Loading
آزادی کے بعد کیا ہم آئین دینے کے قابل تھے؟ کیا وجوہات ہیں کہ ہندوستان کا آئین ہمیشہ نافذالعمل رہتا ہے، اس کو تحلیل نہیں کیا جا سکتا، مکمل طور پر معطل یا منسوخ نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان کا آئین اس کے برعکس معطل بھی ہوا، منسوخ بھی ہوا اور تحلیل بھی کیا گیا۔ 1947ء آزادی سے پہلے ہم بھی ہندوستان تھے، پھر ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ اور اب بھی جو آئینی حکومت ہے، وہ ہے بھی یا نہیں؟ یا پھر سرِپردہ کوئی اور اور پس پردہ کوئی اور ہے؟
اس بات کا ایک آسان سا جواب بھی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں وہی فرق ہے جو کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان تھا۔ جو منظر بنا وہ یہ تھا کہ مغربی پاکستان میں مسلم لیگ کی مضبوط جڑیں نہ تھیں۔ صوبہ سرحد میں سرخ پوش، قبائلی سردار، مشر اور خوانین تھے، بلوچستان میں بھی قبائلی نواب اور سردار تھے، پنجاب میں بھی نواب، سردار تھے جو یونینسٹ پارٹی میں تھے۔ سندھ میں بھی گدی نشینوں، پیروں اور وڈیروں کا راج تھا۔ مغربی پاکستان کے یہ انگریز سرکار کے پروردہ طبقے مسلم لیگ میں شامل ہوگئے کیونکہ اقتدار اس جماعت کے پاس آگیا تھا۔
آزادی کے بعد سندھی ہندو کراچی چھوڑنے کے لیے آمادہ نہ تھے، انھیں یہاں سے زبردستی نکالا گیا۔ وزیر ِاعلیٰ ایوب کھوڑو تھے، انھوں نے اس بات کی سخت مخالفت کی اور بدلے میں انھوں نے اپنی وزارت گنوا دی۔مولانا عبدالکلام آزاد تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان جناح کی وجہ سے نہیں بلکہ نہرو کی ہٹ دھرمی سے وجود میں آیا ہے۔
آخری وقت تک جناح یہ سمجھتے رہے کہ کانگریس ان کے چودہ نکات پر منظوری دے گی اور بٹوارہ نہیں ہوگا۔ لیکن نہرو، گاندھی اور مولانا آزاد نے ایسا نہ ہونے دیا۔ مسلم لیگ قیادت اتر پردیش اور بنگال سے تھی۔ شہید سہروردی، فضل حق ، خواجہ ناظم الدین اور نورالامین جیسے لوگ بنگال سے تھے ۔ جب کہ لیاقت علی خان یوپی کی قیادت کررہے تھے۔
قیام پاکستان کے وقت ایک ایسا موڑ آیا جہاں سے خرابی کے راستے کھلے، اگر مسلم لیگ کی قیادت فیصلہ کرتی کہ ڈھاکہ کو پاکستان کا دارالخلافہ بنایا جائے تو شاید صورتحال مختلف ہوجاتی۔ ادھر سندھ میں جی ایم سید صاحب مسلم لیگ سے علیحدہ ہ چکے تھے ۔
دوسری طرف مشرقی پاکستان میں شہید سہروردی کو پارٹی عہدے سے ہٹا دیا گیا اور نورالامین کو مشرقی پاکستان کا وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔ صوبائی اسمبلیوں سے وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا اختیار چھین لیا گیا، اردو کو قومی زبان کے طور پر نافذ کیا گیا۔ بنگالی ایک دم سے پاکستان کے خیال سے اجنبی ہو گئے۔ اس طرح سے ون پارٹی رول کا تصور پیدا ہوا۔
غلام محمد جیسے بیوروکریٹ سامنے آئے۔ پھر لیاقت علی خان کو ایک سازش کے تحت راولپنڈی میں ایک بھرے جلسے میں دوران تقریر قتل کردیا، قاتل ایک افغان تھا اور اس وقت کی انتظامیہ نے قتل کے تمام شواہد مٹا دیے۔ پھر مشرقی پاکستان میں عوامی مسلم لیگ بنی۔ ریاستی انتخابات میں مسلم لیگ کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ صوبائی اسمبلیوں کی تین سو نشستوں میں سے دس نشستیں بہ مشکل حاصل کیں، وزیر ِاعلیٰ نورالامین اپنی آبائی نشست سے بھی ان انتخابات میں ہار گئے۔
مسلم لیگ پر بیوروکریسی کا قبضہ ہو گیا۔ پھر آئے جنرل ایوب صاحب، وہ کیا کرتے؟ یہاں پر کیلسن کی Grand Norm کی تھیوری آئی، کیونکہ حقائق کچھ اس طرح سے ترتیب میں آئے۔
آئین کے فلسفے کے ماہر فلاسفر Han Kelsen، ان کی نظریہ ضرورت کی تھیوری جس تھیوری سے جنم لیتی ہے، وہ ہے Grand Norm۔ بنیادی طور پر وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آئین میں Grand Norm ہوتا ہے، یعنی جو بھی روایات یا پریکٹس کسی معاشرے یا ریاست میں ہوتی ہے، اس میں سب سے بڑی روایت آئین خود ہے اور باقی تمام روایات (Norms) قوانین کے ماتحت ہوتے ہیں۔ کیلسن یہ کہتے ہیں کہ Grand Norm یعنی آئین ان کی تاریخ اور حقائق کا تسلسل ہوتا ہے۔
آٹھویں صدی میں جب رومن ایمپائر نے برطانیہ میں قانون نافذ کیا، وہ کامن لاء جس میں وہاں کی مقامی روایات اور کچھ منطق ڈال کر مرتب کیا گیا، ضروری نہیں کہ قانون انسانی حقوق کے عین مطابق بنا ہو، وہ اس لیے کہ آگے جاکر آٹھ سو سال بعد برطانیہ میں کورٹ آف چانسری بنی جو equity پر مبنی تھی، یعنی جو چیز انصاف سے قریب ہو فیصلہ اس کے مطابق کیا جائے، نہ کہ کامن لاء کے تحت۔ کرام ویل کے مارشل لا کے بعد، انگلستان میں غیر تحریری آئین Grand Norm مرتب ہوا۔ ہمارے پاس GI Act of India, 1935 گرانڈ نارم تھا۔ گورنر کا عہدہ بڑا تھا اور وزیر ِاعظم کا عہدہ چھوٹا۔
جسٹس منیر GI Act of India, 1935 پر صحیح تھے۔ مولوی تمیز الدین کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے GI Act of India, 1935 کے تحت جب سمجھا کہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوگا تو انھوں نے equity پر فیصلہ کیا۔ آگے جاکر جسٹس منیر اپنی بات پر قائم نہ رہ سکے اور ڈوسو کیس میں کیلسن کا نظریہ ضرورت اپنا لیا ۔
پاکستان میں جو دو آئین بنے، 1956ء کا آئین اور 1962ء کا آئین، وہ گرانڈ نارم نہیں بن پائے۔ یہ ملک نظریہ ضرورت اور سیاسی قوتوں کے بیچ پینڈولیم کی طرح لٹکتا رہا۔ سیاستدانوں کو جو طاقت ملتی تھی وہ مشرقی پاکستان کے مضبوط سیاسی انفراسٹرکچر سے ملتی تھی، وہ وہاں کا گرانڈ نارم جمہوریت اور آئین تھا اور یہاں کی سیاسی قیادت، خان، چوہدری، سردار، وڈیروں یا پھر یوں کہیے کہ الیکٹیبلز تھے جو ملٹری طاقت کے تابع تھے۔
یعنی دو روایات تھیں جو تصادم میں چلی گئیں۔ 1971ء کا سانحہ ہوا اور پھر دولخت ہونے کے بعد ہم آئین مرتب دیا جو Grand Norm بنا۔ اگر کیلسن کی شہرہ آفاق تھیوری گرانڈ نارم کو مانا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ پاکستان آئین کے لیے بنا تھا تو ہمارے آئین کا سب سے بڑا گرانڈ نارم، یعنی آئین جس سے جنم لیتا ہے، 1940ء کی قرارداد، لاہور کے اس اجلاس میں جناح نے اکیلے صدارت نہیں کی تھی بلکہ شیر بنگال فضل الحق نے بھی جناح کے ساتھ اس اجلاس کی صدارت کی۔
کیلسن کی تھیوری کے مطابق یہ قرارداد بنیاد بنتی ہے اس معاہدے کی۔ پاکستان آل انڈیا مسلم لیگ کی 23 March 1940 کی قرارداد تھی اور یہ ہمارے آئین کا غیر تحریری حصہ ہے جس کو آرٹیکل 239 (4) شکل دیتا ہے، اگر یہ آرٹیکل 239 (4) آئین میں نہ بھی ہوتا تو آئین کے بنیادی ڈھانچے کی تھیوری کے تحت 1940ء کی قرارداد آئین کا حصہ سمجھی جاتی۔
یعنی کیلسن کی تھیوری کے مطابق تاریخی اعتبار سے یہ قرارداد نارم تھی۔ ہمیں اپنے آئین اور سیاست میں تین چیزیں بین الاقوامی تاریخ اور جدوجہد سے ملتی ہیں، ایک ہیں بنیادی حقوق، دوسرا جوڈیشل ریویو اور تیسرا سامراجی حقیقت جو کل تک سرد جنگ کی شکل میں تھی۔ آج ہمیں بین الاقوامی حقیقتوں میں مصنوعی ذہانت ملی ہے جس نے دنیا کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔
امریکا بذاتِ خود اپنی طاقت کو منوانے کے لیے سرگرم ہے، ہم بھی اسی چکی میں پس رہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گرانڈ نارم کون ہے؟ پاکستان کا آئین؟ یا پھر جسٹس منیر کا نظریہ ضرورت؟
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل