Wednesday, September 16, 2026
 

نائن الیون نے ’گریٹر اسرائیل‘ کے ایجنڈے کو فروغ دیا اور امریکا کے زوال کا باعث بنا، مشاہد حسین سید

 



سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ نائن الیون کے 25 سال بعد امریکا ایک کمزور ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جبکہ چین کو موقع فراہم ہو رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلم مڈل پاورز تبدیل شدہ عالمی نظام میں اہمیت اختیار کر رہی ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ نائن الیون سے قبل امریکہ ’واحد سپر پاور‘ تھا لیکن اب ایسا نہیں رہا۔ یہ ڈائیلاگ اسلام آباد میں قائم ایک اہم تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (آئی پی ایس) نے منعقد کی ۔ اپنی جامع پریزنٹیشن میں سینیٹر مشاہد حسین نے  ' ’نائن الیون کے 25 سال: تاریخ جس نے دنیا بدل دی'کے عنوان سے ایک فیکٹ شیٹ پیش کی۔ اس میں براؤن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ امریکہ نے نائن الیون کے بعد 20 سال کے دوران 8 ٹریلین ڈالر ضائع کیے جس کے نتیجے میں 38 ملین افراد بے گھر ہوئے اور تقریباً 50 لاکھ افراد براہِ راست یا بالواسطہ ہلاک ہوئے، جبکہ افغانستان، پاکستان کے سابق فاٹا کے علاقے، عراق، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، یمن اور لبنان جیسے جنگی محاذوں والے ممالک میں 324,000 ڈرونز، بم اور میزائل استعمال کیے گئے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے امریکی ذرائع سے ایک دلچسپ حوالہ بھی پیش کیا کہ نائن الیون کے صرف 9 دن بعد پینٹاگون نے 7 مسلم ممالک کے خلاف جنگیں شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا جن میں عراق،  شام، لبنان، لیبیا، صومالیہ اور سوڈان شامل تھے۔ انہوں نے معروف امریکی صحافی ٹام فریڈمین کا بھی حوالہ دیا جنہوں نے 8 مئی 2003 کو دی نیویارک ٹائمز میں لکھا تھا کہ"اگر وائٹ ہاؤس   میں اہم امور سر انجام دینے والے 25 افراد کو کسی جزیرے پر جلاوطن کر دیا جاتا تو عراق جنگ نہ ہوتی۔” اس سے مراد یہ تھی کہ اس جنگ کو اسرائیل نواز لابی کے ایک منتخب اور بااثر گروہ اور صحافیوں نے آگے بڑھایا اور فروغ دیا۔ سینیٹر مشاہد حسین نے برطانوی مصنف کی کتاب Lawless World کا بھی حوالہ دیا جس میں بیان کیا گیا ہے کہ عراق پر امریکی حملے سے قبل امریکی صدر بش نے وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ پاکستان اور سعودی عرب کو جوہری پھیلاؤ کے مبینہ خدشے کی بنیاد پر نشانہ بنانے کے اپنے منصوبے کا ذکر کیا تھا۔ سینیٹر مشاہد حسین نے یہ بھی کہا کہ نائن الیون کی سب سے بڑی غلطیوں میں سے ایک یہ تھی کہ دسمبر 2001 میں بون میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران شکست خوردہ افغان طالبان کے ساتھ مفاہمت کا موقع اور افغان بادشاہت کی بحالی کا موقع بھی ضائع کر دیا گیا جو جدید افغان ریاست میں مرکزِ ثقل کی حیثیت رکھتی تھی۔ انہوں نے اس صورتحال کا موازنہ کمبوڈیا سے کیا، جہاں تباہ کن خانہ جنگی کے بعد بادشاہت کی واپسی نے اس ریاست میں استحکام بحال کیا جبکہ افغانستان میں اس کے برعکس عمل ہوا جس کے نتیجے میں ایک ’جمہوریہ‘ قائم ہوئی جو امریکی فوجی انخلا کے ساتھ ہی بکھر گئی۔ پاکستان پر نائن الیون کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیگر مسلم ممالک کے مقابلے میں پاکستان ہمسایہ افغانستان میں امریکی حملے سے بچ گیا تاہم پاکستان کو بھی شدید عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا بالخصوص سابق فاٹا میں، جس کے نتیجے میں 2007 میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا قیام عمل میں آیا، پاکستان کی افغان پالیسی منہدم ہوئی اور امریکی فوجی قبضے کی آڑ میں افغانستان میں بھارتی مداخلت کو روکنے میں پاکستان ناکام رہا۔ نائن الیون کے عالمی نتائج پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ نائن الیون جدید تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا اور اس نے امریکی زوال اور چین کے عروج کا آغاز کیا اور یہ دونوں واقعات ناقابلِ واپسی ہیں جن کے نتیجے میں ایک کثیر قطبی دنیا وجود میں آئی جس کی نمایاں خصوصیات میں روس کا دوبارہ ابھرنا پاکستان جیسی بڑی مسلم مڈل پاورز کا عروج اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس جیسی نئی علاقائی تنظیموں کا قیام شامل ہیں۔ نائن الیون کا ایک اور بڑا نتیجہ جسے سینیٹر مشاہد حسین نے ’تشویشناک‘ قرار دیا، بیشتر مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا کے ساتھ ساتھ دائیں بازو کی نسل پرستی کا بڑھنا ہے، جس کے نتیجے میں اسلام اور مغرب کے درمیان خلیج وسیع ہوئی ہے۔ یہ محاذ آرائی امریکہ کی جانب سے اپنی 'اسرائیل فرسٹ' خارجہ پالیسی کے ذریعے ’گریٹر اسرائیل‘ کی حمایت کے باعث بھی مزید بڑھی ہے۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور سوال و جواب کا ایک اہم سیشن منعقد بھی ہوا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل