Loading
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری تنقید کا برا ماننے کے بجائے کہیں اپنی غلطی بھی تسلیم کرلو، جب گھر میں آگ لگی ہوتو گھر کو تقسیم نہیں کیا جاتا۔
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ساہیوال میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے حکمران جس آئین کے تحت حلف اٹھاتے ہیں خود اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اس ملک کو 80 سال میں عروج سے زوال کی طرف لانے کا کون ذمہ دار ہے، 80 سال میں اس ملک کو نہ جمہوریت ملی، نہ اسلام ملا، نہ معیشت ملی، 80 سال میں زوال کا ذمہ دار اس ملک کا جاگیردار، جرنیل، سرمایہ دار اور بیوروکریٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں نظام فیل ہوچکا ہے انہیں بتاؤ کہ 80 سالہ تباہی تمہاری وجہ سے ہے، قتل حسین بھی اور ہائے حسین بھی، 80 سالہ رویے تبدیل کرو اپنے مخالفین کےخلاف رویے اور طریقے تو تبدیل کرو۔
ملک میں نئے صوبوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب سرائیکی اور ہزارہ صوبے کی بات ہوتی تھی تو اس وقت تم ہی اس کے مخالف تھے، جب گھر میں آگ لگی ہو تو گھر تقسیم نہیں کیا جاتا، اٹھارہویں ترمیم کے بعد معدنی ذخائر صوبوں کی ملکیت ہیں، یہ ان سے ہضم نہیں ہو رہا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صوبوں کے محصولات کے حوالے سے 18ویں ترمیم بھی ہضم نہیں ہورہی، نہ امن ہے، نہ معیشت اور نہ جمہوریت ہے، ڈمی اسمبلیاں بنائی جاتی ہیں، اپنی سرزمین خون سے سرخ ہے اور باہر جاکر آپ سرخ قالینوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت کا قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں گستاخی کی اجازت ہو، ایسے لوگوں کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہے ہمارے دو صوبے جل رہے ہیں، عام آدمی مزدوری، سفر اور کام نہیں کرسکتا۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ تم آپریشن کرتے ہو اور مرض بڑھتا جا رہا ہے، ہماری تنقید کا برا ماننے کے بجائے کہیں اپنی کمزوری تو تسلیم کرو، ریاست عوام سے بنتی ہے اور عوام کے بغیر ریاست خالی ڈول ہے جہاں امن و امان نہیں ہے وہاں معیشت کیا ہوگی، ہندوستان دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن گیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نوآبادیاتی نظام کی غلامی ابھی برقرار ہے ہم عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے ہاتھوں یرغمال ہیں، ہم اپنے وسائل کے مالک نہیں رہے، ہمارے وسائل کے فیصلے بھی بین الاقوامی ادارے کررہے ہیں، ہمیں دیکھنا ہے اس وقت صوبوں کے بنانے کا ماحول اور تیاری ہے یا نہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل