Loading
فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ تحسین نے کہا ہے کہ درآمدی ایندھن پر بڑھتا ہوا انحصار پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے، درآمدی تیل کے بڑھتے بوجھ سے نکلنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی میں فوری سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی درآمدات میں سالانہ 5.76 فیصد اضافہ خطرے کی گھنٹی ہے، جبکہ فوسل فیولز کی درآمد پر 16 ارب ڈالر سے زائد کا قیمتی زرمبادلہ خرچ ہو چکا ہے۔ فوسل فیولز کی درآمد ملکی مجموعی درآمدات کا 24.2 فیصد ہے۔
شیخ تحسین نے کہا کہ پاکستان نے 2035 تک کاربن اخراج میں 50 فیصد کمی کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ شمسی، ہوا سے بجلی کی پیداوار اور پن بجلی اب صرف متبادل توانائی کے ذرائع نہیں بلکہ ملکی معیشت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔
صدر فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی توانائی منتقلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ براہِ راست معاشی مسئلہ بن چکی ہے۔ مقامی اور سستی توانائی صنعتی مسابقت اور معاشی استحکام کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل