Thursday, September 03, 2026
 

مشرق وسطیٰ کی سلامتی کا تصور

 



دنیا کی بڑی طاقتوں کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب توپوں کی گھن گرج سے زیادہ خطرناک وہ خاموش سوال ہوتا ہے جو مستقبل کے دروازے پر دستک دے رہا ہوتا ہے۔ مشرق وسطیٰ اس وقت ایسے ہی ایک سوال کے سامنے کھڑا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی، آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی بے یقینی اور خطے میں امریکی تنصیبات پر ایرانی جوابی کارروائیوں نے اس امر کا خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ ایک محدود جنگ کہیں ایسے وسیع تصادم میں نہ بدل جائے جس کے اثرات مشرق وسطیٰ کی سرحدوں سے نکل کر پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیں۔ ایسے نازک وقت میں چین کے صدر شی جن پنگ کی طرف سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اپنے لیے نیا سیکیورٹی نظام تشکیل دینے کا مشورہ محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ خطے کی دہائیوں پر محیط سیاسی تاریخ پر ایک بنیادی سوال ہے۔ کیا مشرق وسطیٰ اپنی سلامتی کا فیصلہ خود کر سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاست اس قدر پیچیدہ علاقائی رقابتوں اور عالمی طاقتوں کے مفادات میں الجھ چکی ہے کہ یہاں سلامتی کا تصور بھی بیرونی قوتوں کی موجودگی سے وابستہ ہو گیا۔ کہیں امریکی فوجی اڈے تحفظ کی علامت بنے، کہیں روسی تعاون ضرورت سمجھا گیا اور کہیں علاقائی طاقتوں نے اپنی بقا کے لیے مختلف عالمی مراکز سے تعلقات استوار کیے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خطے کے ممالک نے اپنی سلامتی کے لیے جو انتظامات کیے، وہ اکثر دوسروں کی بے یقینی کا سبب بن گئے۔ ایک ریاست کا دفاعی حصار دوسری ریاست کو خطرہ دکھائی دیا اور اس خطرے کے جواب میں مزید اسلحہ، مزید اتحاد اور مزید بیرونی ضمانتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس طرح سلامتی ایک مشترکہ ضرورت ہونے کے بجائے طاقت کے باہمی مقابلے کا عنوان بن گئی۔ شی جن پنگ نے اسی بنیادی خرابی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے عوام اپنے معاملات کے خود مالک ہوں اور خطے کے ممالک باہمی اچھے ہمسائیگی کے اصول پر اپنی سلامتی کا نیا ڈھانچہ تشکیل دیں۔ یہ تجویز اپنی روح کے اعتبار سے قابل غور ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے محض سیاسی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ قابل عمل علاقائی نظام کے طور پر دیکھا جائے۔ بیرونی مداخلت کے خاتمے کی خواہش بجا، مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ خطے کے داخلی تنازعات خود کسی معمولی نوعیت کے نہیں۔تاہم دشواری کا مطلب ناممکن ہونا نہیں۔ دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی ایسے حالات رہے ہیں جہاں جنگوں کے بعد ممالک نے یہ محسوس کیا کہ مستقل تصادم کسی فریق کو محفوظ نہیں بناتا۔ مشرق وسطیٰ کے لیے بھی بنیادی اصول یہی ہونا چاہیے کہ کسی ایک ریاست کی سلامتی کو دوسری کی عدم سلامتی سے وابستہ نہ کیا جائے،اگر تمام فریق اس امر پر متفق ہوں کہ اختلاف کا جواب جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہوں گے تو ایک نئے علاقائی سیکیورٹی نظام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ چینی صدر کی چار نکاتی تجویز میں سلامتی کے داخلی محرکات کے ساتھ جامع حکمت عملی، اقتصادی ترقی اور عالمی تعاون کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ یہی اس تصور کا مضبوط ترین پہلو ہے۔مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو صرف فوجی تناظر میں دیکھنا اس خطے کے مسائل کو آدھا سمجھنے کے مترادف ہے۔ جہاں نوجوانوں کے لیے روزگار نہیں، جہاں جنگ نے بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا ہو، جہاں پانی اور خوراک مستقبل کے سوال بن چکے ہوں اور جہاں قومی بجٹ کا بڑا حصہ دفاعی تیاریوں میں صرف ہو رہا ہو، وہاں محض مزید میزائل خرید لینا استحکام پیدا نہیں کر سکتا۔ حقیقی استحکام معاشی امکانات، تعلیم، صنعتی ترقی، توانائی کے محفوظ نظام اور سیاسی شمولیت سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتصادی تعاون کو علاقائی سلامتی کا جزو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اگر مشرق وسطیٰ کے ممالک تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ، پانی، خوراک اور ٹیکنالوجی کے ایسے مشترکہ منصوبے تشکیل دیں جن میں ایک ملک کی ترقی دوسرے کے مفاد سے جڑی ہو تو جنگ کی قیمت محض انسانی نہیں بلکہ معاشی بھی ہو جائے گی۔ باہمی انحصار لازماً امن کی ضمانت نہیں، لیکن یہ جنگ کے خلاف ایک مضبوط معاشی مفاد ضرور پیدا کرتا ہے۔ خطے میں وسیع پیمانے پر اقتصادی تعاون کا قیام اسلحے کی دوڑ کے مقابلے میں کہیں زیادہ دیرپا سیکیورٹی سرمایہ کاری ثابت ہو سکتا ہے۔ اس پورے معاملے میں فلسطین کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ چین کی طرف سے اس مسئلے کو مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے مرکزی محور کے طور پر تسلیم کرنا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے جسے عالمی سفارت کاری بارہا نظرانداز کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ فلسطین کا مسئلہ محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں، بلکہ اس سے بین الاقوامی قانون، خود ارادیت، انسانی حقوق اور عالمی انصاف کی ساکھ وابستہ ہے۔ جب دنیا ایک اصول کو ایک ملک کے لیے نافذ اور دوسرے کے لیے نظرانداز کرتی ہے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ اسی لیے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی کوئی بھی کوشش فلسطینی عوام کے سیاسی حقوق اور ایک قابل عمل منصفانہ حل کے بغیر ادھوری رہے گی۔  امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی نے ان تمام سوالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر شدید دباؤ اور آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے اظہار نے واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن اس وقت طاقت کو مذاکرات کے لیے بنیادی ذریعہ سمجھ رہا ہے۔ دوسری طرف ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے اور ایرانی قیادت کے سخت بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران بھی تصادم سے پیچھے ہٹنے کے بجائے جواب دینے کی صلاحیت ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ یہ صورت حال اس وقت انتہائی خطرناک ہو جاتی ہے جب دونوں جانب یہ تصور مضبوط ہو جائے کہ پیچھے ہٹنا کمزوری اور مزید طاقت کا استعمال کامیابی ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال اس بحران کو علاقائی مسئلے سے عالمی خطرے میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ صرف ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان جغرافیائی رابطہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کے نظام کی اہم شریان ہے۔ یہاں جہاز رانی میں طویل تعطل پیدا ہوا تو اس کا اثر صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہے گا۔ بیمہ کے نرخ بڑھیں گے، بحری تجارت مہنگی ہو گی، صنعتی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے اور توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں پر مہنگائی کا دباؤ بڑھے گا۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی توانائی اور خوراک کی بلند قیمتوں سے دوچار ہیں، اس بحران کا سب سے بھاری بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں چین کی طرف سے بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ میں تعاون کی پیشکش اہم ہے۔ چین خود عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے بڑے صارفین میں شامل ہے، اس لیے اس کا مفاد بھی یہی ہے کہ سمندری راستے محفوظ رہیں، لیکن یہاں ایک بنیادی سوال موجود ہے۔ کیا عالمی طاقتیں بحری راستوں کی حفاظت کو بھی اپنے باہمی عسکری اثر و رسوخ بڑھانے کا ذریعہ بنائیں گی یا اسے مشترکہ عالمی ذمے داری سمجھیں گی؟ اگر آبنائے ہرمز کا تحفظ کسی ایک طاقت کے فوجی غلبے کے بجائے علاقائی ممالک اور عالمی برادری کے مشترکہ انتظام کے تحت ہو تو یہ زیادہ قابل قبول اور دیرپا نظام ہو سکتا ہے۔  مشرق وسطیٰ کو آج کسی ایک نئی طاقت کی چھتری درکار نہیں، اسے ایسے علاقائی اصولوں کی ضرورت ہے جنھیں تمام ممالک تسلیم کریں اور جن کی خلاف ورزی کی صورت میں اجتماعی سفارتی ردعمل سامنے آئے۔ مستقل علاقائی مذاکرات، عدم جارحیت کے معاہدے، میزائل اور اسلحے کی دوڑ کو محدود کرنے کے اقدامات، سمندری راستوں کی مشترکہ حفاظت، بحران کے وقت براہِ راست رابطے اور اقتصادی تعاون کے وسیع منصوبے اس سمت عملی قدم ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کو بھی محض قراردادیں جاری کرنے والے ادارے کے بجائے ایسے مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آنا چاہیے جو بین الاقوامی قانون کے یکساں نفاذ کو یقینی بنائے۔  موجودہ بحران نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ طاقتور فوج کسی ریاست کو وقتی برتری تو دے سکتی ہے، مستقل امن نہیں۔ بم کسی مسئلے کو دبا سکتا ہے، ختم نہیں کر سکتا، میزائل کسی تنصیب کو تباہ کر سکتا ہے، عدم اعتماد کو نہیں۔ مشرق وسطیٰ کی اصل ضرورت اسی فرق کو سمجھنے میں ہے۔ اگر خطے کے ممالک اپنی سلامتی کو دوسروں کے خوف سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد سے جوڑنے پر آمادہ ہو جائیں، اگر عالمی طاقتیں اپنی مسابقت کو مقامی جنگوں کے ذریعے آگے بڑھانے سے گریز کریں اور اگر فلسطین سمیت بنیادی سیاسی تنازعات کو انصاف کے اصول پر حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تو اس خطے کے لیے ایک مختلف مستقبل ممکن ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل