Thursday, September 03, 2026
 

ایک ہی معاملے پر سول اور کریمنل کارروائی ایک ساتھ نہیں چل سکتی، وفاقی آئینی عدالت  کا اہم فیصلہ 

 



وفاقی آئینی عدالت  نے  اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی معاملے پر سول اور کریمنل کارروائی ایک ساتھ نہیں چل سکتی، سول اور فوجداری کارروائی میں متضاد فیصلوں سے انصاف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آئینی عدالت نے کہا کہ ملکیتی تنازع سول عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو فوجداری عدالت کو فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے، متنازع دستاویزات کی اصلیت کا فیصلہ سول عدالت کرے گی، متنازع سرٹیفکیٹس کی تصدیق سے پہلے درخواست گزاروں کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی۔ عدالت  کے مطابق سول عدالت کے فیصلے کے بعد ہی درخواست گزاروں کے خلاف فوجداری یا انتظامی کارروائی شروع کی جا سکے گی، سول مقدمہ اور فوجداری مقدمہ ایک ہی معاملے سے گہرا تعلق رکھتے ہوں تو فوجداری کارروائی روکنے کی گنجائش ہے، بدنیتی سے دائر سول مقدمے کو فوجداری کارروائی روکنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکے گا۔ عدالت نے کہا کہ فوجداری کارروائی روکنے کا فیصلہ متعلقہ حالات اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کیا جائے، متنازع دستاویزات کی قانونی حیثیت کا فیصلہ سول عدالت کے اختیار میں ہے۔ آئینی عدالت نے فیصلہ سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بنوں کے کیس میں جاری کیا، سابق ای ڈی او اور دیگر کیخلاف ٹیچرز بھرتی کیس میں بے ضابطگیوں پر کارروائی جاری تھی۔ بوگس دستاویزات پر اساتذہ کو بھرتی کرنے کا الزام تھا، جعلی دستاویزات کا معاملہ سول کورٹ میں زیر التوا تھا، افسران کیخلاف کریمنل کارروائی الگ سے شروع کی گئی تھی، فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل