Loading
قومی سیاست کا نظام الجھاؤ اور ٹکراؤ کا شکار ہے۔ سیاسی اختلافات نے بڑھتے بڑھتے سیاسی دشمنی کی شکل اختیار کرلی ہے جو ٹکراؤ کی سیاست کو اور زیادہ نمایاں کرتے ہیں۔اتفاق رائے اور مفاہمت کی سیاست پر بات کرناآسان مگر اس پر عملدرآمد عملی طور پر مشکل ہوتا ہے کیونکہ ٹکراؤ کی سیاست سے بچنے کے لیے سب کو ایک دوسرے کو سیاسی راستہ دینے سمیت قبولیت کی سیاست کو پیدا کرنا ہوتا ہے مگر اس کے لیے ہماری مجموعی سیاست اور قیادت تیار نہیں۔اس سوچ اور فکر کی بنیاد پر ہمارا حکمرانی کا نظام بھی اپنی اہمیت و ساکھ کھورہا ہے لیکن شاید ہمارا حکومتی نظام ماضی اور حال کی غلطیوں سے کچھ بھی سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔اگر ایسا ہے تو کیا ہم اس نظام کی اصلاح کرسکیںگے، یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہمیں ہمیشہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔
کیا یہ پاکستان کی سیاست کا مستقبل ہے کہ ہم نے ہمیشہ ٹکراؤ کی سیاست میں ہی الجھا رہنا ہے اور اس الجھاؤ کی وجہ سے ہم اپنی سیاست،جمہوریت اور معیشت کو متاثر کررہے ہیں۔جب ہم جان بوجھ کر سیاست کے دروازے ایک دوسرے کے لیے بند کر رہے ہیں تو اس کا مطلب تو واضح ہے کہ ہم سیاست اور جمہوریت کی اصلاح نہیں چاہتے۔اس میں بڑا کام ان ہی کا ہوتا ہے جن کے پاس طاقت اور اختیار ہوتا ہے وہ ہی مفاہمت کی سیاست میں کسی کو کچھ دے سکتے ہیں۔حکومت اور حزب اختلاف دونوں ہی کے مفاہمت کے رویوں کی بنیاد پر سیاسی گنجائش پیدا ہوتی ہے اور دو طرفہ بات چیت کا عمل آگے بڑھتا ہے۔
جب یہ منطق اور دلیل دی جائے کہ کسی مخالف کے لیے کسی بھی سطح پر کوئی ڈھیل یا ڈیل کا کوئی امکان نہیں یا صفر بٹا صفرہے تو پھر کھیل ختم ہوجاتا ہے ۔مسئلہ کسی ڈیل یا ڈھیل کا نہیں بلکہ سیاسی اور قومی سطح کے حساس معاملات میں اتفاق کو پیدا کرکے آگے بڑھنا ہوتا ہے۔سیاست میں سیاسی اختلافات کو دشمنی کی اس نہج پر نہ پہنچایا جائے کہ سیاست اور جمہوریت میں سب کچھ ختم ہوجائے۔اگر یہ ہی حکومتی اور حزب مخالف کی پالیسی رہے تو پھر سیاسی مخالفین کا ایک دوسرے کے خلاف ردعمل کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ بات اب پی ٹی آئی تک ہی محدود نہیں بلکہ جے یو آئی اور پیپلزپارٹی بھی متحدہ حزب اختلاف کی طرف جا رہی ہے جو سیاست کو مزید تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔
ہم نے سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو ریلیف دینے کے فیصلہ پر حکومتی طرز عمل بھی دیکھا۔ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل کی سیاست بھی ٹکراؤ کی جانب بڑھ رہی ہے۔اصل میں سیاست میں اقتدار میں شامل قوتوں کی جانب سے طاقت کا کھیل مکافات عمل کا کھیل بھی ہوتا ہے۔ حکمران جو کچھ آج کر رہے ہوتے ہیںکل اقتدار سے باہر آکر ان کا سامنا ان کو بھی کرنا پڑتا ہے مگر ہمارے سیاست دان ماضی کی غلطیوں سے کچھ بھی سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔آپ ڈیل اور ڈھیل سے باہر نکلیں عدالتوں کو آزادانہ بنیادوں پر قانون کے مطابق فیصلے کرنے دیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک طرف بلوچستان کے معاملات پر گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت دی اور اس سے ایک دن پہلے قومی سطح پر پھر حزب اختلاف کو قومی مسائل پر مذاکرات کی دعوت دی ۔ مذاکرات کی دعوت خوش آئند ہے، حزب اختلاف کو بھی مذاکرات کے لیے قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ایک طرف مذاکرات کی دعوت دی جاتی ہے تو دوسری طرف طاقت کا استعمال ہوتا ہے تو ایسے میں مذاکرات کی بات آگے کیسے بڑھے گی۔
جب تک حکومت مفاہمت کی سیاست نہیں کرے گی۔مذاکرات بھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں دے سکیں گے۔مذاکرات اور مفاہمت کی بات چیت حکومتی اور حزب اختلاف ہر دو سطح پر سیاسی تقریروںاور بیان بازی سے باہرنکل کر عملی اقدامات سے جڑی نظر آنی چاہیے۔پی ٹی آئی نے27ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔امکان یہ تھا کہ عمران کو عدالتی ریلیف کے بعد یہ لانگ مارچ ملتوی ہوسکتا ہے۔مگر اب پی ٹی آئی لانگ مارچ پر توجہ دے گی جو دوبارہ محاذ آرائی کی سیاست کو نمایاں کرے گا۔ اصل میں ہم یہ بھول رہے ہیں کہ مفاہمت پر مبنی سیاست ہماری قومی سیاسی مجبوری بن کر رہ گئی ہے۔
ہم سیاسی،جمہوری،قانونی،آئینی،دہشت گردی اور معاشی معاملات میں داخلی اور علاقائی سطح پر الجھ کر رہ گئے ہیں اور مسائل کی موجودگی میں ہم کسی بھی طور پر آگے نہیں بڑھ سکیںگے۔داخلی معاملات کو ہمیں سیاسی لڑائی سے اوپر اٹھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے اور یہ سوچ ہمیں قومی مسائل کا حل دے سکتی ہے۔سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت اہم ہیں مگر ان کو موجودہ حالات میں اپنی ذاتی رنجشوں سے باہر نکل کر ملک کے مفاد میں فیصلے کرنے ہوں گے۔
کیونکہ پہلے ہی سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کی کمزوری نے قومی سطح پر سیاسی اور جمہوری عمل کو کمزور کردیا ہے اور ہماری داخلی کمزوریوں نے ہمیں بہت سے معاملات پر سیاسی اور معاشی طور پر مسائل کا شکار کردیا ہے۔اس کا علاج مزید محاذآرائی کی صورت میں ممکن نہیں بلکہ کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو سماج کے بگڑے نظام میں نئی امیدوں کو پیدا کرسکے تاکہ ہم آگے کی طرف بڑھ سکیں۔ہمارا بحران ہم سے بڑے تقاضوں کی امید کررہا ہے جب کہ ہم ذاتی یا جماعتی مسائل میں الجھے ہوئے ہیںجو عملاً ہمارے مسائل میں نئے اضافے پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
اسی طرح حزب اختلاف کی جماعتوں اور بالخصوص پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی سمجھنا ہوگا کہ مسائل کا حل ٹکراؤ کی صورت میں ممکن نہیںاورانھیں بھی ٹکراؤ کے مقابلے میں مفاہمت کے راستے تلاش کرنے ہونگے اور یہ تاثر ختم کرنا ہوگا کہ پی ٹی آئی محاذ آرائی کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی تقسیم جس میں اختلافات بڑھ گئے ہیں اس کو ہر صورت ختم کرنا ہوگا کیونکہ اس تقسیم کی بنیاد پر سیاست اور معیشت درست نہیں ہوسکتی۔سیاست میں جو لوگ حکمرانی کے نظام سے نالاں ہیں ان سے بات چیت کا راستہ تلاش کرنا اور اسے مستحکم کرنا ہی حکمرانی کے نظام کی بڑی کامیابی ہے۔اگر ہم نے ان کو محض طاقت کی بنیاد پر نمٹنے کی حکمت عملی بنائی تو اس سے مسائل اور زیادہ بگاڑ کا شکار ہونگے۔
ایسی صورتحال سے پھر وہ علاقائی ممالک جو ہمیں کمزور کرنا چاہتے ہیں وہ ہماری داخلی صورتحال کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ہمیں مزید غیر مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے۔اس لیے ان علاقائی کوششوں کو جو ہمیں غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں ان کو روکنا بھی ہماری ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔بالخصوص معاشی ترقی کے ایجنڈے پر ہماری مشترکہ کوشش ہمیں معیشت کے بحران سے باہر نکلنے میں مدد کرسکتی ہیں۔ یہ جو ایک دوسرے پر سیاسی سبقت بازی یا مقابلہ بازی یا خود کو فتح اور شکست کی بنیاد پر دیکھنے سے مسائل اور زیادہ الجھ کر رہ جائیں گے۔
قومی سطح پر ٹکراؤ کی سیاست کو روکنا کسی ایک فریق کی ذمے داری نہیں بلکہ اس میں تمام سیاسی اور غیرسیاسی کرداروں کو اپنا اپنا کردار ادا کرکے ایک دوسرے کے لیے سیاسی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ایک نیشنل ایجنڈا ترتیب دینا ہوگا جس میں سیاسی اور جمہوری عمل کی مضبوطی اور آئین و قانون کی حکمرانی،منصفانہ اور شفاف انتخابات،بااختیار الیکشن کمیشن،غیر جانبدار احتساب کا نظام،پارلیمانی نظام کو مضبوط کرنا، سیاسی انتقام کا خاتمہ جیسے امر کو سیاسی ترجیحات کا حصہ بنانا ہوگا کیونکہ یہ وہ داخلی مسائل ہیں جن کا علاج ہمیں مشترکہ حکمت عملی کے تحت تلاش کرنا ہے تاکہ ہم خود کو قومی بحران کی دلدل سے باہر نکال سکیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس ٹکراؤ کی سیاست سے بچنے کے لیے مجموعی طورپر ہمارا حکومتی نظام اورتمام سیاسی جماعتیں اس کے لیے تیار ہیں یا پھر سب کے نزدیک ان کے اپنے اپنے ایجنڈے کو فوقیت حاصل ہے۔
مسئلہ یہ بھی ہے کہ ریاست اور حکومتی نظام پر دباو پیدا کرنے والی قوتیں بھی کمزور ہوگئی ہیںجس سے ریاست اور حکومت کا ایجنڈا بھی مسائل کے حل سے زیادہ اپنی مرضی کے ایجنڈے کو بالادست دیکھنا چاہتا ہے۔ایسی کیفیت میں کہاں سے مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا اور کیسے مفاہمت کی عملی بات کو آگے بڑھایا جائے۔اس وقت تو سب سے بڑا بحران سازگار حالات کا نہ ہونا ہے جہاں سیاسی لوگ یا حزب اقتدار اور حزب اختلاف ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کے لیے ہی تیار نہ ہوں یا ایک دوسرے پر اعتماد ہی نہ کرتے ہوں تو ایسے میں بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا۔بدقسمتی سے ہم سب کسی نہ کسی شکل میں موجودہ حالات کے کم یا زیادہ ذمے دار ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل