Wednesday, September 16, 2026
 

کسان اتحاد کا 25 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھرپور احتجاج کا اعلان

 



کسان اتحاد نے حکومت سے مطالبات پورے  نہ ہونے اور مسائل حل نہ ہونے پر 25 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھرپور احتجاج کا عندیہ دیدیا۔ چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ اور سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپر نے کسانوں کے مسائل حل نہ ہونے پر 25 ستمبر کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھرپور احتجاج کا اعلان کردیا۔ کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کسان رہنماؤں نے ملک میں گندم کی مجموعی صورتحال، آٹے کی بڑھتی قیمتوں، چینی کی برآمد، زرعی اجناس، پانی اور وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ فیول سبسڈی پر گفتگو کی۔ خالد حسین باٹھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور سندھ میں اکتوبر جبکہ پنجاب میں نومبر سے گندم کی کاشت شروع ہوجاتی ہے لیکن ابھی تک کسی صوبائی حکومت نے گندم خریداری کی پالیسی نہیں بنائی۔ انہوں نے کہا کہ 3 سال سے کسانوں سے گندم پیداواری لاگت سے کم قیمت پر خریدی جارہی ہے، حکومتی پالیسیوں کے باعث کسانوں نے گندم کی کاشت کم کردی  ہے اور اب پاکستان کو ساڑھے 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ خالد حسین باٹھ کا کہنا تھا کہ ساڑھے 7 لاکھ ٹن گندم کی درآمد پر تقریباً 38 کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے، جس کا فائدہ پاکستانی کسان کے بجائے بیرون ملک کسانوں کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی فی من پیداواری لاگت تقریباً 4 ہزار 500 روپے ہے اور کسان کو لاگت کے ساتھ 20 فیصد منافع ملا کر قیمت دی جانی چاہیے۔ کسان اتحاد کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت بیرون ملک سے گندم تقریباً 5 ہزار 500 روپے فی من خرید رہی ہے لیکن مقامی کسان کو 3 ہزار 200 روپے فی من قیمت ملتی ہے۔ انہوں نےمزید کہا کہ درآمدی گندم پاکستان پہنچنے تک تقریباً 6 ہزار روپے فی من پڑے گی، جبکہ کسان سے گندم 3 ہزار سے 3 ہزار 200 روپے فی من کے حساب سے خریدی گئی۔ خالد حسین باٹھ نے خبردار کیا کہ کسانوں کو ریلیف نہ دیا گیا تو آئندہ سال 30 سے 32 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال برقرار رہنے پر یہ مقدار 35 سے 40 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹے کی قیمت 8 ہزار روپے فی من تک پہنچ چکی ہے۔ خالد حسین باٹھ نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ کسانوں کو بھی فیول ریلیف اسکیم سے مستفید کیا جائے اور ڈیزل پر سبسڈی فراہم کی جائے کیونکہ ٹریکٹر اور زرعی مشینری کے لیے ڈیزل کسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی کاشت میں صرف ٹریکٹر کے ڈیزل پر 20 سے 25 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں، جبکہ رواں سال ڈیزل کی بلند قیمت کسانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ خالد حسین باٹھ نے کھاد، یوریا اور دیگر زرعی ان پٹس پر بھی سبسڈی دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گنے کی ملوں تک ترسیل کی لاگت دگنی ہوچکی ہے اور کسانوں کے لیے آئندہ سیزن میں گندم کی کاشت کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔  بلوچستان میں پیاز اور ٹماٹر کی فصل تیار ہونے کے باوجود افغانستان سے ٹماٹر اور پیاز آرہے ہیں، اس لیے افغانستان سے ان زرعی اجناس کی آمد بند کی جائے۔ کسان اتحاد نے افغانستان سے پیاز، ٹماٹر اور روی کی غیر قانونی آمد روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ کیا گیا تو بلوچستان میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیاز کی کاشت کی لاگت پیداواری قیمت سے زیادہ ہوچکی ہے، پیاز کی قیمت کو اسمگلرز کنٹرول کررہے ہیں اور بلیک مارکیٹنگ کا فائدہ بھی اسمگلرز اٹھا رہے ہیں جبکہ پاکستانی کسان نقصان برداشت کررہے ہیں۔ کسان اتحاد کے مطابق آلو، کپاس، پیاز اور ٹماٹر کے کاشتکار بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ ناقص پالیسیوں کے باعث کسانوں کے ساتھ عام شہری بھی مہنگائی کا سامنا کررہے ہیں۔ گنے سے متعلق خالد حسین باٹھ نے کہا کہ کرشنگ سیزن نومبر میں شروع کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے سابقہ واجبات ادا کیے جائیں۔ انہوں نے آئندہ سیزن کے لیے گنے کی کم از کم سپورٹ پرائس 650 روپے فی 40 کلو مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گنے کی سپورٹ پرائس کا بروقت اعلان نہ ہوا اور 650 روپے فی 40 کلو قیمت نہ ملی تو کسان شوگر ملوں کو گنا نہیں دیں گے اور تمام شوگر ملز کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔ خالد حسین باٹھ نے کہا کہ گنے کی کاشت کی لاگت 357 روپے فی من ہے اور یہ بھارت کے مقابلے میں 385 فیصد زیادہ ہے۔ بھارت میں گنے پر فی ایکڑ ایک لاکھ 30 ہزار سے ایک لاکھ 40 ہزار روپے خرچ آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک میں قیمت کا پہلے سے تعین کردیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان کے کسان 3 سال سے ہر فصل پر نقصان اٹھا رہے ہیں۔ چینی سے متعلق خالد حسین باٹھ نے کہا کہ حکومت نے 2 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد کی اجازت دی ہے جس سے زرمبادلہ حاصل ہوگا، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا فائدہ کسان کو بھی ملے گا یا نہیں۔ کسانوں کے شوگر مل مالکان کے ذمے بقایاجات موجود ہیں۔ انہوں نے  سوال اٹھایا کہ کیا چینی کی برآمد سے ہونے والے منافع میں کسانوں کو بھی حصہ دیا جائے گا؟۔ سندھ آبادگار اتحاد کے صدر نواب زبیر تالپر نے کہا کہ حکومت نے گندم کا 4 ہزار روپے فی من ریٹ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اسے پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی کٹائی کے وقت 3 ہزار 500 روپے فی من ریٹ بتایا گیا لیکن کسانوں سے گندم اس قیمت کے بجائے 2 ہزار 900 روپے فی من خریدی گئی۔ نواب زبیر تالپر نے کہا کہ گزشتہ سال درآمد کی گئی ایک لاکھ ٹن چینی اب بھی اسٹاک میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ  شوگر ملیں حکمرانوں کی ہیں، مافیا راج کررہے ہیں اور عوام مشکلات جھیل رہے ہیں۔ پریس کانفرنس میں کسان اتحاد کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کو کارٹلز کے آگے پھینک دیا ہے ۔ زرعی لاگت پڑوسی ممالک کے مقابلے میں دگنی ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ریگولیشن کے نام پر کسانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، ایسے حالات میں ربیع سیزن کے دوران کسان گندم کی کاشت کیسے کریں گے۔ کسان رہنماؤں نے کہا کہ پانی کی کمی پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی کے لیے بڑا مسئلہ ہے ۔ سندھ طاس معاہدے پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ خالد حسین باٹھ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر کسان بھی بھارت کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ لڑیں گے، جبکہ معاہدے پر عملدرآمد کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو خطوط بھی لکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے کسانوں کو ناقص بیج مہیا کیے جاتے ہیں ، نجی شعبے کو بیج فراہم کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ بیج کے پیکٹس میں ایک پیکٹ درست ، باقی خراب نکلتے ہیں۔ ناقص بیجوں کی وجہ سے کپاس، گندم اور دیگر اہم فصلوں کی پیداوار خطے کے ممالک کے مقابلے میں نصف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت نے کسانوں کے گھروں پر چھاپے مار کر گندم ضبط کی اور یہ گندم بعد میں نجی شعبے کو دی گئی، جس نے اسے خیبرپختونخوا پہنچا دیا۔ کسان اتحاد نے پنجاب کے جنرل سیکریٹری ملک یاسین جھجھ اور دیگر ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مقدمات، چھاپوں اور دباؤ کے ذریعے کسانوں کی آواز خاموش نہیں کی جاسکتی۔ خالد حسین باٹھ نے کہا کہ حکومت کسانوں سے ٹکراؤ کے بجائے ان کے ساتھ بیٹھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسانوں کے ساتھ بیٹھ جائے تو چینی، گندم اور دیگر اشیاء سستی فراہم کی جاسکتی ہیں اور ملک کو اس وقت کسان ہی بچا سکتا ہے۔ کسان اتحاد کے مطابق پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی کسان تنظیموں سے مشاورت جاری ہے اور مطالبات حل نہ ہوئے تو 25 ستمبر کو تمام کسان تنظیمیں اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں گی۔ آخر میں خالد حسین باٹھ نے نئے صوبوں سے متعلق کہا کہ صوبے عوام کی مرضی کے بغیر نہیں بننے چاہییں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل