Saturday, September 05, 2026
 

معاشی استحکام کے اشارے

 



وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعہ کو ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے نائب صدر ینگ منگ یانگ سے ملاقات کے دوران پاکستان کی معیشت اور مالیات کے حوالے سے کئی باتیں کی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ طویل مدتی معاشی تبدیلی کے لیے حکومت کا عزم پختہ ہے اور انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے خصوصی ٹاسک فورسز کے ذریعے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں. انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے سخت مالیاتی، ساختی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے مشکل معاشی بحالی کے مرحلے کو کامیابی سے عبور کیا ہے، ان اصلاحات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں استحکام آیا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا جب کہ فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی سمیت عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کے لیے مستحکم معاشی منظرنامے کی درجہ بندی کی ہے۔ پاکستان کی معیشت کا چند برس پہلے تک جائزہ لیں تو صورت حال خاصی گھمبیر نظر آتی ہے۔ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے سے پہلے تک پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود تھا۔ ڈالر کے اتار چڑھاؤ میں بہت زیادہ تیزرفتاری کا رجحان چل رہا تھا۔ پاکستان میں ایسے لوگ موجود تھے جو کہہ رہے تھے کہ ملک کی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یقینا آج پاکستان کی معیشت اور مالی حالت خاصی بہتر نظر آتی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی بہتر ہیں جب کہ ڈالر کی قیمت میں بھی استحکام نظر آ رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات بھی بہتر ہیں۔ تاہم ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان کی معیشت پوری رفتار سے چل رہی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے پاکستان میں شہری بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور عوامی خدمات کے اہم منصوبوں کی تکمیل میں اے ڈی بی کی مسلسل پیشہ ورانہ کارکردگی اور بروقت تعاون کو سراہا ہے۔ میڈیا کی اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ اس اہم ملاقات میں کراچی سے پشاور تک مین لائن1(ایم ایل1) ریلوے کوریڈور کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن، نجی شعبے اور ایس ایم ایز کی معاونت ، توانائی اور غذائی تحفظ، برآمدات کی مسابقتی صلاحیت میں اضافے، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی2026-30 ء کی ترجیحات کو ٹھوس اور موثر اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا جو پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ پانچ روزہ دورے کے اختتام پر 4 ستمبر کو ینگ منگ یانگ نے اسلام آباد میں نئے اپ گریڈ کیے گئے نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا۔انھوں نے اسلام آباد میں اے ڈی بی کے نئے دفتر کی عمارت کے مقام پر پودا بھی لگایا ۔ایشیائی ترقیاتی بینک پاکستان کے 1966 میں ادارے کا بانی رکن بننے کے بعد سے ملک میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ اب تک اے ڈی بی نے پاکستان کے لیے 764 سرکاری شعبے کے قرضوں، گرانٹس اور تکنیکی معاونت کے منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 58.6 ارب ڈالر فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں اے ڈی بی کا فعال پورٹ فولیو 10 ارب ڈالر سے زائد ہے، جس میں تقریباً 50 آپریشنز شامل ہیں۔ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر چل رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ پاکستان کی معاشی پالیسیاں اور مالیاتی ڈسپلن عالمی مالیاتی اداروں کے معیار کے مطابق ہے۔ گو ابھی بہت سے مسائل چل رہے ہیں تاہم اگر پوری توجہ سے کام ہوتا رہا تو یہ مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کو دوبارہ عروج و زوال کے معاشی چکر میں نہیں جانے دیں گے،یف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کے سرمائے کو متحرک کرنا معاشی ترقی کے لیے اہم ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور نجکاری کے ذریعے سرمایہ کاری کا فروغ ممکن ہے، پائیدار معاشی استحکام کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، انھوں نے کہا کہ نجکاری کے عمل میں شفافیت، کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ترجیح دی جائے گی۔ان کا کہناتھا کہ مجموعی خسارہ 12.5 فیصد سے کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گیا ہے۔ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ معیشت کی یہ تصویر خاصی حوصلہ افزاء ہے۔ نجکاری ہو یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، اس کے لیے بہترین مینجمنٹ اور اعلیٰ معیار کا انفراسٹرکچر ہونا بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ درمیانے درجے کے کاروبار کسی بھی معیشت کا ایندھن ہوتا ہے۔ درمیانے درجے کے کاروبار کو بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کی انتہائی ضرورت ہے۔ پاکستان کے مالیاتی سیکٹر میں مینجمنٹ اور آپریشنز کے جدید نصاب اور تربیت کی ضرورت ہے۔ کسٹمر کیئر سروس میں اصلاحات لانا بہت ضروری ہے۔ یہ نجی سیکٹر اور پبلک سیکٹر دونوں کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ پبلک سیکٹر میں کام کرنے والے مالیاتی اداروں کے اسٹاف کی ٹریننگ اور مینجمنٹ سکلز عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ چیک کیش کرانے ہوں، پے آرڈر بنوانے ہوں یا رقوم جمع کروانی ہوں، اس میں خاصا ٹائم صرف ہوتا ہے۔ مالیاتی اداروں کو اس حوالے سے اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے۔ معاشی ترقی کے لیے توانائی کا سستا ہونا بھی ضروری ہے لیکن پاکستان میں توانائی بہت مہنگی ہے۔ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ نیپرا نے ملک بھر کے لیے ماہانہ وسہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کر دی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق جولائی2026ء کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں2.6 روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے، اطلاق ستمبر کے بلوں میں ہو گا۔ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے صارفین پر 33 ارب روپے تک کا اضافی بوجھ منتقل ہوگا۔ نیپرا نے اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 52 پیسے یونٹ مہنگی کرنے کا فیصلہ کیا، جس کا اطلاق ستمبر سے نومبر تک 3 ماہ کے لیے کے الیکٹرک سمیت تمام صارفین پر ہوگا۔ نیپرا کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا صارفین پر مزید 12.67 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔ مجموعی طور پر صارفین پر 45.67 ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہوگا۔ ادھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی استحکام نہیں ہے۔ قیمتوں کا تعین روزمرہ کی بنیادوں پر ہونے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ادھر آئی پی ایس او ایس، گیلپ پاکستان سروے کے مطابق 14فیصد پاکستانی ملکی معیشت کی مضبوطی پر یقین رکھتے ہیں، چار ماہ قبل یہ شرح 20 فیصد تھی یوں تاثر میں6 فیصدکمی ہوئی۔ سروے کے مطابق پنجاب و سندھ میں معاشی صورتحال پر قدرے مثبت رائے پائی گئی۔ عوام کے بڑے خدشات میں مہنگائی سرفہرست،دیگر بیروزگاری، غربت اور بجلی کی بڑھتی، لوڈشیڈنگ ہیں۔ سروے کے مطابق مہنگائی 69 فیصد پاکستانیوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق تیل کے عالمی نرخوں میں اتار چڑھاؤ، بھاری ٹیکس اور پٹرولیم کی بڑھتی قیمتوں نے بھی عوامی احساسات کو متاثر کیا۔ بلاشبہ معاشی دباؤ عام شہریوں کی سب سے بڑی تشویش ہے۔ پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے جب کہ ہنرمند لیبر بھی بیروزگاری کا شکار ہے۔ ادھر ادارہ شماریات اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بہرحال تمام تر مسائل کے باوجود ملکی معیشت میں قدرے بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ حکومت اپنی جگہ جو اعداد وشمار بیان کر رہی ہے، وہ درست ہو سکتے ہیں تاہم ابھی گراس روٹ لیول تک معاشی استحکام کے ثمرات نظر نہیں آتے۔ بلاشبہ فوڈ آئٹمز مارکیٹ میں موجود ہیں اور ان کی قلت دیکھنے میں نہیں آ رہی تاہم ملک کے دہشت گردی کا شکار صوبوں میں صورت حال خاصی مختلف ہے۔ معاشی ترقی کے عمل کو بہتر بنانے میں صوبائی حکومتوں کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ چھوٹے کاروباروں کو تحفظ فراہم کرنا، انھیں پرامن ماحول فراہم کرنا، صوبائی حکومتوں کی بنیادی ذمے داری بنتی ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کاروباری سرگرمیاں کم ہونے کی بنیادی وجہ وہاں کا سماجی کلچر، سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی اور انتظامی پالیسیاں ہیں۔ اسی طرح اندرون سندھ میں بھی مڈل کلاس طبقے کا سائز انتہائی چھوٹا ہے۔ اس کی وجہ بھی اندرون سندھ میں روایتی وڈیرہ شاہی کا کلچر ہے۔ اسی طرح پنجاب کے جنوبی علاقوں میں خصوصاً راجن پور، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، میانوالی اور خوشاب وغیرہ میں بھی درمیانے طبقے کا سائز بہت چھوٹا ہے۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ ان اضلاع میں چھوٹے کاروباری طبقے کو مراعات دے۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت بھی ان علاقوں میں سرمایہ کاری کے لیے ٹیکس رجیم میں اصلاحات کرے تاکہ غیرملکی اور ملکی سرمایہ کار ان علاقوں میں سرمایہ کاری کرے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل