Loading
واشنگٹن: ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائل حملوں کے باعث امریکا کے پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اوپن سورس انٹیلی جنس آسنٹ پر مبنی اندازوں کے مطابق ایک ہی رات اردن کے اوپر ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے امریکا نے بڑی تعداد میں انٹرسیپٹرز استعمال کیے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے تقریباً 32 ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہی رات میں 96 سے 128 تک انٹرسیپٹرز فائر کیے۔ ایک انٹرسیپٹر کی ممکنہ قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے، جس کے باعث اس ایک رات کی دفاعی کارروائی کی مجموعی لاگت تقریباً 38 کروڑ سے 64 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اگر یہ اندازے درست ہیں تو ایران کے ایک بڑے میزائل حملے کو روکنے کی امریکی کوشش خاصی مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے لیے تشویش کا اہم پہلو یہ ہے کہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی تیاری فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی بلکہ ایک نئے انٹرسیپٹر کی تیاری میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
اوپن سورس رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ذخیرے میں اب تقریباً 900 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز باقی رہ گئے ہیں۔ تاہم اس تعداد کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق مشکل ہے اور امریکی حکام کی جانب سے موجودہ ذخیرے کی درست تعداد عام طور پر ظاہر نہیں کی جاتی۔
پیٹریاٹ کی ایک مکمل بیٹری میں تقریباً 72 سے 96 انٹرسیپٹرز موجود ہوسکتے ہیں۔ اگر ایک سے زیادہ بیٹریاں اور اضافی ری لوڈز بھی شامل کیے جائیں تو کسی بڑے حملے کے دوران سینکڑوں انٹرسیپٹرز دستیاب ہوسکتے ہیں، لیکن مسلسل استعمال سے ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
امریکی سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے بھی اس سے قبل اندازہ لگایا تھا کہ جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر استعمال کے بعد امریکا کے پاس ایک ہزار سے کم پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز باقی رہ گئے تھے۔
دفاعی صنعت کے لیے ایک اور مسئلہ ان میزائلوں کی محدود پیداواری رفتار ہے۔ انٹرسیپٹرز کی تیاری میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جبکہ پیداواری صلاحیت کو بتدریج بڑھا کر 2030 تک تقریباً 2 ہزار یونٹس سالانہ تک پہنچانے کی توقع کی جارہی ہے۔
اگر ایران اسی سطح پر مسلسل بیلسٹک میزائل حملے جاری رکھتا ہے تو واشنگٹن کو مشکل فیصلوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ امریکا کو ایک طرف مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں اور اہلکاروں کے دفاع کے لیے بڑی تعداد میں مہنگے انٹرسیپٹرز استعمال کرنا ہوں گے، جبکہ دوسری جانب پیٹریاٹ ذخائر تیزی سے کم ہونے کا خطرہ موجود رہے گا۔
ایسی صورتحال میں امریکا کے لیے ایک ممکنہ راستہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی یا بعض دفاعی ترجیحات میں کمی کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ امریکی فوجی حکمت عملی اور مشرق وسطیٰ میں موجود اتحادیوں کی سکیورٹی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل