Thursday, September 10, 2026
 

مودی کا ہندوستان

 



انگریزی فلم ’’دی ڈارک نائٹ‘‘ کا ایک مشہور مکالمہ ہے کہ ’’یا تو تم ایک ہیرو کی موت مرتے ہو، یا پھر اتنی لمبی زندگی پاتے ہو کہ خود کو ولن بنتے دیکھو۔‘‘ آج اگر اس مکالمے کی عملی تصویر دیکھنی ہو تو شاید اس کا نام نریندر دامودر داس مودی ہے۔ گجرات کی وزارتِ اعلیٰ سے ہندوستان کی وزارتِ عظمیٰ تک مودی کا سفر بلاشبہ ایک غیرمعمولی سیاسی سفر ہے، لیکن اب یہی سفر دی ڈارک نائٹ کے مذکورہ مکالمے کی عملی تعبیر بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ کبھی عالمی سیاست میں ہندوستان کے بڑھتے ہوئے کردار، اس کی معاشی ترقی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی بات ہوتی تھی، لیکن آج ہندوستان کے گرد سیاسی اور سفارتی بادل پہلے سے کہیں زیادہ گہرے دکھائی دیتے ہیں۔ اندھیرے کا المیہ یہ نہیں ہوتا کہ راستہ نظر نہیں آتا، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کہیں راستہ ہی غلط نہ ہو اور بعض اوقات یہ پتہ چلتے چلتے بہت دیر ہوجاتی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہندوستان خود کو عالمی سیاست میں ایک بڑے اور وسیع کردار کے امیدوار کے طور پر پیش کر رہا تھا۔ سلامتی کونسل کی مستقل نشست کے لیے اس کی خواہش کو بھی عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیا جارہا تھا۔ آزادی کے بعد ہندوستان کا ریکارڈ اقلیتوں کے حوالے سے کبھی بھی مثالی نہیں رہا لیکن کانگریس کی قیادت میں اس نے بظاہر سیکولرازم، جمہوریت اور کثرتیت کو اپنی ریاستی شناخت کا حصہ ضرور بنائے رکھا۔ دنیا نے بھی بڑی حد تک اسی ہندوستان بیانیے کو قبول کیا لیکن مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہندوستانی سیاست میں ہندوتوا کو پہلے سے کہیں زیادہ مرکزی حیثیت حاصل ہوئی۔  ہندوتوا محض مذہبی تصور نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی اور قوم پرستانہ تصور بھی ہے، جس میں ہندوستانی قومیت کو ہندو تہذیبی شناخت کے گرد منظم کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب عالمی حالات نے بھی مودی کو غیرمعمولی سیاسی سہارا فراہم کیا۔ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں امریکا اور دیگر مغربی طاقتوں کے لیے ہندوستان کی اہمیت بڑھتی گئی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جس مودی کو کبھی امریکا ویزا دینے سے بھی گریزاں تھا، بعد میں وہی مودی امریکی قیادت کے ساتھ غیرمعمولی قربت کا مظاہرہ کرتا دکھائی دیا۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان امریکی توجہ اور ایک فون کال کے انتظار میں تھا۔  مودی سے غلطی کہاں ہوئی؟ میرے خیال میں مودی اور ہندوستان سے سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ انھوں نے اپنی ہی بنائی ہوئی سیاسی اور ابلاغی تصویر کو حقیقت سمجھ لیا۔ بالی ووڈ کے ذریعے انھوں نے اڑی، دی سرجیکل اسٹرائیک، بارڈر 2 اور اس قبیل کی دوسری فلموں پر خود ہی نہ صرف یقین کر لیا بلکہ یہ بھی مان لیا کہ میدان جنگ میں ایسا ہی ہوگا۔ طاقت کا تاثر اور حقیقی طاقت دو مختلف چیزیں ہیں۔ کسی ملک کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، معیشت یا فوج میں نہیں ہوتی بلکہ اس کی سفارت کاری، عالمی ساکھ، داخلی اتحاد، اداروں اور معاشرتی ہم آہنگی میں بھی ہوتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں بھی ہندوستان نے شاید اپنی طاقت اور پاکستان کی عسکری قوت کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ پلوامہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھنے والی کشیدگی نے بالآخر مئی 2025 کے فوجی تصادم کی شکل اختیار کی اور ہندوستان کو ہزیمت برداشت کرنی پڑی۔ 10 مئی 2025 کا معرکہ ہندوستان کے لیے یہ یاد دہانی ضرور تھا کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اتنا یک طرفہ نہیں، جتنا شاید نئی دہلی میں سمجھا جا رہا تھا، ہاں اگر یکطرفہ تھا تو جذبے میں تھا جو پاکستان کے حق میں جاتا ہے۔ اس کے بعد خطے کی سفارتی حرکیات میں بھی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ پاکستان نے کئی محاذوں پر اپنی سفارتی سرگرمی اور عالمی رابطوں کو بڑھایا اور ایران امریکا تنازعے میں تو پاکستان کا کردار بہت کھل کر دنیا کے سامنے آیا، جب کہ ہندوستان کو اپنی پالیسیوں کے باعث بعض نئے سفارتی سوالات کا سامنا کرنا پڑا اور مختلف وجوہات کی بنا پر ہندوستان موجودہ مشرق وسطی کے مسئلے میں کسی بھی قسم کے کلیدی کردار سے یکسر محروم رہا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی ملک صرف طاقت کے اظہار سے عالمی طاقت نہیں بنتا۔ عالمی طاقت بننے کے لیے اعتماد پیدا کرنا پڑتا ہے، اتحادی بنانا پڑتے ہیں اور خاص کر کے پڑوسیوں سے تو بہتر تعلقات کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور اپنے داخلی تنوع کو کمزوری کے بجائے طاقت میں تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ جو شخص خود کو ہیرو سمجھتے ہوئے اقتدار میں داخل ہوا تھا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تاریخ اسے ایک ایسے حکمران کے طور پر یاد کرے جس نے اپنی ہی بنائی ہوئی سیاست کے ہاتھوں اپنے ملک کی اصل طاقت کو کمزور کردیا۔ ہندوستان کا مستقبل ابھی لکھا نہیں گیا لیکن اگر مودی اور ہندوتوا کی سیاست اسی راستے پر آگے بڑھتی رہی تو ہندوستان کو جس اندھیرے کا سامنا ہوسکتا ہے، وہ کسی فلم کا تخیل نہیں بلکہ ایک حقیقی سیاسی امکان ہوگا۔ آج نہیں تو کل ہندوستانی عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جنوبی ایشیا کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں یا وہ اپنے تمام پڑوسیوں سے ہر وقت برسر پیکار رہنا چاہتے ہیں اور ان کا یہ فیصلہ ان کے اپنے مستقبل اور ہندوستان کی وحدت کا بھی تعین کرے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل