Thursday, September 10, 2026
 

رواں برس اگست دنیا کا مشترکہ گرم ترین مہینہ قرار

 



اگست 2026 عالمی سطح پر ریکارڈ کیا جانے والا مشترکہ طور پر گرم ترین مہینہ بن گیا جب دنیا کے اوسط درجہ حرارت نے جولائی 2023 کے سابقہ ریکارڈ کو بھی چھو لیا۔ یورپی یونین کی موسمیاتی نگرانی سروس کوپرنیکس کے مطابق اگست میں عالمی اوسط سطحی درجہ حرارت 16.96 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو 1991 سے 2020 کی اوسط کے مقابلے میں 0.85 ڈگری زیادہ ہے۔  کوپرنیکس کے اعداد و شمار کے مطابق اگست کا درجہ حرارت صنعتی دور سے قبل 1850 سے 1900 کے اوسط کے مقابلے میں 1.65 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا۔ نومبر 2025 کے بعد یہ پہلا مہینہ ہے جب عالمی درجہ حرارت دوبارہ 1.5 ڈگری کی سطح سے اوپر پہنچا ہے۔ سمندروں کا درجہ حرارت بھی ریکارڈ سطح پر رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگست کے دوران قطبی علاقوں کے علاوہ دنیا کے سمندروں کی اوسط سطحی درجہ حرارت 21.07 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جو اگست کے لیے نیا ریکارڈ ہے۔ 24 اور 25 اگست کو سمندری درجہ حرارت کی روزانہ اوسط 21.11 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گئی جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ بحرالکاہل میں تیزی سے مضبوط ہوتا ایل نینو بھی سمندری درجہ حرارت میں اضافے کا اہم عنصر ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ غیر معمولی گرمی کی بنیادی وجہ طویل عرصے سے جاری انسانی سرگرمیوں، بالخصوص فوسل فیول کے استعمال سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہے، جبکہ ایل نینو نے گرمی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ یورپ میں شدید گرمی اور خشک سالی کوپرنیکس کے مطابق جون سے اگست 2026 تک کا عالمی موسمِ گرما بھی ریکارڈ کے اعتبار سے مشترکہ طور پر گرم ترین رہا، جبکہ مغربی یورپ نے اب تک کا گرم ترین موسمِ گرما دیکھا، جس نے 2003 کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔ گرمی کی لہر کے ساتھ برطانیہ، فرانس، ہنگری، رومانیہ اور سربیا سمیت کئی علاقوں میں شدید خشک سالی دیکھی گئی، جبکہ رائن اور ڈینیوب سمیت متعدد بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک کم رہی۔  واضح رہے کہ دنیا گزشتہ چند برسوں سے مسلسل غیر معمولی گرمی کا سامنا کر رہی ہے۔ جولائی 2023 کو اس سے قبل عالمی سطح پر گرم ترین مہینہ قرار دیا گیا تھا جبکہ 2024 مجموعی طور پر اب تک کا گرم ترین سال ریکارڈ ہوا۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل