Loading
پشاور کے شہری علاقے میں دہشت گردوں کی جانب سے پولیس چوکی کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ سامنے آیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چوکی پر کواڈ کاپٹر کے ذریعے دو میزائل داغے گئے جس کے بعد پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے واقعے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے حملہ آوروں اور استعمال کیے گئے ڈرون کے روٹ کا سراغ لگانے کے لیے مختلف پہلوؤں پر کام شروع کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ترناب پولیس چوکی کو کواڈ کاپٹر طرز کے ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، حملے میں ڈرون کے ذریعے دو مارٹر گولے گرائے گئے، جن میں سے ایک پولیس چوکی کے اندر گرا جبکہ دوسرا گولہ چوکی سے کچھ فاصلے پر واقع دکانوں کے قریب جاگرا۔
واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی جبکہ پولیس نے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہری علاقے میں پولیس چوکی پر ڈرون کے ذریعے حملہ سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا اور اہم چیلنج ہے کیونکہ ماضی میں پشاور میں دہشت گردی کے واقعات میں فائرنگ، دستی بموں، بارودی مواد اور دیگر روایتی طریقوں کا استعمال سامنے آتا رہا ہے، تاہم ڈرون کے ذریعے پولیس تنصیب کو نشانہ بنانا ایک مختلف نوعیت کی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے پولیس اور سی ٹی ڈی کی ٹیمیں تشکیل دی گئیں جس کے بعد ٹیموں نے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد، گولوں کے ٹکڑوں اور دیگر مواد کا فرانزک جائزہ لیا تاکہ حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار اور طریقہ کار سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات کا ایک اہم پہلو حملہ آوروں کی جانب سے استعمال کیے گئے ڈرون کے روٹ کا تعین کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے پولیس چوکی کے اطراف سمیت جی ٹی روڈ اور ملحقہ علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے۔
تفتیشی ٹیمیں یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ڈرون نے کس مقام سے پرواز کی، کس راستے سے پولیس چوکی تک پہنچا اور حملے کے بعد کس سمت واپس گیا یا اسے کہاں سے کنٹرول کیا گیا۔
حکام نے پولیس چوکی کے اندر اور اطراف میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی قبضے میں لینے کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف مقامات کی فوٹیج کا جائزہ لے کر مشتبہ افراد، گاڑیوں یا ڈرون کو کنٹرول کرنے کے ممکنہ مقام کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد جی ٹی روڈ پر قائم پولیس چوکیوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
حکام نے جی ٹی روڈ پر قائم پولیس چوکیوں پر اینٹی ڈرون سسٹم فعال کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں، جبکہ حساس مقامات اور پولیس تنصیبات کو ڈرون کے ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے سیکیورٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اینٹی ڈرون صلاحیتوں کو مزید مؤثر بنانا ضروری ہوگیا ہے۔ ترناب پولیس چوکی پر حملے کے بعد پشاور کے دیگر حساس مقامات کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی ممکنہ خطرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی ادارے اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ حملے میں استعمال ہونے والا کواڈ کاپٹر کہاں سے حاصل کیا گیا اور اسے آپریٹ کرنے والے افراد نے پولیس چوکی کو نشانہ بنانے کے لیے کس طرح نگرانی اور منصوبہ بندی کی۔ تاہم حملے کے ذمہ دار افراد اور ڈرون کے کنٹرولنگ مقام سے متعلق حتمی معلومات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکیں گی۔
حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج، جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد اور تکنیکی معلومات کو یکجا کرکے حملہ آوروں تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل