Monday, August 31, 2026
 

شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس؛ اس بار بھی طالبان حکومت کو مدعو نہیں کیا گیا

 



ایس سی او اجلاس: بشکیک میں بڑے رہنماؤں کی بیٹھک، طالبان پھر مدعو نہ ہوسکے بشکیک: ویب ڈیسک شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا دو روزہ سربراہ اجلاس کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شروع ہوگیا، جہاں چین کے صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت رکن ممالک کے سربراہان شریک ہیں۔ اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب خطے کو افغانستان کی سکیورٹی، دہشت گردی، علاقائی کشیدگی، تجارت اور توانائی کے مسائل سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ (Afghanistan International) اجلاس کے پہلے روز سربراہان کی آمد اور مختلف دوطرفہ و کثیرالجہتی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ مرکزی اجلاس یکم ستمبر کو ہوگا۔ روسی صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان بھی اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ پیوٹن کی بھارتی، ایرانی اور ترک قیادت کے ساتھ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ (The New Indian Express) اجلاس میں علاقائی سلامتی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹرانسپورٹ اور علاقائی رابطوں کو بہتر بنانے کے معاملات بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔ بھارت کی جانب سے بھی سکیورٹی، رابطوں اور معاشی مواقع کو اہم ترجیحات قرار دیا گیا ہے، جبکہ ایران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز ہے۔ (Moneycontrol) طالبان ایک بار پھر اجلاس سے باہر اجلاس میں افغانستان کا معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے، تاہم طالبان حکومت کو اس بار بھی سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ افغانستان کو 2012 سے ایس سی او میں مبصر کا درجہ حاصل ہے، لیکن 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے وہ تنظیم کے کسی سالانہ سربراہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ رکن ممالک خصوصاً افغانستان کے ہمسایہ ممالک ملک میں داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ (Afghanistan International) گزشتہ ماہ ایس سی او وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی افغانستان کی صورتحال زیر بحث آئی تھی۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کو اپنے لیے سنگین سکیورٹی چیلنج قرار دیا تھا، جبکہ ایران نے دہشت گردی سے پاک اور مستحکم افغانستان کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ (Afghanistan International) شہباز شریف کی اہم شرکت وزیراعظم شہباز شریف بھی بشکیک پہنچ چکے ہیں اور اجلاس کے دوران علاقائی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ پاکستان کے لیے اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اجلاس کے اختتام پر کرغزستان سے ایس سی او کی آئندہ سال کی گردشی سربراہی پاکستان کو منتقل ہوجائے گی۔ پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی میزبانی بھی کرے گا۔ (The Nation) پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد اپنی صدارت کے دوران اقتصادی تعاون، علاقائی رابطوں، باہمی تجارت اور عوامی روابط کو آگے بڑھانے پر توجہ دے گا۔ پاکستان اس وقت ایس سی او کے علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے (SCO-RATS) کی بھی سربراہی کررہا ہے۔ (Ministry of Foreign Affairs) 25 سال مکمل، نئی سمت پر توجہ بشکیک اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہورہا ہے۔ تنظیم 2001 میں قائم ہوئی تھی اور اب اس کے 10 مستقل ارکان ہیں، جن میں چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس شامل ہیں۔ (Afghanistan International) اجلاس کے اختتام پر رہنماؤں کی جانب سے بشکیک اعلامیے کی منظوری متوقع ہے، جس میں تنظیم کے مستقبل، علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور باہمی رابطوں سے متعلق ترجیحات کا اظہار کیا جائے گا۔ اس اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور ترک صدر رجب طیب اردوان بھی شریک ہیں۔ ترکیہ ایس سی او کا مکمل رکن نہیں بلکہ مکالماتی شراکت دار ہے۔ (Afghanistan International) یوں بشکیک اجلاس ایک طرف چین، روس، بھارت، ایران اور پاکستان سمیت خطے کی بڑی طاقتوں کو ایک میز پر لا رہا ہے، تو دوسری جانب افغانستان اور دہشت گردی، مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کے تناظر میں ایس سی او کے کردار کو بھی نمایاں کررہا ہے۔ SEO پیکیج مختصر چٹپٹی سرخی: SEO ٹائٹل: ایس سی او اجلاس: بشکیک میں عالمی رہنماؤں کی بیٹھک، طالبان کو دعوت نہ ملی میٹا ڈسکرپشن: شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس بشکیک میں شروع ہوگیا، شی جن پنگ، پیوٹن، مودی اور شہباز شریف شریک، طالبان پھر اجلاس سے باہر، پاکستان کو آئندہ سربراہی ملے گی۔ English Keywords: فوٹو ٹائٹل: فوٹو کیپشن: (Afghanistan International)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل