Loading
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ میں فوجی پوزیشنز کا دورہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیل موجودہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اپنی موجودہ لائن سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور حماس کو غیر مسلح کرنے تک فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کے ہمراہ چیف آف اسٹاف ایال زامیر، سدرن کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل یانیو عَشور اور ڈویژن 99 کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ایلیڈ تزوری بھی موجود تھے۔
اسرائیلی نیتن یاہو نے یلو لائن کے قریب گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کی تقریباً 60 فیصد پٹی کو کنٹرول کرتی ہے۔ ہم یہاں کے علاقے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ہم پیچھے نہیں ہٹ رہے ہم اسی لائن پر موجود رہیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حماس کا نام لیے بغیر کہا کہ غزہ میں ہماری گرفت مزید مضبوط ہوگی کیونکہ ہم ان جنگجوؤں کو ختم کر رہے ہیں جو ہمیں مسلسل دھمکاتے ہیں۔ ہم یہ کارروائی بار بار کر رہے ہیں۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم نے ایک روز قبل کی کارروائی کا بھی حوالہ دیا جس میں اسرائیلی فوج کے بقول حماس کے داخلی سیکیورٹی نظام کے سربراہ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ہم اس سے بہت سی چیزیں جان سکیں گے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی بنیادی جنگی ترجیحات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہم اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کو غیر فوجی بنانا ہمارا مقصد ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ اب اسرائیل کے لیے مزید خطرہ نہیں بنے گا۔ یہ ہدف بڑی حد تک حاصل ہو چکا ہے لیکن ابھی مزید کام مکمل کرنا باقی ہے اور ہم اسے جلد ہی مکمل کریں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کے تحت اسرائیلی فوج اور حماس کے زیرِ اثر علاقوں کے درمیان ’یلو لائن‘ قائم ہے۔
یاد رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقے کو ’یلو لائن‘ کے ذریعے حماس کے زیرِ اثر علاقے سے الگ کیا گیا تھا۔
مئی 2026 میں نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو غزہ کے مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کی ہدایت بھی دی تھی، جبکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے یلو لائن کے آگے اپنی موجودگی بڑھانے کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل