Loading
مری روڈ پر واقع 200 سالہ قدیم ایجوکیشن کمپلیکس پر دو اداروں کے درمیان تنازع عروج پر پہنچ گیا۔ محکمہ وقف متروکہ املاک کے ملکیتی کیس میں کامیابی کے بعد ایف آئی اے ٹیم نے محکمہ تعلیم کے دفاتر خالی کراکر سیل کردیئے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق 65 سال سے سکولز، لٹریسی اور کالجز کے دفاتر اس کمپلیکس میں قائم تھے۔ ایف آئی اے ٹیم نے دفاتر میں داخل ہوکر خاتون ڈائریکٹر کالجز ڈاکٹر شہناز محسن کو دفتر سے باہر نکال دیا، جبکہ محکمہ تعلیم کے تمام دفاتر سے عملے کو بھی باہر نکال دیا گیا۔
ڈائریکٹوریٹ آف کالجز کے تمام دفاتر سامان سمیت مکمل سیل کردیئے گئے۔ ڈائریکٹر کالجز، ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز اور لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کے دفاتر عارضی طور پر سڑک پر قائم ہوگئے۔
صدر آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن جمیل اعوان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ ظلم ہے، تمام ریکارڈ بھی سیل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ داد رسی کے لیے وزیر ریلوے کے پاس جارہے ہیں۔
ایپکا کے مطابق 19ویں اسکیل کی خاتون ڈائریکٹر کالجز سے ایف آئی اے ٹیم کی بدتمیزی قابل مذمت ہے۔ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
ایف آئی اے ٹیم دفاتر سیل کرنے کے بعد واپس روانہ ہوگئی۔ ایپکا کے مطابق مری روڈ، کمیٹی چوک پر دو ایکڑ وسیع اراضی پر کمرشل پلازہ بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ ایپکا کا کہنا ہے کہ کھربوں روپے مالیت کے ایجوکیشن کمپلیکس کی کمرشل اراضی کسی کو 100 سالہ لیز پر نہیں دینے دیں گے۔
ایف آئی اے ٹیم کے مطابق محکمہ وقف متروکہ املاک ملکیتی کیس جیت گیا ہے اور انہیں حکم تھا کہ عمارت خالی کرائی جائے۔
ایجوکیشن کمپلیکس دو منزلہ ہے جس میں 70 چھوٹے بڑے ہال نما کمرے اور چار تین، تین کنال کے لان موجود ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل