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ 20 اگست 2022 کو وہ کراچی میں انتقال کرگئیں لیکن ان کی آواز آج بھی سماعتوں میں رس گھولتی ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل