Loading
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دینے کا قانون فوری طور پر تبدیل کیا جائے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب مین حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا عالمی مارکیٹ کی قیمتوں سے تعلق نہیں بلکہ یہ حکومتی نااہلی اور غلط معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، لیوی ختم کرنے کے لیے جماعت اسلامی کی تکنیکی کمیٹی نے اپنی سفارشات حکومت کو پیش کردی ہیں جس میں شرح سود میں کمی کی تجویز بھی شامل ہے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت چاہے تو پارلیمنٹ کے ذریعے اسٹیٹ بینک کا قانون تبدیل کرسکتی ہے، پالیسی ریٹ کم کرنے کے لیے حکومت کو اسٹیٹ بینک سے مؤثر بات کرنی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو غلامی کا ذریعہ نہ بنائے، پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی سے حکومت کو تقریباً 600 ارب روپے کا فائدہ ہوگا جبکہ پالیسی ریٹ میں تین فیصد کمی سے حکومت کو تقریباً 1700 ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔
حکومت نے ایک سال میں عوام سے 1567 ارب روپے پٹرولیم لیوی وصول کی، پاکستان اپنے قرضوں پر سالانہ تقریباً 8 ہزار ارب روپے سود ادا کررہا ہے، شرح سود میں کمی سے قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ کم ہوگا، شرح سود کم ہونے سے بینکوں کے منافع میں کمی ہوسکتی ہے، بینک مالکان کا مفاد عوامی مفاد پر حاوی نہیں ہونا چاہئے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بینکوں اور حکومت کے گٹھ جوڑ نے عوام کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے، شرح سود کم کرنے سے مہنگائی بڑھنے کا حکومتی مؤقف درست نہیں، ملک پر ایک مخصوص طبقے کا قبضہ ہے جو قوم کی تقدیر کے فیصلے کرتا ہے، مخصوص طبقے کو ہر سطح پر مراعات اور فائدے دیئے جارہے ہیں۔
جماعت اسلامی اشرافیہ کے قبضے سے نجات کے لیے جدوجہد کررہی ہے، ہماری تحریک کا کوئی ذاتی یا سیاسی ایجنڈا نہیں، تمام سیاسی جماعتیں اختلافات ایک طرف رکھ کر عوامی مطالبات پر ساتھ دیں، 10 ستمبر کے مذاکرات کے نتائج دیکھ کر اسلام آباد مارچ کا اعلان کریں گے، اسلام آباد مارچ کے حوالے سے دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی مشاورت کریں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ صوبے بنانے کے لئے آئین میں طریقہ موجود ہے، اسی طریقہ کار پر عمل کیا جائے، صوبوں کے معاملات پر عوام کو تقسیم کرنا مناسب نہیں، حکمران عوام کو تعصب کی بنیاد پر تقسیم کرنے سے گریز کریں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اپنے اتحادیوں میں اتفاق نہیں تو قوم سے اتفاق رائے کیسے مانگا جارہا ہے؟، آئینی ترامیم پر پہلے سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کیا جائے، عوام کو آپس میں لڑانے کے بجائے اصل مسائل حل کیے جائیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل