Thursday, August 20, 2026
 

سندھ کی تقسیم ناقابل قبول، حکومت رہے یا نہ رہے اپنے مؤقف پر قائم رہیں گے، وزیر بلدیات ناصر شاہ

 



وزیربلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سندھ دھرتی ہماری ماں ہے اور اس کی تقسیم ناقابل قبول ہے، ہماری حکومت رہے یا نہ رہے مگر اپنے مؤقف پر قائم رہیں گے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پی آئی ڈی سی پر سیو سندھ لائرز کمیٹی کے احتجاج و دھرنے کے شرکا سے وزیربلدیات ناصر حسین شاہ، میئر کراچی پہنچے، حکومتی وفد اور وکلاء کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے جس کے بعد وکلاء نمائندوں نے احتجاج ودھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ فریقین نے مطالبات کی منظوری کے لیے کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا جس کے لیے سندھ حکومت نے وکلا سے  نام مانگ لیے ہیں۔ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ کی تقسیم ناقابل قبول ہے، یہ دھرتی ہماری ماں ہے اور حکومت رہے یا نہ رہے ہم اپنے موقف پر قائم رہیں گے۔ ایڈوکیٹ عاقب راجپر نے کہا کہ حکومت نے کمیٹی کے لیے نام مانگے ہیں۔ کمیٹی بننے پر فی الحال مستقبل کے احتجاج کا اعلان نہیں کر رہے۔ صدر سندھ ہائی کورٹ بار حسیب جمالی نے کہا سندھ ہمارا وطن ہے، لوگوں کو تقسیم کے بجائے جوڑنے کی بات کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات سنے ہیں، ہفتے میں کمیٹی قائم کی جائے گی۔وکلاء نمائندوں نے حکومت کی جانب سے کمیٹی بنانے کی یقین دہانی کے بعد پی آئی ڈی سی پر جاری احتجاج ودھرنا ختم کر دیا۔ حکومت اور وکلا نمائندوں کےد رمیان چھ رکنی کمیٹی قائم کی جائے گی جس میں دونوں فریقین کے تین تین نمائندے شامل ہوں گے اور پھر کمیٹی وکلا کے مطالبات کا جائزہ لے گی۔ اس سے قبل سیو سندھ لائرز کمیٹی نے صوبے کے کسانوں، وکلاء اور سیاسی کارکنوں کے حقوق کے لیے جمعرات کو وزیراعلی ہاؤس کے قریب ایڈوکیٹ عاقب راجپر کی قیادت میں احتجاج کیا اور پھر شرکا نے علامتی دھرنا دیا۔ وکلا کی پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے وزیراعلی ہاؤس کے اطراف کے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کریے تھے جس کی وجہ سے اطراف میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ لائرز کمیٹی نے کہا کہ سندھ کے کسانوں کا معاشی قتل کسی صورت قبول نہیں، یہ سلسلہ بند کیا جائے۔ 28 ویں آئینی ترمیم کا ڈرافٹ فوری بند کیا جائے۔ سندھ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کو رد کرتا ہے۔ ان ترامیم کی وجہ سے ملک کا عدالتی نظام تباہ ہو چکا ہے۔ وکلا نے کہا کہ کارونجھر کی کٹائی کسی صورت قبول نہیں ہے جبکہ مظاہرین نے تمام سیاسی قیدیوں کو فوری رہائی اور بار ایسوسی ایشنز میں حکومتی مداخلت فوری بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں بے واضح کیا کہ سندھ کی تقسیم کسی صورت میں قبول نہیں، سندھ ایک تھا اور ایک ہی ریے گا۔ہم پر امن انداز میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ 

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل