Loading
پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے عبوری کوچ مائیک ہیسن نے انگلینڈ میں قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں اچانک ہونے والی بڑی تبدیلیوں پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
برمنگھم میں پریس کانفرنس کے دوران مائیک ہیسن نے کہا کہ کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکالے جانے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے، وہ خود بھی اس صورتحال سے پوری طرح آگاہ نہیں تھے۔
ہیسن نے بتایا کہ وہ جاپان میں ایشین گیمز کی تیاریوں میں مصروف تھے جب انہیں مختصر نوٹس پر پاکستان واپس بلا کر انگلینڈ بھیجا گیا۔
ان کے مطابق اسکواڈ میں تبدیلیوں کے فیصلوں میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا اور وہ ٹیم سنبھالنے کے بعد دستیاب کھلاڑیوں کے ساتھ تیسرا ٹیسٹ جیتنے کے لیے متوازن کمبی نیشن بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
ہیسن نے سلمان علی آغا کو گزشتہ چند برسوں کے بہترین پاکستانی کھلاڑیوں میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹیم سے باہر کیے جانے کی وجوہات کا علم نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ علی عثمان باصلاحیت بولر ہے لیکن انگلینڈ کے موجودہ حالات میں ایسے فنگر اسپنر کو کھلانا مشکل ہے جو بیٹنگ نہیں کر سکتا۔
ہیسن نے تسلیم کیا کہ اسکواڈ میں اچانک تبدیلیوں سے کھلاڑیوں کو تکلیف پہنچی ہوگی لیکن ان کا کہنا تھا کہ اب توجہ ماضی کے بجائے تیسرے ٹیسٹ اور آئندہ کی تیاری پر مرکوز ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل