Loading
زبان خلق کے معنی ہیں وہ بات جو عام افراد کی زبان پر ہو، مطلب لوگوں کی کہی ہوئی بات یا سب کا مشترکہ طور پر کوئی بات کہنا زبان خلق کے بنیادی مفہوم دو ہیں۔
1۔عوام الناس کی آواز جو بات ہر خاص و عام کی زبان پر جاری ہو۔
2۔ عوام کی رائے وہ چرچہ یا بات جو معاشرے میں پھیل جائے ،اس لفظ کی ایک مشہور مثال عموما استعمال کی جاتی ہے ۔’’ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔‘‘
اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو بات اجتماعی طور پر تمام عوام یا پوری خلقت مل کر کہے وہ اکثر سچ اور خدا کی آواز کی طرح اٹل ہوتی ہے۔یہ دیکھا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں قبل از انتخابات اور چناؤ کے بعد عوام کے سامنے نت نئے وعدے ،دعوے اور نعرے رکھتے ہیں، جس سے عوام ان کی باتوں میں آ کر انھیں منتخب کر لیتے ہیں۔
قیام پاکستان سے لے کر اب تک تمام ہی سیاسی پارٹیوں نے عوام کو دھوکہ دیا ہے ،تمام سیاسی جماعتیں عوام کے معاشی حقوق، خوشحالی، تعلیم، امن ،صحت اور روزگار کے دعوے کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے منتخب ہو کر ایوان اقتدار میں جب یہ آتے ہیں تو اپنے سارے وعدے نعرے بھول جاتے ہیں۔
ہمارے موجودہ سیاسی اکابرین کی نظر میں عوام کیڑے مکوڑوں کی طرح ہیں جنھیں مسل کر وہ اپنی زندگیوں میں تو خوشحالی اور ترقی لے آتے ہیں، لیکن عوام کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں۔ پاکستانی عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، نہ ہمارے پاس اچھی صحت کی سہولیات ہیں نہ تعلیم کی سہولیات ہیں ،نہ اچھا روزگار ہے ۔
ایک عام آدمی دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھا سکتا ،ایسے لگتا ہے کہ حکمرانوں نے عوام کی زندگی عذاب بنا دی ہے ۔ پوری قوم کی زبان خلق پر حکمرانوں کے لیے بد دعائیں ہی ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عوام موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کے کارناموں سے تنگ آ چکے ہیں۔
آخر کب تک صاحب اختیار لوگ عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتے رہیں گے ۔ ایک عام آدمی اپنے حکمرانوں سے یہ سوال پوچھتا ہے کہ اس کا کیا قصور ہے؟ اس کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے ؟
پاکستان کو بنے ہوئے 79 سال ہو چکے ہیں مگر یہ ایک تلخ حقیقت اور بدقسمتی ہے کہ تمام ہی حکمرانوں نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے ۔ عوام کی زندگیاں برباد ہو چکی ہیں تو دوسری طرف اشرافیہ کی زندگیاں خوش و خرم و آباد اور خوشحالی سے بھرپور ہیں۔
کیا ہمارے سیاسی اکابرین نے پاکستان کا قیام اس لیے کیا تھا کہ آج ہمیں یہ دن دیکھنے پڑیں، آخر با اختیار لوگوں کو زبان خلق کیوں نہیں سمجھ آرہی یا وہ جان بوجھ کر انجان بنے بیٹھے ہیں ۔آخر کب تک سیاسی جماعتوں کی رنگ بازیاں چلیں گی۔ کیا سیاست دانوں کو لگام ڈالنے والا اس ملک میں کوئی نہیں؟
پاکستان کے قیام کا مقصد دفن ہو کر رہ گیا ہے، جس ملک میں عوام کو ان کے بنیادی معاشی حقوق حاصل نہ ہوں تو ایسے ملک کے بارے میں کیا کہا جائے۔ کبھی کبھی مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ ملک صرف اشرافیہ کی عیاشیوں کے لیے بنا ہے ۔خدارا پاکستان کے عوام پر رحم کریں۔ بدقسمتی سے موجودہ حکمرانوں کے پاس بھی عوامی فلاح و بہبود کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، نہ ہی کوئی معاشی روڈ میپ ہے ۔
ایوانوں میں عوامی نمائندگی کے فقدان کے سبب پاکستان کے حالات اس ڈگر پر آ چکے ہیں کہ زبان خلق پر بد دعائیں نکل رہی ہیں ۔کیا قائد اعظم نے اس لیے اتنی جدوجہد کی تھی؟ کیا علامہ اقبال نے ایسے ملک کا خواب دیکھا تھا؟ جہاں عوام کو ان کی بنیادی معاشی حقوق حاصل نہ ہوں جس کی ضمانت آئین پاکستان انھیں دیتا ہے۔ کیا اشرافیہ کو کسی کا بھی ڈر و خوف نہیں؟
کیا ان کو اللہ سے بھی ڈر نہیں لگتا ،عوام پر اتنا ظلم مت ڈھائیں کہ وہ تنگ آکر ساری باتوں کو ایک طرف رکھ کر سڑکوں پر آ جائیں۔ خدارا، اس دن سے ڈریں، جب عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا۔
اس کالم کے ذریعے میری یہ درخواست ہے کہ حکمرانوں کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ کچھ ڈلیور کر دیں، اگر ایسا نہ ہوا تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ عوام ایک طوفان کی مانند تمام ایوان اقتدار کو بہا کر لے جائیں گے ۔انقلاب کے لیے صرف ایک چنگاری کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ چنگاری ہر عام و خاص فرد کے اندر جل رہی ہے۔
اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پر فوری طور پر ایکشن لیا جائے اور عملی طور پر عوام کو ان کے بنیادی معاشی حقوق دیے جائیں۔ حکومت فوری طور پر اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے ،کیونکہ یہ ملک ہے تو ہم ہیں ،اگر یہ ملک نہیں تو کوئی بھی نہیں ملک کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھائے جائیں۔
یقین جانیے عوام حالات سے بہت تنگ آچکے ہیں۔ اب عوام یہ سوچ رہے ہیں کہ یا تو کوئی معجزہ ہو جائے یا پھر ان کے پاس آخری راستہ سڑکوں پر آنے کے علاوہ کچھ نہیں، لیکن عوام کا سمندر جب سڑکوں پر آئے گا تو وہ سب کچھ بہا لے جائے گا ،لہٰذا حکمرانوں راہ راست پرآئیں۔
زبان خلق چیخ چیخ کر اشرافیہ سے کہہ رہی ہے کہ ان کے حال پر رحم کریں، ظلم اور جبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اب تو حکمرانوں نے تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔ حبیب جالب نے بھی کیا خوب کہا ہے۔
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے رہے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
اسی طرح فیض احمد فیض نے بھی کیا خوب کہا ہے ۔
لیکن اب ظلم کی معیاد کے دن تھوڑے ہیں
اک ذرا صبر کے فریاد کے دن تھوڑے ہیں
احمد فراز کا بھی ایک خوبصورت شعر ہے۔
کس طرف کو چلتی ہے اب ہوا نہیں معلوم
ہاتھ اٹھا لیے سب نے اور دعا نہیں معلوم
پاک پروردگار پاکستان کو ایسی قیادت نصیب فرمائے جو ملک سے وفادار ہو، مخلص ہو اور عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کرے۔( آمین)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل