Wednesday, September 02, 2026
 

ایس سی او میں پاکستان کا پیغام

 



وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں یہ کہنا کہ پانی آیندہ نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے اور اسے سیاسی دباؤ کے ہتھیار میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ پاکستان کے موجودہ اور آنے والے بحرانوں کی طرف ایک نہایت اہم اشارہ ہے۔ اس بیان کو اگر صرف ایک علاقائی تنازع کے تناظر میں پڑھا جائے تو اس کی معنویت محدود ہوجاتی ہے، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ پانی اب محض زراعت، آب پاشی یا موسم کا مسئلہ نہیں رہا، یہ قومی سلامتی، اقتصادی بقا، انسانی وقار اور ریاستوں کے درمیان اعتماد کا سوال بن چکا ہے۔پانی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کا تصور پاکستان کے لیے غیر معمولی حساسیت رکھتا ہے، اگر کسی مشترکہ آبی نظام کو باہمی معاہدوں، بین الاقوامی اصولوں اور طے شدہ ذمے داریوں کے بجائے سیاسی کشمکش کا ذریعہ بنا دیا جائے تو اس کا نقصان صرف ایک ملک کو نہیں پہنچتا، پورے خطے میں عدم اعتماد کی ایسی فضا پیدا ہوتی ہے ۔ پاکستان کو اپنی موجودہ چیئرمین شپ کو اسی زاویے سے دیکھنا چاہیے۔ سی پیک کو بحیرہ عرب سے علاقائی معیشتوں کو جوڑنے کا کلیدی منصوبہ قرار دینا بجا ہے، مگر معاشی راہداری کو سڑکوں اور بندرگاہوں کے ساتھ توانائی، پانی، ڈیجیٹل رابطے، امن اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر خطے میں پانی کا عدم تحفظ بڑھتا رہا تو معاشی رابطہ کاری کے بڑے منصوبے بھی خطرات سے دوچار ہوں گے۔ چنانچہ سی پیک اور ایس سی او کو الگ الگ خانوں میں رکھنے کے بجائے ایک وسیع علاقائی معاشی حکمت عملی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔پانی کو اگر طاقت کی سیاست میں شامل کردیا جائے تو مسئلہ محض دریاؤں کے بہاؤ کا نہیں رہتا، ریاستوں کے درمیان اعتماد کی آخری بنیاد بھی متزلزل ہوجاتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ اسی حقیقت کا تاریخی ثبوت ہے۔ 1960 میں طے پانے والا یہ معاہدہ شدید سیاسی دشمنی، جنگوں اور مسلسل کشیدگی کے باوجود قائم رہا۔ عالمی بینک کے مطابق یہ معاہدہ نو برس کی بات چیت کے بعد وجود میں آیا اور اس نے دونوں ملکوں کے درمیان دریائی پانی کے استعمال کے لیے ایک باقاعدہ نظام قائم کیا۔ مغربی دریاؤں، یعنی سندھ، جہلم اور چناب، کے پانی کے استعمال میں پاکستان کو بنیادی حق دیا گیا، جب کہ مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کے پانی بھارت کے لیے مختص کیے گئے، ساتھ ہی مخصوص شرائط کے تحت دونوں ملکوں کے استعمال کے حقوق بھی طے کیے گئے۔ یہی معاہدہ آج پھر پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مرکز میں آگیا ہے۔ بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل رکھنے کے اعلان کے بعد آبی مسئلہ ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوا۔ تازہ ترین طور پر 31 اگست 2026 کو ہیگ کے ثالثی پینل نے قرار دیا کہ بھارت معاہدے کی پابندی سے یک طرفہ طور پر الگ نہیں ہوسکتا اور بعض منصوبوں پر تعمیراتی سرگرمیوں کو بھی محدود کیا۔ بھارت نے اس فیصلے کے اختیار اور حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس صورت حال میں وزیراعظم کا ایس سی او جیسے کثیر ملکی پلیٹ فارم سے پانی کو سیاسی ہتھیار نہ بنانے کا مطالبہ پاکستان کے لیے محض اخلاقی اپیل نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی حکمت عملی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم اب محض چند ممالک کا سفارتی اجتماع نہیں رہی۔ پچیس برس کے سفر میں یہ ایک ایسے کثیر ملکی پلیٹ فارم کی صورت اختیار کرچکی ہے جو ایشیا کے ایک وسیع جغرافیے، مختلف سیاسی نظاموں، بڑی معیشتوں اور اہم سلامتی کے مفادات کو ایک میز پر لاتا ہے۔ چین، روس، وسطی ایشیائی ریاستوں، پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کی موجودگی اسے ایسے معاملات پر گفتگو کا منفرد موقع فراہم کرتی ہے جو کسی ایک دوطرفہ فورم میں پوری طرح زیر ِ بحث نہیں آسکتے۔ایس سی او کی اصل افادیت شاید یہی ہے کہ یہ مختلف مفادات رکھنے والی ریاستوں کو کم از کم مکالمے کی ایک مستقل جگہ فراہم کرتی ہے۔ دہشت گردی، علاقائی سلامتی، تجارت، توانائی، رابطہ کاری، ٹیکنالوجی اور معاشی تعاون ایسے موضوعات ہیں جن پر مشترکہ مفادات تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے اس تنظیم کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور بحیرہ عرب کے درمیان ایک جغرافیائی پل کی حیثیت رکھتا ہے، اگر اس جغرافیے کو محض نقشے پر ایک مقام سمجھنے کے بجائے معاشی رابطے میں تبدیل کیا جائے تو پاکستان خطے کی تجارت، توانائی اور ترسیل کے نظام میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ وزیراعظم نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کو اقتصادی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دے کر بھی ایک اہم حقیقت کی نشاندہی کی ہے۔ اس خطے میں غربت، بے روزگاری، کمزور تجارتی روابط اور محدود علاقائی تجارت کے باوجود جنگی اور سیاسی کشیدگی پر بے تحاشا توانائی صرف ہوتی ہے۔ جب ریاستیں ایک دوسرے کو معاشی شراکت دار کے بجائے مستقل سیکیورٹی خطرہ سمجھنے لگیں تو ترقی کے دروازے خود بخود تنگ ہوجاتے ہیں۔ پانی اس کشیدگی میں مزید اضافہ کرسکتا ہے، مگر دانش مندانہ سیاست اسے تعاون کی بنیاد بھی بنا سکتی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں بھاری انسانی اور معاشی قیمت ادا کی ہے۔ افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ اسی وسیع تر علاقائی سلامتی کے تصور کا حصہ ہے۔ ایس سی او کے رکن ممالک کے لیے یہ ایک مشترکہ مفاد ہوسکتا ہے کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور سرحد پار جرائم کے خلاف تعاون کو محض بیانات کے بجائے موثر معلوماتی، انتظامی اور معاشی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے، کیونکہ کسی بھی علاقائی اقتصادی منصوبے کی کامیابی کے لیے امن بنیادی شرط ہے۔اسی طرح غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی المیے پر پاکستان کا موقف بھی اس امر کی یاد دہانی ہے کہ علاقائی تنظیموں کی اہمیت صرف معاشی مفادات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور حق خود ارادیت جیسے اصول عالمی نظام کی بنیاد ہیں۔ پاکستان اگر ایس سی او میں ایک ذمے دار رکن کے طور پر اپنی شناخت مضبوط کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے موقف کو جذباتی ردِعمل کے بجائے مستقل اصولی سفارت کاری میں ڈھالنا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی نے جنوبی ایشیا کے آبی مستقبل کو پہلے سے زیادہ غیر یقینی بنا دیا ہے۔ کبھی غیر معمولی بارشیں تباہ کن سیلاب پیدا کرتی ہیں اور کبھی طویل خشک سالی پانی کے ذخائر اور زرعی پیداوار کو متاثر کرتی ہے۔ گلیشیئرز کے پگھلنے کے رجحانات، درجہ حرارت میں اضافہ اور بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز نے اس خطے کے روایتی آبی حساب کتاب کو پیچیدہ کردیا ہے۔ چنانچہ آنے والے برسوں میں پانی کے مسئلے کو صرف دو ممالک کے درمیان کسی دریا کے بہاؤ کی بحث تک محدود رکھنا دانش مندی نہیں ہوگی۔ یہ پورے خطے کے مشترکہ ماحولیاتی مستقبل کا سوال بن چکا ہے۔اس لیے وزیراعظم کا پانی کے بارے میں دیا گیا پیغام دراصل پاکستان کی آیندہ ریاستی حکمت عملی کے لیے ایک وسیع تر سوال اٹھاتا ہے۔کیا ہم پانی کو بحران آنے کے بعد یاد کریں گے یا بحران آنے سے پہلے قومی ترجیح بنائیں گے؟ اگر پانی واقعی آیندہ نسلوں کی ضمانت ہے تو پھر اس کی منصوبہ بندی بھی نسلوں کے پیمانے پر ہونی چاہیے۔ صوبائی مفادات، سیاسی ترجیحات اور قلیل المدت منصوبوں سے اوپر اٹھ کر ایک ایسا قومی آبی معاہدہ درکار ہے جس میں ذخائر، آب پاشی، شہروں، صنعت، ماحولیات، زیر زمین پانی اور بین الصوبائی اعتماد سب کو جگہ ملے۔شنگھائی تعاون تنظیم پاکستان کو اس سلسلے میں ایک اہم سفارتی میدان فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کو اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے یہ تصور آگے بڑھانا چاہیے کہ ایشیا کی اگلی بڑی جنگ پانی پر نہیں، پانی کے بہتر انتظام کے لیے مشترکہ جدوجہد ہونی چاہیے۔ دریا سرحدوں کو نہیں مانتے، ان کے بہاؤ کو سیاسی نقشے تقسیم تو کرسکتے ہیں، مگر قدرتی نظام کو نہیں، اگر ریاستیں اس حقیقت کو سمجھ لیں تو پانی تنازع کی لکیر بننے کے بجائے تعاون کی لکیر بن سکتا ہے۔پاکستان کے لیے اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے کسی سربراہی اجلاس میں ایک موثر تقریر کردی، اصل کامیابی تب ہوگی جب اس تقریر کا ایک ایک اصول پالیسی میں تبدیل ہو۔ پانی کے عالمی اور علاقائی قانون کی پاسداری کا مطالبہ، داخلی آبی اصلاحات، علاقائی امن کی خواہش، معاشی رابطہ کاری، ایس سی او کی رکنیت، عملی منصوبوں اور مستقبل کی معیشت کا خواب، تعلیم و تحقیق کی مضبوط بنیاد،یہ سب ایک ہی قومی حکمت عملی کے مختلف حصے ہونے چاہئیں۔ آخرکار پانی کسی حکومت، جماعت یا سرحد کا نہیں، یہ زندگی کا ہے۔ اسے دباؤ، انتقام یا سیاسی سودے بازی کا ذریعہ بنانا صرف موجودہ نسلوں کے درمیان کشمکش کو بڑھانا نہیں، آنے والی نسلوں کے حق حیات سے بھی کھیلنا ہے۔ پاکستان کو اس مسئلے پر اپنی آواز بلند رکھنے کے ساتھ اپنے گھر کے اندر بھی پانی کی حفاظت کا عہد کرنا ہوگا، کیونکہ مستقبل کا پاکستان شاید اس بات سے کم متعین ہوگا کہ ہمارے پاس کتنی زمین ہے اور اس بات سے زیادہ کہ ہمارے پاس اسے آباد رکھنے کے لیے کتنا پانی باقی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وزیراعظم کا پیغام ایک سفارتی بیان سے آگے بڑھ کر قومی ذمے داری بن جاتا ہے، پانی کو جنگ کا وسیلہ نہیں، زندگی کا مشترکہ معاہدہ بنانا ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل