Thursday, September 10, 2026
 

کراچی؛ نجی اسپتال کے طبی عملے کی مبینہ غفلت، بچے کا ہاٹھ کاٹنا پڑا، مقدمہ درج

 



کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں پیر آباد پولیس نے نجی اسپتال کے طبی عملے کی مبینہ غفلت پر شیر خوار بچے کا ہاتھ کاٹنے کا مقدمہ نجی اسپتال کے ڈاکٹر سمیت دیگر طبی عملے کے خلاف بچے کے والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔ پیرآباد پولیس کی جانب سے درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ بچے کے ساتھ مبینہ غفلت برتنے کا واقعہ 31 اگست کو اورنگی ٹاؤن میں قائم نجی اسپتال میں پیش آیا تھا اور واقعے کا مقدمہ 336 اور 337 ایچ ون دفعات کے تحت 9 ستمبر کو درج کیا گیا۔ پولیس کے مطابق مدعی مقدمہ عزت اللہ نے بیان دیا ہے کہ 31 اگست کو میرے ایک ماہ کے بیٹے عظمت اللہ کی طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے قریب قائم نجی اسپتال میں شام 6 سے 7 بجے لے کر گیا جہاں ڈاکٹر نے بچے کو اینٹی بائیوٹک دینے کے لیے بائیں ہاتھ میں 3 نامعلوم اسٹاف صورت شناس کے ذریعے کینولا لگوا کر پٹی کر دی اور اس کے بعد 6 سے 7 بار کینولا میں انجکشن لگے۔ بچے کے والد نے بتایا کہ 4 دن بعد میں اپنے بیٹے کو جب دوبارہ نجی اسپتال لے کر گیا تو ڈاکٹر نے پٹی کھولی تو بچے کا ہاتھ مکمل سیاہ پڑگیا تھا، جس پر ڈاکٹر نے بروفین، پیناڈول اور دیگر ادویات دے کر کہا کہ یہ بچے کو دینا ٹھیک ہوجائے گا لیکن مجھے انفیکشن زیادہ ہوتا دکھائی دے رہا تھا جس پر میں اپنے بچے کو جناح اسپتال لے کر گیا تو ڈاکٹر نے چیک اپ کر کے بتایا کہ پہلے ڈاکٹر اور دیگر اسٹاف نے کینولا غلط لگایا جس کی وجہ سے انفیکشن ہوگیا اور بچے کا ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد میں اپنے بیٹے کو فوری طور پر دوسرے نجی میڈیکل کمپلیکس لے گیا جہاں ڈاکٹر نے بتایا کہ غلط کینولا لگنے کی وجہ سے انفیکشن ہوگیا ہے، بچے کی جان کو خطرہ ہے اور اس کی جان بچانے کی خاطر ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔ مدعی کے مطابق سرجری کر کے میرے بچے کا بائیں ہاتھ بازو تک نجی اسپتال کے ڈاکٹر اور دیگر نامعلوم اسٹاف کی غفلت و لاپروائی کی وجہ سے غلط کینولا لگانے پر کاٹنا پڑا لہٰذا اب میں رپورٹ درج کرانے آیا ہوں اور میرا دعویٰ نجی اسپتال کے ڈاکٹر اور دیگر نامعلوم اسٹاف صورت شناس کی غفلت و لاپروائی کی وجہ سے میرے بیٹے عظمت اللہ کے ہاتھ پر غلط کینولا لگانے اور اس کی وجہ سے میرے بیٹے کا ہاتھ کاٹنے کا ہے لہٰذا قانونی کارروائی کی جائے۔ پیر آباد پولیس نے بتایا کہ مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے جو اس حوالے سے مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل