Loading
انسانی حقوق، خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم قومی و صوبائی کمیشنز میں چیئرپرسنز اور ارکان کی تقرریوں میں تاخیر نے ان اداروں کی خودمختاری، مؤثر کارکردگی اور پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق ذمہ داریوں سے متعلق سوالات پیدا کردیے ہیں۔
نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) کے سابق کمیشن کی 4 سالہ مدت نومبر 2025 میں مکمل ہونے کے بعد تاحال نئی مکمل تشکیل نہیں ہوسکی، جبکہ نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو) مستقل چیئرپرسن کے بجائے قائم مقام سربراہ کے ذریعے چل رہا ہے۔
این سی ایچ آرکی سابق چیئرپرسن خاور ممتاز نے کہا ہے کہ حکومتیں انسانی حقوق اور خواتین کمیشنز کی بروقت تشکیل اور انہیں بااختیار بنانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہیں۔ چیئرپرسن کی مدت مکمل ہونے سے قبل نئے تقرر کا عمل مکمل ہونا چاہیے تاکہ ادارہ جاتی خلا پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ مستقل سربراہ کے بجائے بار بار عارضی انتظام سے کمیشنز کی خودمختاری اور اثرانگیزی متاثر ہوتی ہے۔
نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس ایکٹ میں 2026 کی ترمیم کے ذریعے دفعہ 4 اے شامل کی گئی، جس کے تحت چیئرپرسن مدت مکمل ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ 120 روز یا نئے چیئرپرسن کی تقرری تک، جو پہلے ہو، عہدے پر برقرار رہ سکتا ہے۔ سابق کمیشن کی مدت نومبر 2025 میں ختم ہونے کے بعد یہ عبوری مدت بھی گزر چکی ہے، جس کے بعد کمیشن کی قانونی اور عملی حیثیت سے متعلق وضاحت اہم ہوگئی ہے۔
این سی ایچ آر کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا نے کہا کہ کمیشن نے 2 سال قبل اضافی عملہ بھرتی کیا تھا اور اس وقت کمیشن کے پاس مناسب افرادی قوت موجود ہے، جس کے باعث ادارہ بہتر انداز میں کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ این سی ایچ آر کے چیئرپرسن کی مدت ملازمت میں توسیع قانون کے مطابق اور دنیا بھر میں دیگر قومی کمیشنز میں رائج طریقہ کار کی روشنی میں کی گئی۔ نئے کمیشن کے قیام سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا اختیار ہے اور اس بارے میں سوال حکومت سے کیا جانا چاہیے۔
انسانی حقوق کے کارکن اور سینٹر فار سوشل جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب کے مطابق نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس کا قانون دسمبر 2025 میں پارلیمنٹ سے منظور ہوچکا ہے، تاہم کمیشن کی چیئرپرسن اور ارکان کی تقرری کا عمل تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ریکارڈ کے مطابق متعلقہ قانون 16 دسمبر 2025 کو منظور ہوا۔
نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ میں بھی بعض صوبوں اور اسلام آباد کی نمائندگی مکمل نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم وزارتِ انسانی حقوق نے جولائی 2026 میں پنجاب، اسلام آباد اور بلوچستان کے ارکان کی تقرری کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں۔
صوبائی سطح پر پنجاب کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن کی نشست 2019 سے خالی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے جون 2026 میں حکومت پنجاب کو 45 روز میں تقرری مکمل کرنے کا حکم دیا، جبکہ کمیشن کی اپنی ویب سائٹ پر چیئرپرسن اور متعدد ارکان کی نشستیں تاحال خالی ظاہر کی گئی ہیں۔
دوسری جانب حکومت انسانی حقوق کے شعبے میں نیشنل ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 سمیت مختلف اقدامات کا اعلان کرچکی ہے، جبکہ وزارتِ انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی انسانی حقوق معاہدوں پر عملدرآمد اور قومی اداروں کی استعداد بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
سول سوسائٹی کے نمائندے اور وکیل عبداللہ ملک کہتے ہیں کمیشنز کی نامکمل تشکیل سے اقوام متحدہ کے معاہدوں، انسانی حقوق کے جائزوں، خواتین اور بچوں سے متعلق عالمی وعدوں اور پائیدار ترقی کے اہداف پر پاکستان کی پیش رفت کی آزاد نگرانی، رپورٹنگ اور سفارشات متاثر ہوسکتی ہیں۔
این سی ایچ آر کو گلوبل الائنس آف نیشنل ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوشن (جی اے این ایچ آرآئی ) کی اے اسٹیٹس ایکریڈیٹیشن حاصل ہے، اس لیے اس کی خودمختاری اور مؤثر فعالیت پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے بھی اہم ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل