Saturday, September 05, 2026
 

یوکرین جنگ کے خاتمے کی نئی سفارتی کوشش؛ پیوٹن سے امریکی وفد کے مذاکرات شروع

 



روسی دارالحکومت ماسکو میں امریکی وفد نے صدر پیوٹن سے ملاقات کی اور جنگ کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا جب کہ کل بروز اتوار وفد یوکرینی صدر سے ملاقات کے لیے کیف پہنچے گا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس پہنچنے والے امریکی وفد کی قیادت ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کررہے ہیں۔ روسی صدارتی محل کریملن کی جانب سے جاری ویڈیو میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو ہفتے کی سہ پہر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کرتے دکھایا گیا۔ ملاقات کے آغاز پر روسی صدر نے مذاکرات کو مشکل قرار دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اجلاس کی تجویز پیش کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔ پیوٹن نے امریکی وفد سے کہا کہ موجودہ صورتحال ’’آسان نہیں‘‘ تاہم مذاکرات شروع کرنے سے قبل وہ ٹرمپ کے لیے اپنی نیک خواہشات اور تشکر کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔ امریکی وفد کے دورۂ کیف کے پیش نظر صدر پیوٹن نے ہفتے کی رات سے کیف میں روسی حملے تین روز کے لیے روکنے کا حکم دیا ہے۔ کریملن کے مطابق حملوں کی معطلی مقامی وقت کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب شروع ہوگی، تاہم یہ جنگ بندی پورے یوکرین پر نہیں بلکہ صرف دارالحکومت کیف پر لاگو ہوگی۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ حملے روکنے کا فیصلہ امریکی نمائندوں کے کیف میں ہونے والے رابطوں کی تیاری اور ان کے انعقاد سے متعلق ہے۔ دوسری جانب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے ہفتے کو اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے بات کی ہے جس کے بعد یوکرین اب روس پر حملے پیر تک روکنے کے لیے تیار ہے۔ یوکرینی صدر زیلنسکی نے مزید کہا کہ امریکی صدر کے نمائندے روسی حکام کے ساتھ اپنا کام شروع کرچکے ہیں اور یوکرین ہفتے کے اختتام سے پیر تک ماسکو پر حملوں سے گریز کرے گا۔ صدر زیلنسکی نے امریکی وفد کے کیف آنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین ’’بامعنی مذاکرات‘‘ کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ روس بھی کیف کے خلاف اسی طرح کی پابندی اختیار کرے گا۔ مذاکرات سے قبل روس کے یوکرین کے ہوائی اڈوں پر حملے تاہم سفارتی کوششوں کے دوران بھی جنگی کارروائیاں مکمل طور پر نہیں رکیں۔ صدر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ روسی میزائلوں نے کیف کے قریب دو ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا جن میں بوریسپل ایئرپورٹ بھی شامل ہے جو ماضی میں یوکرین کی بین الاقوامی پروازوں کا اہم مرکز رہا ہے۔ یوکرینی صدر کے بقول روس کے ان تازہ حملوں کا تعلق ممکنہ طور پر امریکی وفد کے طیارے کے ذریعے یوکرین پہنچنے کی تیاریوں سے ہوسکتا ہے۔ تاہم روس نے ان حملوں کی نہ تو تردید اور نہ ہی تصدیق کی ہے۔ واضح رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملوں کا آغاز کیا تھا جس کے بعد جنگ یورپ کے سب سے بڑے اور طویل تنازعات میں تبدیل ہوگئی۔ امریکا اور یورپی ممالک نے یوکرین کی فوجی اور مالی مدد کی جبکہ روس پر وسیع پابندیاں عائد کی گئیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل