Wednesday, September 16, 2026
 

کراچی؛ 9 سال میں صفائی پر بی آر ٹی سے بھی زیادہ خرچ کرنے کے باوجود مسئلہ برقرار ہے، یونس ڈھاگا

 



سابق وفاقی سیکریٹری، سابق نگران صوبائی وزیر اور پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (پی آر اے سی) کے چیئرمین محمد یونس ڈھاگا نے کہا ہے کہ 2017 سے اب تک کراچی میں کچرا اٹھانے اور ویسٹ مینجمنٹ پر تقریباً 160 سے 170 ارب روپے خرچ ہوئے، اس کے باوجود شہر کو بدستور صفائی اور کچرے کے مسائل کا سامنا ہے۔ یونس ڈھاگا نے بتایا کہ 2017 سے رواں سال تک مختص رقم سمیت سندھ بھر میں کچرا اٹھانے اور سڑکوں کی صفائی پر ایک اندازے کے مطابق 190 ارب روپے سے زائد خرچ ہوئے، صرف کراچی میں یہ رقم 160 سے 170 ارب روپے کے درمیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے ویسٹ مینجمنٹ پر خرچ ہونے والی رقم گزشتہ ایک دہائی کے دوران کئی بڑے صوبائی منصوبوں کو ملنے والی مالی معاونت سے زیادہ ہے، جن میں بی آر ٹی ریڈ لائن، بی آر ٹی یلو لائن، کے فور واٹر سپلائی پروجیکٹ، سیف سٹی پروجیکٹ، کراچی کا روڈ نیٹ ورک اور رائٹ بینک آؤٹ فال ڈرین شامل ہیں۔ یونس ڈھاگا نے کہا کہ اتنی بڑی رقم خرچ ہونے کے باوجود کچرے کی صفائی کراچی کے بڑے مسائل میں شامل ہے، خالی پلاٹس اب بھی غیر رسمی کچرا کنڈیوں کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں، کئی علاقوں میں گھر گھر سے کچرا اٹھانے کی سہولت محدود یا مکمل طور پر دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سڑکوں، کھلی جگہوں اور نالوں کے اطراف بھی کچرا جمع ہے، ویسٹ مینجمنٹ کے موجودہ نظام میں گھر گھر سے کچرا اٹھانا، سڑکوں کی صفائی، کچرے کو ٹرانسفر اسٹیشنز اور لینڈ فل سائٹس تک منتقل کرنا، ڈسٹ بنز اور کمپیکٹرز کی فراہمی، صفائی کے عملے کی تعیناتی اور جی پی ایس کے ذریعے نگرانی شامل ہے۔ یونس ڈھاگا نے مزید کہا کہ 2017 سے ویسٹ مینجمنٹ کنٹریکٹرز کی کارکردگی کی تھرڈ پارٹی کے ذریعے آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2018 سے 2025 تک کی رپورٹس میں بھی تھرڈ پارٹی تصدیق کے بغیر ادائیگیوں، جرمانوں کی عدم وصولی، عملے کی کمی اور زائد ادائیگیوں سمیت مختلف مسائل کی نشان دہی کی گئی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل