Loading
وفاقی آئینی عدالت نے رفاہی اراضی پر رہائشی پلاٹس کی تعمیر سے متعلق این جی او کی سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل پر آئندہ سیشن میں آڈٹ رپورٹ طلب کرلی۔
کراچی رجسٹری میں وفاقی آئینی عدالت نے رفاہی اراضی پر رہائشی پلاٹس کی تعمیر سے متعلق این جی او کی سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت کی، جس میں وکیل نے مؤقف دیا کہ اپیل کنندہ ادارے کو 1982 میں یہ جگہ رفاہی مقاصد کے لیے الاٹ کی تھی۔
جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ آپ نے ایسی کیا خدمات انجام دی تھیں جس کے صلے میں آپ کو 2 ہزار گز کا پلاٹ دیدیا گیا؟
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فیضان میمن نے موقف اپنایا کہ اس وقت کے چیئرمین زکوٰۃ کمیٹی نے اپنی تنظیم کو اراضی الاٹ کی تھی۔ قانون کے مطابق چیئرمین زکوٰۃ کمیٹی کو الاٹمنٹ کا اختیار ہی نہیں تھا۔ اراضی اسکول کے لیے مختص ہے۔ درخواستگزار نے اراضی پر رہائشی پلاٹ بنا دیے ہیں۔
جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ درخواستگزار این جی او کو فنڈنگ کون کرتا ہے؟ اپیل کنندہ کے وکیل نے موقف دیا کہ پہلے وفاق گرانٹ دیتا تھا، اب خود سوسائٹی سے انتظام کرتے ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے این جی او کے وکیل پر اظہار برہمی کیا۔
جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ پہلے تو یہ بتائیں این جی او کے پاس پیسے کہاں سے آتے ہیں، کوئی آڈٹ تو کرتا ہوگا؟ عدالت نے درخواستگزار سے آئندہ سیشن تک این جی او کی آڈٹ رپورٹ طلب کرلی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل