Wednesday, September 09, 2026
 

ایران کا نئی آبی گزرگاہ کا اعلان؛ چابہار سے خلیج عمان اور بحیرۂ عرب تک حدود ہوگی

 



آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور عمان کے ساتھ آب گزرگاہ کی بحالی کے لیے جاری مذاکرات کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بڑا اعلان کردیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک نیا سمندری علاقہ قائم کرنے جا رہے ہیں۔ جس کا دائرہ ایران کے ساحلی شہر چابہار سے بڑھ کر خلیج عمان اور بحیرۂ عرب کے بعض حصوں تک پھیلایا جائے گا۔ حتمی حدود اور جغرافیائی نقاط بعد میں جاری کیے جائیں گے۔  پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ اس علاقے سے گزرنے والے کسی بھی بحری جہاز کو ایرانی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ترجمان پاسداران انقلاب نے کہا کہ مجوزہ محدود سمندری علاقے میں داخل ہونے یا وہاں سے گزرنے والے ہر بحری جہاز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ تاہم ایران نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ ان پابندیوں کی نوعیت کیا ہوگی اور انہیں عملی طور پر کس طریقے سے نافذ کیا جائے گا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں بحری کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان حالیہ دنوں میں بحری جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے واقعات ہوئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے گزشتہ اتوار کے بیان کے بعد ہوئی ہے۔ محسن رضائی کا مزید کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز سے باہر ایک نیا محدود سمندری علاقہ قائم کرے گا اور اس میں داخل ہونے والے کسی بھی جہاز کو ایرانی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔ ابتدائی بیان میں محسن رضائی نے مجوزہ علاقے کو امریکی بحری ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہوکر خلیج کے بعض حصوں تک پھیلانے کی بات کی تھی۔ تاہم اب پاسدارانِ انقلاب کے تازہ بیان سے اس منصوبے کا دائرہ خلیج عمان اور بحیرۂ عرب تک وسیع ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔ ایران اس کے ساتھ آبنائے ہرمز میں ایک نئے بین الاقوامی شپنگ کوریڈور کے قیام پر بھی عمان کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس نئے آبی راستے کے نقشے ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے متعلق ہیں اور اس کے انتظام میں ایران کا کردار ہوگا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا فیصلہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف حملے، دھمکیاں اور مبینہ تخریبی کارروائیاں روکنے سے مشروط ہے۔ دوسری جانب امریکا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے اور ایران کی تیل برآمدات روکنے کے لیے اپنی بحری موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ واضح رہے کہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آئی ہے جو روزانہ 100 جہاز سے کم ہوکر صرف چھ رہ گئی ہے جبکہ خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل