Thursday, September 10, 2026
 

امریکا؛ بیمار بزرگوں کے نام پر 64 ملین ڈالر کا فراڈ؛ پاکستانی خاتون کو قید کی سزا

 



امریکا میں پاکستانی خاتون ذکیہ خان کو میڈیکیڈ پروگرام سے کروڑوں ڈالر کے فراڈ اور غیر قانونی کک بیکس کے جرم میں 6 سال 4 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔ امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک کی وفاقی عدالت نے ذکیہ خان کو تقریباً 64 ملین ڈالر کے فراڈ اسکیم میں مرکزی کردار ادا کرنے پر سزا سنائی۔ عدالت نے انہیں 56 ملین ڈالر سے زائد زرِتلافی ادا کرنے اور فراڈ سے حاصل کیے گئے 5 ملین ڈالر کے اثاثے ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔  امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق ذکیہ خان بروکلین کے کونی آئی لینڈ میں دو سوشل ایڈلٹ ڈے کیئر مراکز چلاتی تھیں جہاں بزرگ اور دیگر میڈیکیڈ مستحقین کو خدمات فراہم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ایک ہوم ہیلتھ کیئر کمپنی بھی چلاتی تھیں۔ تحقیقات کے مطابق 2017 سے جولائی 2024 کے دوران ذکیہ خان اور ان کے ساتھیوں نے ایسے مارکیٹرز کے ذریعے میڈیکیڈ مستحقین کو ڈے کیئر مراکز میں رجسٹر کرایا جنہیں اس کام کے بدلے رشوت اور کک بیکس دی جاتی تھیں۔ حکام کے مطابق مستحقین کو بھی نقد رقم اور دیگر مراعات دی جاتیں تاکہ وہ جعلی حاضری شیٹس مکمل کریں، جس کے بعد ان افراد کی جانب سے حاصل نہ کی جانے والی خدمات کے عوض میڈیکیڈ کو بل بھیجے جاتے تھے۔  64 ملین ڈالر کے جعلی بل عدالتی دستاویزات کے مطابق ذکیہ خان کے دونوں ڈے کیئر مراکز نے 2017 سے 2024 کے دوران میڈیکیڈ کو تقریباً 64 ملین ڈالر کے جعلی بل بھیجے، جن میں سے حکومت نے تقریباً 56 ملین ڈالر ادا کیے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم کو مختلف کاروباری اداروں کے ذریعے چھپایا اور منتقل کیا جاتا رہا، جبکہ اس رقم سے مارکیٹرز اور میڈیکیڈ مستحقین کو غیر قانونی ادائیگیاں بھی کی گئیں۔ گھر سے رقم، سونا اور جائیدادیں برآمد امریکی حکام نے ذکیہ خان کے گھر کی تلاشی کے دوران نقد رقم، سونے کے زیورات اور دیگر قیمتی اثاثے برآمد کیے۔ عدالت نے سزا کے ساتھ فراڈ سے حاصل کیے گئے 5 ملین ڈالر کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم بھی دیا، جس میں دو جائیدادیں اور نقد رقم و سونا شامل ہیں۔ ذکیہ خان نے اگست 2025 میں صحت سے متعلق فراڈ، امریکی حکومت کو دھوکا دینے اور غیر قانونی کک بیکس کی سازش کے الزامات میں جرم قبول کیا تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل