Loading
سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر گزشتہ ہفتے ہونے والے ڈرون حملے میں دو پمپس اسٹیشنز کو شدید نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے جن کی مرمت میں ایک مہینہ بھی لگ سکتا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تین تیل اور سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے میں پائپ لائن کو چلانے والے دو پمپنگ اسٹیشن متاثر ہوئے ہیں۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ نقصان کی نوعیت اور مرمت کے دورانیے کا جائزہ لیا جا رہا ہے جس کے باعث پائپ لائن کی بحالی کے وقت کے بارے میں غیر یقینی تاحال برقرار ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب نے 10 ستمبر کو ہونے والے متعدد حملوں کے بعد اپنی تقریباً 1200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو احتیاطی طور پر بند کردیا تھا اور ان حملوں میں شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی گئی تھی۔
یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی ساحل پر واقع تیل کے مراکز کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے ملاتی ہے۔ اس راستے کی اہمیت حالیہ علاقائی کشیدگی میں مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر سعودی تیل کو بحیرۂ احمر تک پہنچانے کا متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔
حملہ کہاں سے ہوا؟
سعودی حکام کے مطابق پائپ لائن پر حملہ عراق سے آنے والے ڈرونز کے ذریعے کیا گیا تھا جبکہ عراق نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پائپ لائن کی بندش ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے عالمی تیل کی ترسیل کو پہلے ہی متاثر کر رکھا ہے۔
عالمی تیل سپلائی پر اثرات
رائٹرز کے مطابق اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل بحیرۂ احمر تک منتقل کرنے کی گنجائش ہے۔ اس کی طویل بندش عالمی سپلائی کو نمایاں طور پر متاثر کرسکتی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ سعودی عرب نے پائپ لائن حملے کے بعد تیل کی کچھ ترسیل کے لیے متبادل راستوں کا سہارا لینا شروع کردیا ہے۔
اس حوالے سے سعودی عرب نے عمان کی بندرگاہ صحار کے قریب سمندری منتقلی کے ذریعے ایشیائی خریداروں کو خام تیل فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔
واضح رہے کہ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز کا ایک اہم متبادل راستہ ہے۔ یہ مشرقی علاقے سے خام تیل کو بحیرۂ احمر کے ساحل تک پہنچاتی ہے جہاں سے اسے عالمی منڈیوں تک سمندری راستے کے ذریعے برآمد کیا جاسکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل