Loading
سویڈن نے ایران پر اپنے ملک میں یہودی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سویڈن کے وزیر انصاف گونار اشترومر نے بتایا کہ ایران طویل عرصے سے سویڈن میں اور سویڈن کے خلاف ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہے جو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
انھوں نے الزام عائد کہا کہ ان سرگرمیوں میں ایرانی حکومت کے مخالف افراد کے علاوہ مختلف یہودی اور اسرائیلی مفادات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سویڈش وزیر نے مزید کہا کہ ان مقاصد کے لیے ایران نے مبینہ طور پر جرائم پیشہ نیٹ ورکس سے بھی مدد لی جس پر ایرانی سفیر کو بھی طلب کیا گیا۔
تاہم سویڈش حکومت نے فوری طور پر ملک بدر کیے جانے والے ایرانی سفارتخانے کے اہلکار کی شناخت یا اس کے خلاف مخصوص کارروائی کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
سویڈن کی سیکیورٹی سروس ’’سیپو‘‘ کے ترجمان جوناتھن سویسن نے بھی تصدیق کی کہ ایران کی جانب سے ایسی سرگرمیاں جاری ہیں جن سے سویڈن میں اور سویڈن کے خلاف سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔
ان کے بقول ایران مبینہ طور پر جرائم پیشہ گروہوں سمیت مختلف واسطوں کو استعمال کرکے حملے یا تشدد کی کارروائیاں کرانے کی کوشش کرتا ہے۔
ایران پر جرائم پیشہ گروہوں کے استعمال کا الزام
سویڈش سکیورٹی سروس نے مئی 2024 میں الزام عائد کیا تھا کہ ایرانی حکومت سویڈن میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو ان ریاستوں، گروہوں اور افراد کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے جنہیں تہران اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
سیپو نے اس وقت کہا تھا کہ سویڈن میں ایرانی سکیورٹی سروسز سے منسلک حملوں کی متعدد منصوبہ بندیوں کو ناکام بنایا گیا جن میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو مبینہ طور پر بطور واسطہ استعمال کیا گیا تھا۔
تاہم ایران نے سویڈن کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل