Saturday, September 12, 2026
 

انصاف کی بات

 



بے انصافی ہے، بہت بے انصافی ہے اور جب یہ بے انصافی ’’انصاف کے گھر‘‘یعنی تحریک انصاف میں ہو تو اور بھی زیادہ بڑی ہوجاتی ہے۔ اور مزید بڑی یوں ہوگئی ہے کہ وزیراعلیٰ صاحب نے کھانے کے دسترخوانوں عرف وزارتوں کو اپنی ڈب میں دبا رکھا ہو اور زیادہ تر مستحقین یونہی خشک ہونٹوں سے’’بانی کی رہائی‘‘ کی قوالیاں الاپ رہے ہوں۔ اپنے لوگوں کو اتنی اتنی بوٹیاں اور ہمیں صرف سوکھے چاول؟ بے انصافی ہے، بہت بے انصافی ہے ۔ آخر ہم بھی’’منتخب نمائندے‘‘ عرف جمہوری شہزادے ہیں، ہم بھی مینڈیٹ کا گل بگاولی رکھتے ہیں۔ آخر ہم کب تک نوکریوں، تبادلوں اور تھانوں پر گزارہ کرتے رہیں گے۔ کل پھینکے ہیں اوروں کی طرف باغ ثمر بھی اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی ہم تحریک انصاف میں نہیں ہیں لیکن بات انصاف کی کریں گے۔ پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ تلوار چلاؤ تو اپنوں کے لیے۔لیکن بات کرو تو خدا لگتی کرو، جیسے قربانی اللہ کے لیے اور کھال بانی کے کینسر ہستپال کے لیے۔ اس لیے کہیں گے کہ بے انصافی ہے اور بہت زیادہ بے انصافی ہے، اب صورت حال تو ویسی ہی ہے جو ایک انار اور سو بیماروں کی ہوتی ہے بلکہ پانچ سو بیماروں والی کہیے کہ ہر بیمار کے کم سے کم چار تیماردار یعنی وغیرہ وغیرہ بھی ہوتے ہیں چنانچہ انصاف کا تقاضا ہے کہ سب کو۔ سب کچھ پرکھلا چھوڑ دیا جائے یعنی سب کو وزیر یا مشیر بنایا جائے، یہ ادھر ادھر کی اسٹینڈنگ، سلیپنگ اور واکنگ کمٹیوں سے کام چلنے والا نہیں۔اور وزیر سے یا مشیر ومعاون سے’’کم‘‘ پر کوئی بھی راضی ہونے والا نہیں، سرکاری محکموں اور اداروں کی وزارتوں کے بجائے ہر حلقہ انتخاب کا منتخب شہزادہ وزیر مقرر کیا جائے۔ اس میں بھی کچھ مسائل ہوں گے، ہر حلقہ انتخاب اتنا بارآور اور ثمر بار نہیں ہوتا۔اس موقع پر ہمیں ایک تقریب یاد آتی ہے، پشاور میں ایک خاص کمیونٹنی نے ایک ڈنر کا انتظام کیا تھا اور انھوں نے دعوت ناموں کے حساب سے کھانے کا انتظام بھی کیا تھا لیکن ان کو پتہ نہیں تھا کہ ہر دعوت نامے کے ساتھ چار پانچ’’وغیرہ‘‘ بھی آئیں گے جن میں طرح طرح کے’’معزز‘‘ لوگ بھی ہوتے ہیں۔ ایک وسیع لان میں ایک لمبی میز پر کھانے کے چمکدار ٹریز رکھے ہوئے تھے، چمچوں کو پلیٹوں کے ساتھ سجایا گیا تھا، پھر کھانے کی ٹریز میں ’’مال و متاع‘‘ بھرنے کے بعد لوگوں کو’’بزن‘‘ کہا گیا تو لوگ یوں ٹوٹ پڑے جیسے مفتوح شہر پر فاتح لشکر ٹوٹ پڑتا ہے۔ تھوڑی دیر میں برتن خالی ہوگئے تو انتظامیہ کے آدمی بڑے بڑے تھالوں میں مزید مال غنیمت لاکر برتنوں میں بھرنے لگے۔ پھر اچانک نہ جانے کیسے ہوا کہ لوگ راستے میں کھانا لانے والوں پر ٹوٹ پڑنے لگے۔ایک ساتھ کئی لوگ حملہ آوار تو تھال کھینچا تانی میں گر پڑتے، کچھ لوگ زمین پر گرے ہوئے مال غنمیت پر بھی جھپٹ پڑتے، یوں آہستہ آہستہ لوگ اس مقام تک پہنچ گئے جہاں کھانا پکنے کا انتظام تھا، تھوڑی دیر میں دیگ، دیگچے اور پتیلے بھی خالی ہوگئے۔ لوگ کھانے کے ساتھ چھوٹے موٹے برتن بھی لے اڑے تھے۔ہم بھی مدعو تھے لیکن اس گھمسان کے رن میں اترنے کا حوصلہ نہیں ہوا ، اس لیے سافٹ واٹر کی ایک بوتل جو کسی نے دی اسے گھٹک کر گلے سے اتارا ، یوں نہار منہ واپس آئے۔ ہر قدم پر ادھر مڑ کے دیکھا ان کی محفل سے ہم اٹھ تو آئے سب کو اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں وزیر مشیر و معاون بنانے سے کچھ ایسی ہی صورت حال بھی پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ ہر جمہوری شہزادہ اکیلا تو نہیں ہوتا۔ ہر ایک کے ساتھ پوری ’’کٹ‘‘ بھی ہوتی ہے لیکن کم ازکم موجودہ صورت حال سے بُری حالت تو نہیں ہوگی کیونکہ اب تو مال غنیمت صرف لوٹا ہی نہیں جارہا ہے بلکہ بیچا بھی جاریا ہے،نیلام بھی ہورہا ہے۔ نشمین اک جو غم ہوتا تو کیا غم تھا یہاں تو بیچنے والوں نے گلشن بیچ ڈالا ہے اگر کسی کو یہ تشویش ہو کہ’’کالیے‘‘ یعنی کالانعام کا کیا بنے گا تو فکر ناٹ۔ وہ تو لٹنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں، اس طرف ہو یا اس طرف۔ چاقوخربوزے پر گرے یا خربوزہ چاقو پر،کٹنا تو بہرحال خربوزے کو ہوتا ہے۔ جب سے تو نے مجھے’’ خربوزہ‘‘ بنا رکھا ہے چاقو ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے بہرحال یہی ایک حل ہے، سارے منتخب جمہوری شہزادوں کو ،مطمئن کرنے کا۔ آخر سب ہی تو منتخب ہوکر آئے اور سب ہی کا مقصد بانی کی رہائی کے لیے جدوجہد کرنا ہے بلکہ بانی کی رہائی کے لیے جدوجہد میں جان سے گزرنا ہے۔ اب تک اگر یہ جدوجہد کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوئی تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ درمیان میں اختلافات، شکایات اور تحفظات کے روڑے اٹک جاتے تھے لیکن اگر ہمارے مشورے پر عمل کیا گیا اور سارے منتخب جمہوری شہزادے مطمئن کردیے گئے تو دیکھیے کہ کس جوش و خروش سے بانی کی رہائی کے لیے طوفان اٹھتا ہے پھر دیکھیے انداز گل افشانی’’ گفتار‘‘ رکھ دے کوئی پیمانہ وصہبا مرے آگے

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل