Thursday, September 03, 2026
 

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

 



اقبال نے ’’بال جبریل‘‘ میں ’’باغی مرید‘‘ کے عنوان سے دو اشعار کہے ہیں۔ ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن میراث میں آئی ہے انھیں مسند ارشاد زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن  یہ اشعار حتمی طور پر پاکستانی سیاست اور حکومت کی نشان دہی کرتے ہیں۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد پہلے منتخب وزیر اعظم لیاقت علی خان کو ایک افغانی سید اکبر کے ذریعے قتل کرا دیا گیا اور مخصوص قوتوں کے لیے راستہ صاف ہو گیا۔ جب سے لے کر اب تک جتنی بھی حکومتیں آئیں سب نے جی بھر کے اس ملک کو لوٹا، اپنی تجوریاں بھریں، اقربا پروری کی، اوپر سے مقتدرہ کا آہنی ہاتھ سر پر، گویا سیاں بھئے کوتوال، اب ڈر کاہے کا۔ اقبال نے نام نہاد جمہوریت کے لیے کہا ہے کہ: جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے آج جس نام نہاد جمہوریت سے ہم گزر رہے ہیں، وہ ڈکٹیٹر شپ کی بدنما شکل ہے، جس پر جمہوریت کا لیبل لگا کر بیچا جا رہا ہے۔ جمہوریت اگر خالص ہو جیسا کہ یورپی ممالک میں ہے تو وہاں افکار کی آزادی حاصل ہے، امریکی صدر بھی لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں تو وہی صورت حال ہے جو اقبال نے ’’بانگ درا‘‘ کی نظم ’’تصویر درد‘‘ میں بیان کی ہے۔ یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری برطانیہ میں بادشاہت ہے لیکن وہاں عام آدمی کو بولنے کی لکھنے کی آزادی حاصل ہے، ہائیڈ پارک میں واقع ’’اسپیکر کارنر‘‘ ہے، جہاں 150 سال سے زیادہ عرصہ کھلی ہوا میں تقریر بحث و مباحثے کے لیے مخصوص ہے۔ یہ روایت خاص طور پر اتوار کی صبح کے لیے مشہور ہے، جہاں لوگ چھوٹے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر اپنے ہر طرح کے خیالات کا اظہار کھل کر کرتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ کوئی بھی تقریر نفرت انگیز مواد پر مبنی نہ ہو اور اس سے تعصب کی بو نہ آتی ہو۔ ہائیڈ پارک کی اس جگہ کو آزادیٔ اظہار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں شروع ہی سے لکھنے اور سچ بولنے پر پابندی ہے۔ حکمرانوں کو کس کی کون سی بات بری لگ جائے اور وہ رات کے پچھلے پہر دروازے پر ٹھڈے مار کر اندر داخل ہوتے ہیں اور سچ بولنے اور لکھنے والے بندے کو اٹھا کر لے جاتے ہیں، کسی کو قید میں ڈال دیتے ہیں۔ اسی لیے اس ملک کے حکمرانوں نے اپنی مرضی کے قوانین بھی نافذ کیے۔ یہاں صرف قصیدہ نگاروں کا پلہ بھاری ہے۔ یہ قصیدہ گو ٹاک شوز میں تو کثرت سے پائے جاتے ہیں لیکن اخباری کالموں میں بھی یہ نظر آتے ہیں۔ یہاں تیس تیس اور چالیس چالیس سال سے دو جماعتیں ملک پر قابض ہیں۔ پہلے باپ، پھر بیٹی، پھر داماد اور پھر نواسا، جب کہ پارٹی میں بہت سے سینئر ممبران بھی موجود ہیں جنھوں نے ہر طرح کی صعوبتیں پارٹی کے لیے اٹھائیں۔ لیکن جب پارٹی سربراہ بننے کا وقت آیا، نواسے، بھتیجی، داماد، چچا اور ابا جان پارٹی کے سربراہ بنتے گئے۔ دوسری پارٹی کا کوئی بڑا منصب پارٹی سے باہر جانے ہی نہیں دیتی، کسی پر بھروسہ نہیں، کبھی بھائی، کبھی بھتیجا اور کبھی بیٹی۔ ایک شخص وزارت عظمیٰ پر فائز ہوتا ہے تو پھر اپنے خاندان میں عہدے بانٹتا یہاں تک کہ اپنے خاندان میں ہی وزارت عظمیٰ کا عہدہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے،حکمرانوں کے لیے پرتعیش جہاز خریدے جاتے ہیں ، سینیٹ کے چیئرمین کے لیے بم پروف گاڑی خریدی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں وراثت کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ ایک تیسری پارٹی جسے راتوں رات اسٹیبلشمنٹ لائی تھی، انھوں نے جوں ہی پر پرزے نکالے خصوصی عدالت لگوا کر انھیں عقوبت خانوں میں ڈال دیا۔ پارٹیوں میں بے شمار ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی وجہ سے پارٹیاں بنتی ہیں، لیکن وہ کارکن جن کی عمریں نعرے لگاتے، اسٹیج سجاتے، کرسیاں لگاتے اور دریاں بچھاتے گزر جاتی ہیں، بوڑھے ہونے پر انھیں فراموش کر دیا جاتا ہے۔ سینئر کارکن پارٹی کا چیئرمین نہیں بن سکتا۔ اسے کبھی باپ کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا پڑتا ہے، کبھی بیٹی کے آگے اور کبھی نواسے کے آگے، کبھی بھائی کے اور بھتیجی کے آگے۔ سیاسی کارکنوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیا جاتا ہے۔ قومی خزانہ لوٹا جا رہا ہے، کبھی پرتعیش جہاز خریدنے کے لیے اور کبھی بم پروف گاڑی خریدنے کے لیے۔ وزرا کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ جہاں چاہیں عیاشیاں کریں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ آج بھی بادشاہی نظام ہے کہ پہلے باپ، پھر بیٹا، پھر پوتا۔ نہ پارٹیوں میں نیا خون آتا ہے نہ تازہ فکر۔ وہ سینئر رہنما جنھوں نے اپنی پوری جوانی ان دھوکے باز پارٹیوں کو دے دی وہ کبھی پارٹی کے چیئرمین نہیں بن سکتے۔ کیونکہ جو پارٹیاں آج برسر اقتدار ہیں ان کی تفصیل نکلوائیے تو سارا بھید کھل جاتا ہے، پارٹی میں اہم عہدے انھی کو دیے جائیں گے جو یا تو قریبی رشتہ دار ہو یا پھر اپنے خاندان کا کوئی فرد۔ پانی بھی بہت عرصے تک ایک جگہ جمع رہے تو بدبو پیدا ہو جاتی ہے۔ آج کے سیاستدان غیر سیاسی قوتوں کے گملوں کی پنیریاں ہیں، جنھیں ’’مقتدرہ‘‘ نے سینچا ہے۔ کچھ سیاسی جماعتوں کا نام ضیا الحق سے پہلے کسی نے نہ سنا ہوگا۔ لوگوں کو جاہل رکھنا حکمرانوں کے لیے بہت سودمند ہے۔ سماج کو کمزور رکھنا ان کی مجبوری ہے، اگر پوری قوم تعلیم یافتہ ہو جائے گی تو ان کے اقتدار کا سورج گہنا جائے گا، کیونکہ معاشرے کو کمزور رکھ کر ہی ان کے مفادات پورے ہوتے ہیں۔ یہ جو حکمرانوں اور سیاست دانوں کے بگاڑ کی باتیں ہیں ان میں تمام جماعتیں مورد الزام ٹھہرتی ہیں۔ مذہبی و سیاسی جماعتوں نے بھی قصیدہ خوانی کا کام کیا ہے۔بعض مذہبی اور سیاسی رہنما ہر دور میں حکومت کے چہیتے رہے ہیں، ان کی ناک میں تکلیف ہوتی ہے تو لندن میں علاج کراتے ہیں، ان کے پاس پتا نہیں کون سی گیدڑ سنگی ہے کہ یہ ہر دور میں مقتدرہ اور حکومت کے منظور نظر ہوتے ہیں، ویسے بھی جب معاشرے میں علم و آگہی کی قیمت کم ہو جائے اور اس کے مقابلے میں دولت مند افراد کی اہمیت بڑھ جائے تو سماج کو ٹوٹ پھوٹ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اقبال نے عقابوں کے نشیمن کو زاغوں کے تصرف میں ہونے کی بات کی ہے، اگر آج اقبال زندہ ہوتے تو صدمے سے مر جاتے صرف یہ سوچ کر کہ عقابوں کے نشیمن مسمار ہو گئے ہیں اور وہاں اب کوؤں کا بسیرا ہے۔ آج ہماری صورت حال یہ ہے کہ: برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی اُلّو کافی تھا ہر شاخ پہ اُلّو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا؟ حکمران قوم سے سادگی کی اپیل کر رہے ہیں، لیکن حکومتی ارکان کے اپنے الللے تللے اب بھی جاری ہیں۔ اگر حکمران سچ مچ میں سادگی کی تلقین کرنا چاہتے ہیں تو پہلے تمام بڑی گاڑیاں نیلام کر دی جائیں، مفت پٹرول ختم کیا جائے، سرکاری اور نجی دفاتر میں ایئر کنڈیشن کا استعمال ممنوع قرار دیا جائے، عوام کے لیے صاف پانی، بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے، مہنگائی کے جن کو قابو میں کیا جائے، پٹرول کی قیمتیں بھارت میں بھی بڑھی ہیں لیکن وہاں اتنی مہنگائی نہیں ہے۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد بیورو کریسی نے صرف اپنی جیبیں بھری ہیں، ساتھ انھیں غیر سیاسی قوتوں کی آشیرواد بھی حاصل رہی ، ہمارے حکومتی ارکان نے اس ملک کو تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ 1971 میں اگر اقتدار شیخ مجیب الرحمن کو منتقل کیا جاتا تو آج بنگلہ دیش نہ بنتا، لیکن سیاستدانوں کو ملک گنوانا منظور تھا لیکن اپنی حکمرانی انھیں عزیز تھی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل