Loading
مدینے کی تاریک اور سنسان راتوں میں جب پورا شہر گہری نیند کی آغوش میں چلا جاتا تو خلیفہ ثانی امیر المومنین سیدنا فاروقِ اعظم ؓ جن کے نام سے قیصر و کسریٰ کے ایوان کانپ اٹھتے تھے، پھٹے پرانے کپڑوں میں تنہا گلیوں کا گشت کر رہے ہوتے تھے۔ ان کی آنکھوں سے نیند اڑ چکی ہوتی تھی اور دل خوفِ الٰہی کے سمندر میں غوطہ زن ان کے وجود کو جھنجھوڑ تا رہتا تھا۔ ان کے کانوں میں ہر لمحہ یہی خوفناک صدا گونجتی تھی کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی آوارہ کتا بھی بھوکا مر گیا یا کسی جانور کا پاؤں بھی راستے کے گڈھے میں پھسل گیا تو روز محشر اللہ کے سامنے بحیثیت امیر المومنین حساب دینا پڑے گا۔ یہ ایک سچے اسلامی حکمران کی احساسِ ذمے داری اور خوفِ خدا کی وہ عظیم مثال تھی جس کی نظیر تاریخِ انسانیت پیش کرنے سے قاصر ہے لیکن اس کے برعکس کلمہ طیبہ کے نام پر قائم ہونے والی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عشق رسول اللہ کے دعویداروں کا انداز حکمرانی خوفِ خدا اور احساسِ زیاں سے بالکل عاری نظر آتا ہے، لگتا ہے کہ احساس جوابدہی نذر آتش ہوچکا ہے۔
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز میں رونما ہونے والا دلخراش سانحہ ہماری ریاست کے شل اور سنگدل نظام کی دردناک تصویر ہے۔ 12 ربیع الاول کی مبارک صبح جب پورے ملک میں ہر کوئی رحمت اللعالمین ﷺ کی آمد کی خوشیاں اپنے اپنے انداز میں منا رہا تھا اس وقت پمز کے نرسری وارڈ میں اچانک لگنے والی آگ نے 14 معصوم، بے گناہ نومولود بچوں کو ماں کی گود میں جانے سے پہلے ہی جلا کر راکھ کر دیا۔ یہ محض ایک ناگہانی حادثہ نہیں تھا بلکہ حکمرانوں اور اعلیٰ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت، بے حسی اور نالائقی کا وہ المیہ تھا جس نے پوری قوم کی روح کو زخمی کر دیا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وزیر صحت استعفا دے کرسب ذمے داران کو احتساب کے لیے پیش کرتا مگر۔۔۔
اگر ایوانِ صدر، وزیر اعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ ہاؤس سے محض چند سو گز کے فاصلے پر واقع اس اسپتال کا یہ حال ہے تو ملک کے دیگر دور دراز اور دیہی علاقوں کے اسپتالوں کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ عوام جب اپنے پیاروں کے علاج کے لیے ان سرکاری اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں تو انھیں اکثر ناقص سہولیات اور تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مناظر اور حکمرانوں کے ترش و متکبرانہ جملے اس بات کے گواہ ہیں کہ غریب شہریوں کی فریاد کو کس بے دردی سے رد کر دیا جاتا ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ایک ویڈیو کا کلپ وائرل ہو گیا جس میں ایک مظلوم بیٹا اپنے باپ اور اس کی روتی ہوئی ماں اپنے شوہر کے سرکاری اسپتال میں غیر تسلی بخش علاج سے متعلق شکایت کر رہی تھی اور وزیر صحت انھیں ڈانٹتے ہوئے کہتے ہیں ’’پاگل کے بچے سنو میری بات، اب تک تمہارے والد مر چکے ہوتے، اگر علاج نہ ہوتا، تمہیں معلوم ہے آئی سی یو جہاں تیرا باپ داخل ہے کا ایک دن کا 20ہزار روپے ہے۔‘‘ جہاں غریب مریض کی بے اطمینانی کا جواب ہمدردی اور مرہم پٹی کے بجائے ڈانٹ ڈپٹ سے دیا جائے، وہاں انصاف، مساوات اور اسلامی ریاست کے تمام دعوے دم توڑ دیتے ہیں۔
پمز نرسری سانحے کی 11 صفحات پر مشتمل تفصیلی انکوائری رپورٹ نے اس سنگین نااہلی کے ایک ایک پہلو سے پردہ اٹھایا ہے۔ اگرچہ سی سی ٹی وی فوٹیج نے یہ واضح کر دیا کہ موقع پر موجود کچھ ڈاکٹرز، نرسز اور سیکیورٹی عملے نے اپنی جان پر کھیل کر بچوں کو بچانے کی ممکنہ کوشش کی جس میں اسٹاف نرس رضیہ نے جلتی نرسری سے نومولود کو باہر نکالا، ایک نرس نسرین نے فوری مدد طلب کی اور سیکیورٹی گارڈ ماریا اندر داخل ہوئی اور طبی عملے کے بھاگنے کا عمومی الزام غلط ثابت ہوا لیکن انتظامی اور حکومتی سطح پر فائر سیفٹی کے انتہائی ناقص انتظامات نے اس تباہی کو حتمی شکل دی اور 14 معصوم نومولود زندگی کی بازی ہار کر ماؤں کے گود میں جانے سے پہلے راکھ کا ڈھیر بن گئے۔ رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق آگ لگنے کا سبب ممکنہ طور پر انکیوبیٹر، وارمر، اے سی یا ناقص الیکٹرک وائرنگ میں شاٹ سرکٹ بنا، جب کہ آئیسکو کے ریکارڈ نے باہر کی مین لائن کی خرابی یا ٹرپنگ کو رد کر دیا۔
آگ اتنی شدید تھی کہ صرف دو منٹ کے اندر پوری نرسری دھویں اور شعلوں کی لپیٹ میں آگئی مگر سب سے بڑی مجرمانہ غفلت ایمرجنسی ردِعمل میں سامنے آئی۔ سی سی ٹی وی کے مطابق ہنگامی صورتحال 6 بج کر 38 منٹ پر شروع ہوئی لیکن کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کو پہلی کال6 بج کر54 منٹ پر موصول ہوئی۔ اس 16 منٹ کی بھیانک تاخیر کی ذمے داری کا تعین اب تک کسی فرد پر نہیں کیا جا سکا لیکن پمز کنٹرول روم اور فون ریکارڈ کی مزید تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ اسپتال کے اندر کسی ایمرجنسی کا کوئی واضح لائحہ عمل یا ایس او پی موجود ہی نہیں تھا۔ آگ لگنے کی صورت میں الارم کون بجائے گا، ریسکیو کو اطلاع کون دے گا، نازک نومولود بچوں کا انخلا کیسے ہوگا اور آکسیجن و بجلی کی سپلائی فوراً کون بند کرے گا، ان تمام بنیادی باتوں کے لیے کوئی کمانڈ سسٹم موجود نہیں تھا۔ ہنگامی خروج کے راستوں پر یا تو تالے لگا کر بند کیے گئے تھے یا ان کے آگے رکاوٹیں رکھی گئی تھیں جس کی وجہ سے فائر فائٹرز کو اندر داخل ہونے کے لیے دروازے توڑنا پڑے۔
اس پورے سانحے کا سب سے شرمناک پہلو یہ ہے کہ اسپتال انتظامیہ کے لیے یہ خطرہ بالکل نیا نہیں تھا۔ اس سے قبل جولائی میں لگنے والی آگ کی انکوائری میں پہلے ہی اسموک ڈیٹیکٹرز، الارم سسٹم، فائر ڈرلز اور ایمرجنسی راستوں کی شدید خامیوں کی نشاندہی کی جا چکی تھی مگر عملاً ایک بھی حفاظتی اقدام نہیں اٹھایا گیا تھا۔ معلوم خامیوں کو جوتے کی نوک پر رکھنا اور فائر سیفٹی کا این او سی نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ شہریوں کی زندگی ان حکمرانوں کی ترجیحات میں ہے ہی نہیں۔ اصولاً تو سب سے پہلے تمام ذمے داران کے خلاف 14 نومولود بچوں کے اجتماعی قتل کی ایف آئی آر درج ہوتی اور انکوائری کی بجائے عدالت میں مقدمہ چلتا مگر حسب معمول لولی لنگڑی انکوائری رپورٹ میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مطاہر شاہ، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل چوہدری وارث علی رضا، ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر نوشیلا امجد، سیکیورٹی اور فائر سیفٹی افسران اور ڈی جی کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی معطلی اور انتظامی کارروائی کی سفارش کی ہے اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان اور بیلفورٹ سیکیورٹی سروسز کے خلاف غفلت پر اقدام اٹھانے کا کہا گیا ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بند فائر ایگزٹس اور کال میں تاخیر جیسے معاملات محض انتظامی غلطی نہیں بلکہ فوجداری جرم ہیں اور ان کی الگ سے تحقیقات ہونی چاہئیں۔ مگر کاغذوں پر لکھی گئی یہ رپورٹس اور انتظامی غلطیوں کی نشاندہی ان 14 معصوم بچوں کی زندگی واپس لا سکتے ہیں؟ کیا یہ ان ماؤں کے سینے کی آگ بجھا سکتے ہیں جن کی گودیں ریاست کی نااہلی نے اجاڑ کر انکو زندگی بھر کا روگ تھما دیا؟
ظلم اور بے حسی کے ستونوں پر کھڑا ہمارا نظام تب تک نہیں بدل سکتا جب تک حکمران عمر فاروق ؓ کے احساسِ جوابدہی کو اپنے اندر پیدا نہیں کرتے، جب تک احتساب کو صرف آگ کی پہلی چنگاری تک محدود رکھا جائے گا اور اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے اصل ذمے داروں کو استثنیٰ ملتا رہے گا، تب تک ایسے دلخراش سانحات رونما ہوتے رہیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس معاملے میں نہ صرف انتظامی بلکہ فوجداری سطح پر سخت ترین سزائیں دی جائیں جن کا دائرہ مزید وسیع ہونا چاہیے تاکہ آیندہ کوئی بھی ادارہ شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی جرات نہ کر سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل