Thursday, September 17, 2026
 

ژوب: سینٹرل جیل سے جعلی عدالتی احکامات پر منشیات کیسز کے 2سزا یافتہ قیدی رہا، تحقیقات شروع

 



بلوچستان کے ضلع ژوب میں سینٹرل جیل سے مبینہ جعلی عدالتی احکامات کے ذریعے منشیات کے مقدمات میں 25، 25 سال قید کی سزا پانے والے دو قیدیوں کی غیر قانونی رہائی کا انکشاف ہوا، جس کے بعد جیل انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق غیر قانونی طور پر رہا کیے جانے والے قیدیوں میں نصیرآباد کے رہائشی عبدالسلام اور کچلاک کوئٹہ کے رہائشی امان اللہ شامل ہیں، دونوں منشیات کے مقدمات میں 25، 25 سال قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق دونوں قیدیوں کو 30 مئی 2025 کو عدالتی احکامات کے نام سے جاری مبینہ جعلی احکامات کی بنیاد پر ژوب سینٹرل جیل سے رہا کیا گیا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق مغرب کے وقت ایک نامعلوم شخص مبینہ جعلی عدالتی احکامات لے کر جیل گیٹ پر تعینات اہلکار کے پاس پہنچا، جس کے بعد ان احکامات کی بنیاد پر دونوں قیدیوں کی رہائی عمل میں لائی گئی۔ واقعے کا انکشاف ہونے کے بعد نئے سپرنٹنڈنٹ ژوب جیل کی مدعیت میں 30 اگست 2026 کو سٹی پولیس اسٹیشن ژوب میں دونوں رہا ہونے والے قیدیوں اور نامعلوم سہولت کاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مبینہ غفلت اور واقعے میں انتظامی ذمہ داری کے تعین کے لیے سابق سپرنٹنڈنٹ جیل حبیب اللہ، ڈیٹا انٹری آپریٹر سدا گل اور کلرک عبدالجلیل کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی عدالتی احکامات پر سزا یافتہ قیدیوں کی رہائی کے واقعے نے جیل انتظامیہ کی نگرانی، عدالتی احکامات کی تصدیق کے طریقہ کار اور مجموعی سیکیورٹی نظام پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ جعلی عدالتی احکامات تیار کرنے، جیل تک پہنچانے اور قیدیوں کی رہائی میں مبینہ طور پر سہولت کاری کرنے والے عناصر کا تعین کیا جا رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل