Monday, September 14, 2026
 

ماضی کا تاریخی و خوشحال شکارپور

 



سوشل میڈیا پر آج کل سندھ کے ایک تاریخی اور خوشحال اور دنیا میں سندھ کے پیرس کے نام سے مشہور، اہم تجارتی مرکز، تاریخی عمارتوں کے شہر شکارپور کا بہت چرچا ہے اور دنیا بھر میں بسنے والے اس شہر سے تعلق رکھنے والے افراد شکارپور آ کر یہاں کی تاریخی عمارتوں کی تصاویر اور یہاں کے تاریخی پتھروں سے بنائے گئے گھنٹہ گھر اور شہر کے اطراف بنائے گئے بڑے دروازوں جو مختلف گیٹوں اور دروں کے نام سے آج بھی مشہور ہیں کئی وڈیوز کے ذریعے اپنے شہر کا ماضی دنیا کو دکھا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر آج کل ملک کے کسی اور شہر کا اتنا چرچا نہیں جتنا ماضی کے منفرد مگر آج کے تباہ حال شہر شکارپور کا ہے۔ مجھے بھی اپنے اس آبائی شہر سے تعلق پر فخر ہے جہاں پیدا ہونے کے بعد مشہور سٹی پرائمری اسکول، اسلامیہ ہائی اسکول اور شیخ عرض محمد کے قائم کردہ شاہ لطیف نائٹ کالج تک تعلیم حاصل کرکے 1969 میں وہیں سے صحافت کا آغاز کرکے آج کراچی میں بیٹھ کر شکارپور کی موجودہ حالت اور ماضی کی تاریخ بیان کر رہا ہوں، جہاں سے تعلق کسی اعزاز سے کم نہیں۔ ماضی میں سندھ کے گورنر، وزرائے اعلیٰ اور اہم ترین شخصیات کا تعلق اس تاریخی شہر سے ہے جو کبھی قیام پاکستان سے قبل ایک ریاست کا درجہ رکھتا تھا جس کا اپنا سکہ اور ضلع شکارپور کی حدود نواب شاہ اور دادو تک پھیلی ہوئی تھیں مگر قیام پاکستان سے چند سال قبل انگریز دور میں شکارپور کی ضلعی حیثیت ختم کرکے یہاں سے 23 میل دور دریائے سندھ کنارے آباد سکھر کو ضلع بنا دیا گیا تھا اور شکارپور اس کا سب ڈویژن تھا۔ جولائی 1977 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے لاڑکانہ کو ڈویژن بنانے کے لیے شکارپور کو دوبارہ ضلع بنایا جس کو مارشل لا لگنے کے بعد ختم نہیں مگر معطل کرکے وہاں کا انتظام ایک ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کے ذریعے چلایا گیا اور جنرل محمد ضیا الحق نے حاجی مولا بخش سومرو کو اپنا مشیر بنانے کے بعد انھیں ضلع تحفہ میں دیکر اس کی ضلعی حیثیت بحال کی تھی۔شکارپور کو ضلع بنے 49 سال ہو چکے ہیں جو لاڑکانہ ڈویژن میں شامل ہے جب کہ سکھر کے سابق کمشنر اور شکارپور کا ڈپٹی کمشنر ایاز حسین انصاری نے کہا تھا کہ’’ ڈویژن بننے کا حق شکارپور کا تھا جو سینٹرل شہر ہے مگر جیکب آباد اور کشمور اضلاع کے لوگوں کو شکارپور سے گزر کر لاڑکانہ جانا پڑتا ہے۔‘‘ اس بات پر راقم نے کہا تھا کہ’’ اس ناانصافی کے باوجود خوشی ہے کہ شکارپور کی حیثیت ضلع کی ہے مگر پیپلز پارٹی نے اپنی حکومتوں میں شکارپور کو وہ اہمیت اور حق نہیں دیا جس کو بھٹو صاحب لاڑکانہ کے بعد اپنا شہر اور پیپلز پارٹی کا اہم گڑھ قرار دیتے تھے۔‘‘ شکارپور سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیات بے نظیر دور سے ہی وفاقی اور سندھ کابینہ میں شامل رہیں اور بیک وقت شکارپور سے تعلق رکھنے والے تین وزیر بھی رہے مگر سندھ کے اصل حکمران بلاول بھٹو دور میں شکارپور نظرانداز ہے اور ماضی کے حکمران شہر سے صرف ایک مشیر سندھ کابینہ میں شامل ہے جب کہ بے نظیر بھٹو نے تو یہاں کے آفتاب میرانی کو وزیر اعلیٰ سندھ بنایا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے ضلعی حکومتوں کے نظام کا آغاز شکارپور خود آ کر یہاں آ کر بڑے ضلعی حکومتوں کے کنونشن سے کیا تھا۔ 1973 میں بلدیہ شکارپور کا کونسلر منتخب ہونے کے بعد بلدیہ کے تمام کونسلروں نے کراچی جا کر حلف اٹھایا تھا اور عبدالستار شیخ چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ موجودہ سندھ حکومت میں شکارپور مسلسل نظرانداز چلا آ رہا ہے جس کو شامل کیے بغیر سندھ کابینہ مکمل نہیں ہوتی تھی مگر اب یہاں کا کوئی منتخب شخص وزارت کے قابل بھی نہیں سمجھا گیا اور سندھ کابینہ میں شکارپور کی حالت زار بیان کرنے اور دیرینہ مسائل پر موثر آواز اٹھانے والی سیاسی شخصیت موجود نہیں اور آج کا شہر، شہر نہیں کسی پس ماندہ گاؤں کا منظر پیش کرتا ہے جو دیہی علاقہ، تجاوزات و پس ماندگی کا شکار جس سے بجلی تک تقریباً چھین کر لوڈ شیڈنگ سے تاریکی میں دھکیل دیا گیا ہے۔ 1990 تک جب راقم شکارپور میں رہائش پذیر تھا تو شکارپور میں وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو ، جنرل ضیا الحق، وزیراعظم محمد خان جونیجو، صدر غلام اسحاق، وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بگٹی، چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد سمیت ملک کی اہم شخصیات سے ملنے کا موقعہ ملتا تھا اور آصف زرداری بھی شکارپور نہیں گڑھی یٰسین میں اپنے دیرینہ دوست آغا سراج درانی کے گھر آ کر ٹھہرا کرتے تھے اور ملک کے ممتاز سیاستدان پیر پگاڑا، نوابزادہ نصراللہ، مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمن سمیت شیخ مجیب الرحمن و دیگر اہم رہنماؤں نے شکارپور میں متعدد جلسے کیے۔ شکارپور کو محترمہ فاطمہ جناح کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا مگر موجودہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو اپنا سیاسی گڑھ یاد نہیں جہاں کے تمام منتخب ممبران کا تعلق آج بھی پیپلز پارٹی سے ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر شکارپور کی تاریخی عمارتیں نئی نسل کو دکھائی جا رہی ہیں جو شکارپور کی انفرادیت ظاہر کرتی ہیں۔ فریئر ہال کراچی جیسا ماڈل آج بھی شاہی باغ کہلانے والے شکارپور میں موجود ہے جو نام کا شاہی باغ رہ گیا ہے۔ گھنٹہ گھر پر لیاقت پارک ، گنس پارک بن چکا۔ لکڑی کی چھت کا ڈھک بازار جو کبھی شاہی بازار تھا اب ایسا تنگ کر دیا گیا ہے جہاں فائر لاری نہیں گزر سکتی۔ مشہور بھٹائی بازار جو لکھی در سے شروع اور ڈھک بازار سے گزر کر اسٹورٹ گنج تک ہے اب بازار نہیں گلیاں بن چکی ہیں جہاں سے رکشے یا دو بائیک سوار ہی گزر سکتے ہیں اور کسی کو فکر نہیں کہ اگر 1978 جیسی آگ لگی تو یہ دونوں بازار جو اہم کاروباری بازار ہیں کیسے محفوظ رہیں گے۔ نکاسی آب کی اندرونی لائنیں ناکارہ ہو چکی ہیں اور شہر اب مختلف وجوہات کے باعث رہائش کے قابل نہیں رہا اور شہر کے مستقبل سے مایوس لوگ اب حیدرآباد اور کراچی آ کر رہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اب میتیں بھی اپنے آبائی شہر نہیں لے جائی جاتیں جہاں اب مجبور لوگ ہی رہ رہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہندو شکارپور سے بھارت چلے گئے تھے جو بعد میں ٹھیکیدار کہلائے اور یہاں کی جگہیں اونے پونے خرید کر وہاں سے قیمتی لکڑی مضبوط و خوبصورت اینٹیں، نقش و نگار کے لکڑی کے بنے دروازے، ساگوان لکڑی کے قیمتی شہتیر اور قیمتی سامان نکال کر مہنگا فروخت کیا اور ان جگہوں کو کھنڈر بنا کر وہ شکارپور چھوڑ گئے تھے۔ ماضی کے شکارپور پر فخر ہوتا تھا اور آج کے بدترین ناقابل رہائش شکارپور کو دیکھ کر دل جلتا کڑھتا اور صرف رونا ہی آتا ہے جو آج تباہ حال ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل