Loading
پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل میں گزشتہ دو سال سے التوا کا شکار 50 فیصد اداروں کی رجسٹریشن پر کام جاری ہے، جبکہ انسٹی ٹیوٹس کی رجسٹریشن کے لیے تھرڈ پارٹی انسپکشن وزٹس روزانہ کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔
رجسٹریشن کے عمل کو شفاف بنانے اور معیار برقرار رکھنے کے لیے تمام انسپکشن ٹیموں کو میرٹ اور زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
وزارت صحت کے ذمہ دار افسر نے ’ایکسپریس‘ کو بتایا کہ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کی جانب سے نرسنگ کونسل کے خلاف شکایات کا سختی سے نوٹس لیے جانے کے بعد ہنگامی بنیادوں پر اداروں کی رجسٹریشن اور انسپکشنز کے زیرالتوا کیسز کا جائزہ لیا گیا۔ چار سو سے زائد کالجز کی رجسٹریشن اور انسپکشنز کے کیسز گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے ’اعتراضات‘ کے نام پر التوا میں رکھے گئے تھے۔
وزارت صحت نے ایسے تمام کیسز فوری طور پر کلیئر کرنے کی ہدایات دیں جن کی انسپکشنز مکمل ہو چکی تھیں، جبکہ باقی ماندہ اداروں کی رجسٹریشن کا عمل پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کی ایپ کے ذریعے شروع کیا گیا ہے۔ اداروں کی رجسٹریشن کا مکمل عمل شفاف بنانے کے لیے انہیں پی این ایم سی کے آن لائن پورٹل تک رسائی بھی دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پی این ایم سی کی ایپ پہلے سے موجود تھی، تاہم بعض عناصر کی جانب سے فائلز کو ’اعتراضات‘ کے نام پر روکنے کے لیے اسے مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کیا جا رہا تھا۔ موجودہ کونسل نے کسی اضافی اخراجات کے بغیر اسی ایپ کو فعال کرتے ہوئے اداروں کے لیے شفاف رجسٹریشن اور نرسز کے لیے سہولیات کی فراہمی پر کام شروع کر دیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ زیرالتوا چار سو سے زائد اداروں میں سے تقریباً 50 فیصد کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے، جبکہ باقی اداروں کی فائلوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ نامکمل یا ضروری دستاویزات کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔
انسپکشن وزٹس کو شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کونسل نے تمام انسپکشن ٹیموں کو زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت صحت کے ذمہ دار افسر کے مطابق تمام اداروں کو آئندہ سال تک مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اداروں کو ایپ کا لاگ اِن اور پاس ورڈ بھی فراہم کیا جائے گا، جس کے ذریعے وہ اپنا ریکارڈ ٹریس کرنے کے ساتھ کونسل کا دورہ کیے بغیر مسائل کے حل کے لیے درخواست دے سکیں گے۔
ذرائع کے مطابق نرسز کی انٹری اور کارڈ رینیول کا عمل بھی جلد مکمل طور پر پیپر لیس کر دیا جائے گا، جبکہ یونیورسٹی ویری فکیشن کے مرحلے کو بھی ڈیجیٹل بنانے پر کام جاری ہے۔
رواں ماہ مزید اداروں کی رجسٹریشن کی منظوری کے لیے پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کا اہم اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے، جس میں زیرالتوا اداروں کی رجسٹریشن کی حتمی منظوری دی جائے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل