Loading
واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے کہا ہے کہ اگر 50 میگاواٹ بجلی مل جائے تو کے فور منصوبے کا فیز ون دسمبر تک مکمل کردیں گے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی آبی وسائل کا اجلاس احمد عتیق انورکی زیرصدارت ہوا جہاں چیئرمین واپڈا نے آگاہ کیا کہ ہمیں50 میگاواٹ بجلی مل جائے تو دسمبر2026 تک کے فور منصوبے کا فیزون مکمل کرلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبے کے لیے فنڈز کی قلت ہے تاہم وزارت خزانہ اور وزیراعطم نے فنڈزکی یقین دہانی کرائی ہے۔
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں کے فور کے لیے 10 ارب رکھے گئے ہیں، ہمارا مطالبہ تھا کے فور کے لیے پی ایس ڈی پی میں 40 ارب رکھے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بتایا جائے کے فور کے لیے فنڈز ملنا یقینی ہے، کراچی کے عوام پوچھتے ہیں کے فور کب مکمل ہوگا۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رکن امین الحق نے کہا کہ 2014 سے 2026 تک کے فور منصوبہ مکمل نہیں ہوا، اس صورت حال میں چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے، جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ منصوبے کے ماضی کے 10 سال کو لیا جائے تو اس پر الگ تحقیقات درکار ہوگی۔
رکن کمیٹی حنیف خان نے کہا کہ کراچی میں روزانہ 10 کروڑ روپے کا پانی ٹینکرز سے فروخت ہوتا ہے، سید وسیم نے کہا کہ کے فور منصوبے کو بہتر بنانے کے لیے ذیلی کمیٹی بنائی جائے اور کراچی کے عوام کو پانی کی فراہمی پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور سندھ کے محکمہ آب پاشی کے حکام نے بتایا کہ کراچی کی پانی کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی آبی وسائل کی جانب سے کے فور منصوبے کی تعمیر سے پانی کی ترسیل کے معاملات پر ذیلی کمیٹی بنا دی گئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل