Monday, August 31, 2026
 

ظالمو ایل نینو آ رہا ہے

 



دو ہزار چوبیس عالمی تاریخ کا گرم ترین سال قرار پایا۔مگر اگلے برس ( دو ہزار ستائیس ) ہم دو ہزار چوبیس بھی بھول جائیں گے۔ گذشتہ برس کی نسبت برصغیر میں مون سون بارشیں اس بار کم ہو رہی ہیں۔اس کمی کی شدت ہماری معیشت و خوراک پر چھ ماہ بعد ظاہر ہونا شروع ہو گی۔اندازہ ہے کہ غذائی قلت و گرانی کے سبب مزید پانچ کروڑ انسان اگلے ایک برس میں بھوک کی کگار تک پہنچ سکتے ہیں۔( بھارت نے تو ابھی سے غذائی پیداوار کی برآمد پر پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں )۔ اس اتھل پتھل کا ایک بنیادی محرک موسمیاتی تبدیلیاں تو خیر ہیں ہی البتہ جب سب سے بڑا سمندر بحرالکاہل گرم ہوتا ہے تو دھرتی پر بہت کچھ الٹا سیدھا ہونے لگتا ہے۔بحرالکاہل کی یہی گرمی ہر دو سے سات برس بعد ایل نینو لہر جنم دیتی ہے۔ مگر ایل نینو بذاتِ خود کیا بلا ہے ؟  ایل نینو بحرالکاہل میں درجہِ حرارت اور ہواؤں کے اتار چڑھاؤ کا ایک قدرتی نظام ہے جس کے اثرات سے کرہِ ارض کا موسمیاتی تسلسل متاثر ہوتا ہے۔اس دوران عموماً مشرق سے مغرب کی جانب چلنے والی تجارتی ہواؤں ( وہ ہوائیں جو پرانے دور میں تجارتی کشتیوں کے بادبانوں کو رواں رکھتی تھیں ) کا زور ایل نینو کی لہر کے سبب ایک جانب نہیں رہتا۔ گرم سمندر بہت زیادہ کاربن ڈائی اوکسائیڈ بھی جذب نہیں کر سکتا۔چنانچہ نمی اور کاربن ڈائی اوکسائیڈ کی اضافی مقدار اوپر جا کر ماحولیاتی بچاؤ کی ڈھال کو اور کمزور کرتی ہے۔ سمندری درجہِ حرارت بڑھنے کے سبب گرم پانی مغرب سے مشرق کی جانب پھیلتا ہے۔اس پانی کی گرمی بخارات کی صورت فضا میں بکھر کے عالمی درجہِ حرارت اور بارانی تسلسل پر اثرانداز ہوتی ہے۔ موجودہ لہر کو اس لیے سپر ایل نینو کہا جا رہا ہے کہ اس بار بحرالکاہل کے عمومی درجہ حرارت میں اب تک دو سنٹی گریڈ کا اضافہ ہو چکا ہے اور یہ تین سنٹی گریڈ تک بڑھ جائے تو گذشتہ پانچ سو برس کا ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے اور اگر چار سنٹی گریڈ کا اضافہ ہو جائے تو پھر ایک ہزار برس کا ریکارڈ ٹوٹنے کی نوبت آ سکتی ہے۔  پچھلے دو سو برس کے صنعتی عہد کے دوران ایل نینو کی شدت میں سینتیس فیصد تک اضافہ ہوا ہے ( آخری سپر ایل نینو انیس سو بیاسی تراسی اور ستانوے اٹھانوے میں آئے تھے )۔ انسان کی ماحولیاتی لاپرواہیوں کے سبب رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں انیس سو پچاس کے بعد سے ایل نینو کے درمیانی وقفوں میں بھی کمی آ رہی ہے۔ایل نینو اپنے ساتھ خشک سالی لاتا ہے چنانچہ جنگلاتی آتشزدگی میں اضافہ ہوتا ہے ، مون سون کی بارشوں میں کمی سے زرعی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ کہیں کہیں ( بحر اوقیانوس و کیریبین وغیرہ ) بکثرت سمندری طوفانوں کی تعداد اور شدت بھی کم ہو سکتی ہے اور کہیں غیر معمولی سیلابی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے (جیسے تبت میں گلیشیر ٹوٹنے سے نیپال میں غیر معمولی طوفانی سیلاب آیا ) آبی درجہِ حرارت بڑھنے سے سمندری حیاتیات اور اس کی خوراک کے قدرتی ذرائع ھی متاثر ہوتے ہیں۔ زیرِ آب اگنے والی گھاس سمندری حیاتیاتی خوراک کا بڑا ماخذ ہے ۔ کورل ریفس بیشتر سمندری حیات کا مسکن ہیں۔گرمی بڑھنے کے سبب ان ریفس کے مردہ ہونے کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ساحلی آبادیوں کے روزگار بالخصوص ماہی گیروں پر پر ایل نینو کا سایہ زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ ایل نینو کی براہِ راست چپیٹ میں براعظم جنوبی امریکا ، ریاستہائے متحدہ امریکا کی جنوبی ریاستیں ، بحرالکاہل کے جزائر ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک آتے ہیں۔یہ پورا خطہ کافی ، کوکا ، مکئی ، سویابین ، گنے اور چاول کی پیداوار کا مرکز کہلاتا ہے۔اگر معاشی عینک سے دیکھا جائے تو زرعی پیداوار میں ایل نینو لہر کے سبب اتار چڑھاؤ سے اجناس کی قیمتوں میں تین سے چھ فیصد اضافے ، قومی آمدنی میں اربوں ڈالر کی کمی اور رسد کے تسلسل میں گڑبڑ کے مالی اثرات پوری دنیا میں رونما ہوں گے۔( دو ہزار تئیس کی ایل نینو لہر کے دوران پانامہ کینال کے اردگرد خشک سالی کے سبب یہاں سے گذرنے والی بحری ٹریفک میں لگ بھگ پچیس سے تیس فیصد کمی دیکھی گئی اور اس برس بھی یہی کچھ دیکھنے میں آ رہا ہے )۔ امریکا کے قومی موسمیاتی ادارے کا تخمینہ ہے کہ موجودہ سپر ایل نینو سے عالمی معیشت کو کم ازکم ایک ٹریلین ڈالر کا فوری اضافی خسارہ درپیش ہے۔ لگ بھگ اکیاون ممالک میں سرمایہ کاری میں ممکنہ کمی کے سبب اگلے پانچ برس میں عالمی معیشت کو لگ بھگ ساڑھے سات ٹریلین ڈالر تک خسارہ ہو سکتا ہے۔ (انیس سو بیاسی تراسی کے سپر ایل نینو نے عالمی معیشت کو پونے چھ ٹریلین ڈالر کا نقصان پہنچایا تھا )۔ زراعت پر براہِ راست اثرات تو خیر سمجھ میں آتے ہیں لیکن آپ کو اگر یہ بتایا جائے کہ ایل نینو سے تانبا بھی مہنگا ہو سکتا ہے تو آپ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ تانبے کا موسمیاتی بدلاؤ سے کیا لینا دینا وہ تو زمین سے نکلتا ہے۔ تانبے کی سب سے بڑی عالمی سپلائی بحرالکاہل کے مشرقی ساحل پر قائم جنوبی امریکا کے ملک چلی سے آتی ہے۔تانبے کی دوسری بڑی پیداوار افریقہِ جنوب کے ملک زمبیا سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر چلی میں آیندہ مہینوں میں ایل نینو کے زیرِ اثر غیر معمولی بارشوں سے سیلابی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور زمبیا میں خشک سالی کے سبب کانکنی کو رواں رکھنے والی پن بجلی کی پیداوار شدید متاثر ہوتی ہے تو کیا اس سے کانکنی متاثر ہو گی کہ نہیں ؟ ہر ایک شے کا تعلق ہے دوسری شے سے ہوا چلی تو بکھرنے لگے خس و خاشاک ( عارف امام )   دنیا ابھی دو ہزار اکیس کے کوویڈ معاشی اثرات سے پوری طرح نہیں نکل پائی کہ اسے یوکرین روس جنگ اور ایران امریکا چپقلش درپیش ہو گئی۔اگر کوئی کسر رھ گئی تھی تو اسے پورا کرنے کے لیے سپر ایل نینو آن دھمکا۔آبنائے ہرمز بند ہونے سے دنیا کو تیل کے ساتھ ساتھ مصنوعی کھاد کی عدم ترسیل کے بحران اور ایل نینو سے پہنچنے والے ممکنہ زرعی پیداواری نقصانات کو یکجا کر کے سوچیں کہ دو ہزار ستائیس میں اجناس بالخصوص خوراک کی قیمتیں کہاں ہوں گی ؟ متعدد معاشی ماہرین نے اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اوسطاً نو فیصد تک عالمی اضافے کا تخمینہ لگایا ہے۔ قحط زدہ خطوں میں اقوامِ متحدہ کا ورلڈ فوڈ پروگرام ایک عرصے سے لائف لائن ثابت ہوتا آیا ہے۔امریکا اب تک اس پروگرام کا سب سے بڑا مددگار رہا ہے۔تاہم اس نے بھی گذشتہ برس اس امداد میں چون فیصد کی کمی کر دی ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ سو برس میں صنعتی و زرعی و فضائی آلودگی اور جنگلوں کی بے تحاشا کٹائی کے سبب عالمی درجہِ حرارت میں اوسطاً ایک اعشاریہ چار سنٹی گریڈ تک اضافہ ہو چکا ہے۔ایل نینو کے سبب سمندری درجہِ حرارت میں عارضی اضافہ مرے پہ سوواں درا جانیے ۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل