Thursday, September 10, 2026
 

ریلیف نہ مانگو

 



جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہونے کے بعد دوسرے دور کے لیے جماعت نے حکومت کو چھ تجاویز پیش کیں جس پر حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اگر کوئی تجویز ناقابل عمل ہوئی تو جماعت اسلامی کے سامنے رکھی جائے گی۔ جماعت کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔ جس دن یہ مذاکرات ہوئے اسی روز حکومت نے پٹرول 12.90 روپے اور ڈیزل 3.72 پیسے مہنگا کرنے کا اعلان کیا، اگلے روز مزید مہنگا کرتے ہوئے پٹرول 364 روپے کردیا گیا ،جب کہ عالمی سطح پر پٹرولیم کے نرخ اتنے نہیں بڑھے جتنے اوگرا نے بڑھا دیے ہیں۔ دونوں طرف سے مذاکرات کے دوران احتجاج و دھرنا ہی نہیں بلکہ اوگرا کی طرف سے پٹرولیم نرخ بڑھانے کا سلسلہ بھی جاری رہا اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل ہونا بھی ریکارڈ ہوا جس پر اوگرا نے نرخ تو بڑھانے ہی تھے مگر حکومت نے لیوی برقرار رکھی جس کے خاتمے کے لیے یہ مذاکرات جاری ہیں۔  ایک شعر ہے کہ’’ ان ظالموں سے انصاف نہ مانگو، اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو۔‘‘ یہ شعر لیوی کے خاتمے کے جماعت اسلامی کے جاری احتجاج و دھرنے پر فٹ آتا ہے کیونکہ جماعت نے لیوی ختم کرنے کے لیے احتجاج و دھرنا شروع کیا تھا جو حکومت وصول کر رہی ہے جس کو جماعت سرکاری بھتہ قرار دے رہی ہے جب کہ حکومت پٹرولیم نرخوں میں اضافہ عالمی مارکیٹ میں اضافے کے حساب سے کرتی ہے مگر یہ اضافہ اتنا زیادہ ہوتا ہے جتنا اضافہ عالمی مارکیٹ میں نہیں ہوتا۔ اس طرح ملک میں فی لیٹر پٹرولیم مصنوعات پر مزید لیوی بھی بڑھ جاتی ہے جس میں کمی وفاقی حکومت کا اپنا اختیار ہے اور لیوی حکومت کی کمائی کا ذریعہ بھی ہے۔ جماعت اسلامی نے لیوی کے خاتمے کی مہم چلائی ہوئی ہے جب کہ حکومت کئی ماہ سے بجلی و گیس انتہائی مہنگی ہونے کے ساتھ بجلی و گیس پر ایک اور نیا ٹیکس فکس چارجز کے نام سے وصول کر رہی ہے جس پر جماعت اسلامی کی نظر شاید نہیں پڑی جس پر اگر جماعت احتجاج کرتی تو حکومت نے فکسڈ چارجز مزید بڑھا دینے تھے۔ سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ حکومت لیوی تو کیا ختم کرتی، لیوی تو پٹرولیم مصنوعات کے عالمی نرخ بڑھنے سے خود بخود مزید بڑھ رہی ہے جو حکومت کو فی لیٹر وصول ہو رہی ہے۔ اگر لیوی کے خاتمے میں ناکامی کے بعد آٹے کی قیمت کم کرانے کے لیے احتجاج شروع ہوا تو خطرہ ہے کہ حکومت لیوی کی طرح آٹے کی قیمت بھی بڑھا دے گی۔حکومت کی مہربانی سے ملک میں آٹا پہلے ہی سب سے مہنگا فروخت ہو رہا ہے اور عوام خوفزدہ ہیں کہ آٹے کی قیمت کم کرانے کے لیے اگر احتجاج کیا گیا تو آٹا مزید مہنگا ہو جائے گا۔ جماعت اسلامی اور مرکزی مسلم لیگ کے سوا پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، جے یو آئی جیسی بڑی جماعتوں نے نہ حکومت کی طرف سے جبری لیوی وصولی پر آواز اٹھائی نہ بجلی و گیس کے مہنگے ہونے اور ان کے بلوں پر حکومت کی طرف سے عائد کیے گئے فکسڈ چارجز وصولی پر احتجاج کیا بلکہ سب نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اپوزیشن کی ان جماعتوں نے احتجاج کا نتیجہ دیکھ لیا ہے، اس لیے وہ عوام کے ان اہم مسائل پر بالکل توجہ نہیں دے رہیں حالانکہ یہ جماعتیں اپوزیشن میں ہوتے ہوئے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں عوام کے حق میں آواز اٹھا سکتی ہیں مگر وہ بھی مکمل خاموش ہیں جب کہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ملک میں عوام نے ووٹ موجودہ حکمرانوں کو نہیں تحریک انصاف کو دیا تھا۔ پیپلز پارٹی کو شکایت ہے کہ پنجاب میں اس کے ووٹ چرا کر مسلم لیگ (ن) کو جتوایا گیا تھا جب کہ مسلم لیگ (ن) کو ایسی کوئی شکایت نہیں اور وفاق میں پیپلز پارٹی کی حمایت سے (ن) لیگ کی حکومت قائم ہوئی تھی جس کے ڈھائی سال بعد پیپلز پارٹی اور سندھ کے وزیروں کو یاد آیا کہ وفاق میں فارم 47 والے حکومت کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کراچی میں کہا کہ کراچی سے پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی کی بیس اور سندھ اسمبلی کی چالیس نشستیں چھینی گئیں ، وفاق اور باقی 3 صوبوں میں پی ٹی آئی کو ہروایا گیا تھا، وفاق اور تین صوبوں میں پی ٹی آئی کی حکومتیں نہیں بننے دی گئی تھیں اور عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیے تھے تو پی ٹی آئی کو عوام کے دیے گئے ووٹوں کے جواب میں عوام کے مسائل پر آواز اٹھانی چاہیے مگر وہ بھی عوام کی بجائے صرف اپنے بانی سے وفا نبھا رہی ہے اور ملک میں اس کے لیے صرف بانی کی رہائی ہی مسئلہ ہے اس لیے اس نے جماعت اسلامی کے لیوی کے خلاف دھرنے و احتجاج کی حمایت نہیں کی حالانکہ جماعت اسلامی کے پی میں پی ٹی آئی کی پہلی حکومت میں شامل رہی ہے اور پی ٹی آئی کی حامی بھی رہی ہے۔  جماعت اسلامی کی سندھ اسمبلی میں صرف ایک نشست ہے مگر وہ ملک گیر احتجاج کر رہی ہے مگر کہیں کوئی اپوزیشن جماعت اسلامی کے احتجاج میں ساتھ نہیں دے رہی۔ جے یو آئی بھی کے پی میں جماعت اسلامی کی مدد سے حکومت کر چکی ہے مگر حکومت پر مہنگائی پر برائے نام تنقید کی جاتی ہے اور نہ اسمبلیوں میں مہنگائی کے خلاف کوئی موثر آواز اٹھا رہا ہے۔ اپوزیشن مسلم لیگ (ن) کی دونوں حکومتوں کو تسلیم ہی نہیں کرتی، اس لیے وہ حکومت سے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ بھی نہیں کر رہی۔ (ن) لیگ کو عوام کا احساس ہوتا تو وہ عوام کا خیال کرتی اور عوام پر مہنگائی کا عذاب نازل نہ کرتی اور اسی لیے عوام بھی ریلیف ملنے کی توقع کر رہے ہیں، نہ اپوزیشن کی طرح جماعت اسلامی کا ساتھ دے رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل