Thursday, September 03, 2026
 

ایرانی فوج پر 60 حملے کیے، آبنائے ہرمز سے 40 آئل ٹینکرز کو بحفاظت نکالا؛ امریکا

 



امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک بڑے آپریشن کے دوران تقریباً 60 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور 40 تجارتی بحری جہازوں کو بحفاظت آبنائے سے گزارا جن پر مجموعی طور پر تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ بیرل تیل لدا ہوا تھا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوج نے بتایا کہ یہ آپریشن یکم ستمبر بروز منگل کو کیا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فورسز نے بحری جہازوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ایرانی ڈرون حملوں کا مقابلہ کیا اور اینٹی شپ کروز میزائلوں کو بھی ناکارہ بنایا۔ امریکی حکام نے مزید کہا کہ فوجی کارروائی کے دوران آبنائے ہرمز کے اطراف تقریباً 60 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار، بحری تنصیبات، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز شامل تھے۔ دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بھی تصدیق کی ہے کہ یکم ستمبر کو امریکی حملوں میں 6 نیول اہلکار اور تین پائلٹس سمیت 21 افراد شہید جب کہ 140 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ تسنیم کی حالیہ رپورٹس میں لارک پر مارے جانے والے تین اہلکاروں کی نماز جنازہ اور تدفین کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ادھر ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا کہ امریکی حملوں میں جاں بحق ہونے والے ایران کے فوجی اہلکاروں کی اصل تعداد اس ے کہیں زیادہ ہے۔ اے پی سے بات کرتے ہوئے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایرانی حکام نے بتایا تھا کہ امریکا کے تازہ حملوں میں ایران کے 14 فوجی اور نیم فوجی اہلکار شہید ہوگئے ہیں جبکہ 108 افراد زخمی ہیں۔ تازہ ترین حملوں میں سب سے زیادہ توجہ جنوبی ایران کے علاقے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر مبینہ امریکی میزائل حملے نے حاصل کی۔ ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری  جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اے پی کو ذرائع نے ابتدا میں 4 افراد کی شہادت اور 60 سے زائد زخمیوں کی اطلاع دی تھی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ امریکی کارروائیوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں، فضائی دفاع، ریڈار اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی مبینہ تیاریوں کو نشانہ بنانا تھا۔ خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ فروری 2026 میں شروع ہوئی تھی۔ جون میں جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے باوجود آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تھی۔ بعد ازاں جولائی میں بھی امریکا نے ایرانی فوجی اور بحری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا جس کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی اڈوں اور اتحادی ممالک کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ اب اگست کے آخر میں کشیدگی دوبارہ بھڑکنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیاں دوبارہ تیز ہوگئی ہیں جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ خطے میں جاری تنازع ایک مرتبہ پھر وسیع جنگ کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ واضح رہے کہ تیل و گیس کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین آبی گزرگاہ ہے اور جنگ سے قبل یہاں سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل مختلف ممالک کی جانب جاتا ہے لیکن جنگ کے بعد سے ایران نے اسے بند کر رکھا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل