Loading
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ، حال اور مستقبل کا تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دو ہمسایہ ممالک کا وجود محض جغرافیائی سرحد کا نام نہیں بلکہ ان کی تقدیریں، معیشتیں اور سیکیورٹی کا نظام ایک دوسرے کے ساتھ مکمل طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
2001 میں امریکا میں 9/11 کے واقعات اور اس کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کا حملہ خطے کی تاریخ کا ایک اور بڑا موڑ ثابت ہوا، جس نے پاک افغان تعلقات کی پوری ہیئت کو بدل کر رکھ دیا۔ پاکستان نے امریکا کا اتحاد اختیار کیا، افغانستان کی جنگ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور شہروں تک پھیل گئی۔ پاکستان کے اندر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہوں کا ابھار ہوا، جنھوں نے پاکستان کے خلاف ایک خونی جنگ کا آغاز کر دیا۔
پاکستان نے اگلی دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف بے شمار ملٹری آپریشنز کیے، جس میں اسی ہزار سے زائد فوجی اہلکار، پولیس افسران، اور عام شہری شہید ہوئے جب کہ معیشت کو اربوں ڈالر کا ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ اس عرصے میں کابل میں قائم ہونے والی امریکی سرپرستی والی حکومتوں کے ساتھ بھی اسلام آباد کے تعلقات میں شدید تناؤ رہا۔
2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے اچانک انخلا اور کابل پر افغان طالبان کے دوبارہ قبضے نے پاکستان میں یہ امید پیدا کی کہ اب شاید دہائیوں سے جاری سکیورٹی خدشات کا خاتمہ ہوگا اور ایک ایسی حکومت کابل میں موجود ہوگی جو پاکستان کی سلامتی اور سرحدی مفادات کو ترجیح دے گی۔
پاکستان نے خطے اور عالمی برادری میں افغان عبوری حکومت کے ساتھ روابط کی حمایت کی اور افغانستان پر عائد معاشی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے آواز اٹھائی تاکہ وہاں کوئی نیا انسانی بحران نہ جنم لے۔ پاکستان کی خواہش تھی کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات مضبوط تر ہوں اور دونوں ملک مل کر علاقے کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں مگر چند ہی برسوں میں حالات نے ایک بار پھر مایوس کن رخ اختیار کر لیا اور افغانستان کی غلط پالیسیوں اور دہشت گردوں کی حمایت کے باعث تعلقات شدید ترین بحران کا شکار ہو گئے۔
موجودہ وقت میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے بڑا اور بنیادی تنازع تحریک طالبان پاکستان کا افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر حملے کرنا ہے۔ اسلام آباد کا موقف بالکل واضح اور دوٹوک ہے کہ ٹی ٹی پی کے شدت پسند افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کا استعمال کرتے ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں فائرنگ، بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور افغان عبوری حکومت ان کے خلاف مؤثر اور عمل درآمد کے قابل اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دوسری جانب کابل حکومت قطعی تعاون نہیں کر رہی اور پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کی سہولت کاری ایک ایسی رکاوٹ بن چکی ہے جسے ختم کیے بغیر بہتری کی جانب پیش رفت ناممکن نظر آتی ہے، کیونکہ پاکستان کے لیے قومی سلامتی کسی نظریاتی بحث کا نام نہیں بلکہ اپنے شہریوں اور ملکی سلامتی کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔
اس کے علاوہ افغان مہاجرین کا معاملہ بھی آج کے حالات میں ایک حساس رخ اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان کئی دہائیوں تک غیر معمولی انسانی میزبانی کرنے کے بعد اب غیر قانونی اور غیر دستاویزی طور پر مقیم افراد کی باعزت واپسی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے پاکستان اس قدم کو قانون کی حکمرانی اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق قرار دیتا ہے ۔ یہ بات بھی آشکار ہوئی ہے کہ دہشت گرد منصوبہ بندی کے تحت افغان مہاجرین کے کیمپوں میں پناہ لیتے ہیں اور انھیں وہاں سے حاصل ہونے والی سہولت کاری کے باعث پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
آگے بڑھنے کے لیے اور مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک دائمی، شفاف اور قابلِ اعتماد مشترکہ سیکیورٹی و سفارتی مذاکراتی فریم ورک تشکیل دیا جائے۔ سرحدی کشیدگی، دہشت گرد حملوں کے خاتمے اور انٹیلی جنس شیئرنگ کی بنیاد پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ افغان عبوری حکومت کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ وہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف اپنی سرزمین کا استعمال روک کر ہی بین الاقوامی اور علاقائی قبولیت حاصل کر سکتی ہے، کیونکہ پاکستان کے اندر ابتر سیکیورٹی صورتحال بالآخر افغانستان کے اپنے استحکام پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔ افغان حکومت کی جانب سے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کے قیام اور پاکستان کے لیے دہشت گردی کے مسائل پیدا کرنے سے خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا اور نہ ترقی کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔
اسی طرح افغانستان کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کے تنازع کو ہوا دینے سے دو طرفہ تعاون کے راستے میں دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔ سرحدی نظم و نسق (Border Management) کو جدید، اسمارٹ بنانے سے خاندانی رابطے، تجارت اور عوامی آمدورفت میں آسانی پیدا ہو گی اور دہشت گرد عناصر کے راستے روکے جا سکیں گے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ کابل حکومت سیکیورٹی معاملات کو بہتر بنا کر ایک جامع اقتصادی اور عوامی حکمتِ عملی میںڈھالے اور طویل المدتی جغرافیائی شراکت داری کو اہمیت دے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل