Loading
میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے سابق تفتیشی افسر شبیر لغاری کو طلب کرکے کیس کی تفتیش، شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیجز، موبائل فون، ایپل واچ اور کرائم سین سے متعلق تفصیلات پر سخت سوالات کیے۔ کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد بھاردے کو بھی روسٹرم پر طلب کیا اور ان کے سوشل میڈیا انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے پاس بولنے کے لیے بہت کچھ ہے۔
کمیشن نے احمد بھاردے سے کہا کہ میر رضا ان کے اچھے دوست تھے اور فیملی کو درپیش مشکلات، قرضوں اور دیگر معاملات کا علم دوستوں کو ہوتا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ اس کا کام ملزم کی شناخت کرنا نہیں، حتیٰ کہ 100 فیصد علم ہونے کے باوجود شناخت نہیں لکھی جاسکتی۔ کمیشن نے کہا کہ اس نے دیکھا ہے کہ کمیشن میں لوگ جھوٹ بول رہے ہیں، احمد بھاردے کا بھی فرض ہے کہ کمیشن سے سچ بولیں۔
کمیشن نے کہا کہ فیملی کے لیے کیس کا کلوژر ان کا حق ہے اور ان کے سوالات کے جوابات ملنے چاہئیں۔ کمیشن نے احمد بھاردے کو کہا کہ وہ شروع سے مشکوک رہے ہیں، اتنا سمجھ آگیا ہے کہ وہ لوگ بندوقیں چلانے والے نہیں۔ کمیشن کے مطابق احمد بھاردے سمیت میر رضا کے دوستوں کو فیملی کے پاس جانے سے روکا گیا اور جن لوگوں نے روکا ان تک بھی کمیشن پہنچ چکا ہے۔
کمیشن نے احمد بھاردے سے کہا کہ ان کے میڈیا انٹرویوز اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہیں۔ کمیشن نے انہیں موقع دیا کہ وہ جو بھی کہنا چاہتے ہیں حلف نامے کے ساتھ تحریری طور پر دیں۔ کمیشن نے احمد بھاردے کو میر رضا کے اہلخانہ سے ملاقات کی تجویز بھی دی اور کہا کہ اہلخانہ کو اگر ان سے کوئی سوال ہے تو وہ پوچھیں۔ کمیشن نے میڈیا سے متعلق کہا کہ کارروائی کی رپورٹنگ کی جائے، افواہیں نہ پھیلائی جائیں۔
احمد بھاردے کے وکیل خالد ممتاز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کمیشن سے احمد واپس چلے گئے ہیں، آج کمیشن نے مفصل گفتگو کی اور بھاردے کو فیملی کے ساتھ ملاقات کرنے کی تجویز دی۔ ان کے مطابق بھاردے آج یا کل میر رضا کے اہلخانہ سے ملاقات کریں گے، وہ خود ان کے ہمراہ نہیں جائیں گے اور نہ اہلخانہ کے وکیل ملاقات میں موجود ہوں گے، کیونکہ کمیشن نے دونوں وکلا کو منع کیا ہے۔ خالد ممتاز نے کہا کہ میر رضا کے ساتھ احمد کا قریبی تعلق تھا اور میر رضا کے والد نے احمد بھاردے کے لیے کہا کہ ’’ان کے لیے میر رضا ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ بیان کے دوران میر رضا کے والد آبدیدہ ہوگئے تھے اور وہ کمیشن کی کارروائی سے مطمئن ہیں۔
جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ میر رضا کے دوستوں کو پولیس افسر کی جانب سے فیملی سے ملنے سے منع کیا گیا۔ میر رضا کے منیجر شیری اور دوست رازق اور حیثم بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمیشن اجازت دے تو سابق تفتیشی افسر کی شناخت کرائی جاسکتی ہے۔ جبران ناصر نے خاندان کی طرف سے واضح کیا کہ اگر احمد بھاردے کے پاس قتل کے حقائق سے متعلق کوئی معلومات ہیں تو وہ فراہم کریں۔
جسٹس عمر سیال نے احمد بھاردے سے کہا کہ وہ ابھی بتائیں، جس پر احمد بھاردے نے کہا کہ ’’یہ میری ہی فیملی ہے، میں ملنے جاؤں گا۔‘‘ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ ’’تھوڑی جلدی چلے جائیں گے‘‘، جس پر احمد بھاردے نے جواب دیا کہ ’’جی، میں آج ہی چلا جاؤں گا۔‘‘
کمیشن نے سابق تفتیشی افسر شبیر لغاری سے پوچھا کہ انہیں کیس کب ملا۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ 28 جولائی کو دوپہر ڈھائی سے چار بجے کے درمیان تفتیش انہیں اسائن ہوئی۔ ان کے مطابق اگر ملزم گرفتار ہو تو فرد گرفتاری ساتھ ملتی ہے اور اگر ملزم گرفتار نہ ہو تو صرف ایف آئی آر ملتی ہے۔ کیس کی تفتیش ملنے کے بعد وہ میر رضا کے گھر گئے، گھر پر میمو دستاویز تیار کرکے فیملی سے دستخط کروائے اور گلی میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز چیک کیں۔
میر رضا کے والد میر حسین نے کمیشن کو بتایا کہ تفتیشی افسر کو دو سی سی ٹی وی فوٹیجز دی گئی تھیں، وہ دستخط کروا کر چلے گئے تھے۔ کمیشن نے شبیر لغاری سے پوچھا کہ انہوں نے خود کہاں سی سی ٹی وی چیک کی۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ گلی میں چیک کیا لیکن سی سی ٹی وی نہیں ملی۔ روزنامچے میں انٹری سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ روزنامچے میں انٹری نہیں کی، تاہم آنے اور جانے کی انٹری روزنامچے میں کی جاتی ہے جبکہ باقی تفصیلات کیس ڈائری میں لکھی جاتی ہیں۔
شبیر لغاری نے بتایا کہ کیس ڈائریز سمیت تمام ریکارڈ نئے تفتیشی افسر کے حوالے کردیا گیا۔ جبران ناصر نے کہا کہ شیری کو ایمرجنسی میں جانا ہے، اگر کمیشن مناسب سمجھے تو تفتیشی افسر کی شناخت کروا لی جائے، تاہم شیری نے کمیشن کے روبرو تفتیشی افسر کو پہچاننے سے انکار کردیا۔ شیری نے کہا کہ ان کا بیان شبیر لغاری نے ریکارڈ نہیں کیا تھا۔ شبیر لغاری کے مطابق شیری کا بیان ایس آئی او ارشد جاوید نے ریکارڈ کیا تھا، جبکہ شیری نے بتایا کہ ان کا بیان ریکارڈ کرنے والے افسر کا نام وسیم تھا۔ شبیر لغاری نے کہا کہ وسیم ایس آئی او کے ساتھ تھا۔
کمیشن نے فیملی کے بیانات سے متعلق سوال کیا تو شبیر لغاری نے بتایا کہ مقدمہ درج ہونے کے روز ہی والد کا بیان ریکارڈ کیا تھا۔ جبران ناصر نے کہا کہ شبیر لغاری نے والد کو 9 اگست کو بیان ریکارڈ کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔ شبیر لغاری کے مطابق مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کیے جانے کے بعد مزید بیان ریکارڈ کرنے کے لیے بھی طلب کیا گیا تھا۔
شبیر لغاری نے بتایا کہ ضابطے کے مطابق جیل، ریسکیو اور اسپتال کو خطوط تیار کیے گئے، تاہم 29 جولائی کو باڈی ملنے کے بعد وہ خطوط بھیجے نہیں گئے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ذرائع سے میر رضا کی تلاش جاری رکھی تھی۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا اس کارروائی کی روزنامچے یا ضمنی میں انٹری ہے۔
شبیر لغاری کے مطابق 29 جولائی کو ایس ایچ او اور ایس آئی او فیروز آباد نے باڈی ملنے کی اطلاع دی، جس پر وہ جناح اسپتال گئے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ کیا انہیں باڈی منتقلی کے بعد اطلاع دی گئی اور باڈی دیکھنے سے پہلے اہلخانہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ میر رضا کے چچا میر عباس سے ملاقات ہوئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم کی کارروائی تھانہ گلستان جوہر کے عملے نے کی اور ضابطے کے مطابق متعلقہ تھانہ قانونی کارروائی کے بعد ریکارڈ فراہم کرتا ہے۔ وہ خود بھی وہاں موجود تھے۔ شبیر لغاری کے مطابق گلستان جوہر کے افسر ندیم مغل کو ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، تاہم شام میں جب تمام چیزیں فراہم کرنے کا کہا گیا تو ندیم مغل نے بتایا کہ وہ گھر چلے گئے ہیں۔
شبیر لغاری نے بتایا کہ 30 جولائی کو دوپہر 12 بجے ایس آئی او ارشد جاوید کے ساتھ جائے وقوعہ پر گئے۔ کمیشن نے پوچھا کہ کرائم سین پر پہلے سے کوئی موجود تھا، جس پر شبیر لغاری نے کہا کہ وہاں پہلے سے کوئی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نرسری کے اسٹاف سے پوچھ گچھ کی اور باڈی ملنے کے مقام کی نشاندہی کی۔ کمیشن نے پوچھا کہ انہیں جگہ کا کیسے معلوم ہوا، جس پر شبیر لغاری نے بتایا کہ ایس ایچ او پہلے سے علاقے میں موجود تھے۔
کمیشن نے اس پر سوال کیا کہ یہ بات انہوں نے پہلے کیوں نہیں بتائی اور کیا وہ ایس ایچ او کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کمیشن نے پوچھا کہ اگر ایس ایچ او نے جگہ بتائی تو کیا اس کا بیان ریکارڈ کیا گیا؟ کمیشن نے یہ بھی سوال کیا کہ کرائم سین محفوظ نہیں تھا تو انہیں کیسے معلوم ہوا کہ کیا اٹھانا ہے یا رکھنا ہے۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ کرائم سین یونٹ وہاں موجود نہیں تھا۔
کمیشن نے ایس ایچ او عدیل افضال کی جانب سے دوسرے تھانے کی حدود میں رات بھر موجود رہنے پر سوالات کیے۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ انویسٹی گیشن پولیس کے پاس وسائل نہیں ہوتے اور آپریشن پولیس کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، جبکہ کرائم سین محفوظ بنانا گلستان جوہر پولیس کی ذمہ داری ہے۔ کمیشن نے کہا کہ مقدمہ ان کے تھانے میں درج تھا، تفتیشی افسر وہ تھے، پھر کس قانون کے تحت گلستان جوہر کا دائرہ اختیار تھا؟ کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایچ او عدیل افضال کی غفلت ان کے گلے آئے گی اور سوال کیا کہ ایس ایچ او رات بھر وہاں کیا کررہے تھے۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ ایس ایچ او سی سی ٹی وی حاصل کررہے تھے اور کیس کی تحقیقات کررہے تھے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے متعلق شبیر لغاری نے بتایا کہ میر رضا کو موبائل پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔ کمیشن نے کہا کہ اس کے سامنے گواہی موجود ہے کہ وہاں موبائل نہیں پھینکا گیا، پھر سوال کیا کہ جھوٹ کون بول رہا ہے، وہ یا تفتیشی افسر۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ جس شخص نے فون اٹھایا اس نے بیان دیا کہ موبائل فون وہاں سے ملا۔ کمیشن نے ان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں لکھا ہے کہ ایس ایچ او نے بتایا کہ سی سی ٹی وی میں موبائل فون پھینکتے ہوئے نظر آیا ہے۔
شبیر لغاری نے کہا کہ خودکشی کا کسی نے نہیں بولا۔ انہوں نے بتایا کہ 30 جولائی کو گلستان جوہر کے افسر ندیم مغل سے رابطہ کرکے پوسٹ مارٹم کے نمونے فراہم کرنے کا کہا۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا نمونے وصول کرنے کا میمو بنایا گیا اور 30 جولائی کو نمونے ملنے کے بعد کہاں رکھے گئے۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ نمونے اپنے پاس رکھے تھے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ کیا کیس پراپرٹی اپنے پاس رکھنا معمول کا پروٹوکول ہے اور قانون میں کہاں لکھا ہے کہ کیس پراپرٹی اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔
شبیر لغاری کے مطابق 6 اگست کو نمونے لیب میں جمع کروائے گئے۔ تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جامعہ کراچی لیب والے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بغیر نمونے وصول نہیں کرتے تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ 3 اگست کو ملی، 4 اگست کو لیب گئے تو وہ بند تھی اور 5 اگست کو نمونے بھیجنے پر لیب نے اعتراض کیا، جس کے بعد 6 اگست کو نمونے جمع کروائے گئے۔ ان کے مطابق 6 اگست تک 33 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے تھے۔
کمیشن نے نرسری ملازمین سے متعلق سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ ان پر شک کیوں نہیں ہوا اور وہاں موجود رکشے کے بارے میں بھی تفتیش کیوں نہیں کی گئی۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ نرسری والوں نے کہا کہ ان کا مہمان آیا ہوا تھا جو رکشہ چلاتا ہے اور فیکٹری میں سامان سپلائی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکشے میں سامان بھی تھا، جبکہ جائے وقوعہ پر باڈی پھینکنے کی جگہ نہیں تھی، اگر باڈی پھینکی جاتی تو نیچے گر جاتی۔ ان کے مطابق جب تک کوئی شخص خود وہاں چل کر نہ جائے، نہ کوئی وہاں لا سکتا ہے نہ پھینک سکتا ہے، کیونکہ وہاں آنے جانے کا راستہ نہیں ہے۔
کمیشن نے کہا کہ کم از کم دو لوگ تو چاہئیں ہوں گے اور اہلخانہ کے خدشات درست ہیں۔ کمیشن نے نرسری والوں کے بیانات کو بہت ہلکا قرار دیتے ہوئے شبیر لغاری سے پوچھا کہ کیا یہ ان کی تفتیش کا معیار ہے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ کیا انہیں لگتا تھا کہ وہاں گولی چلے تو نرسری والوں کو سنائی نہیں دے گی۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ نرسری والوں نے کہا تھا کہ روڈ سائیڈ بہت شور ہوتا ہے، جبکہ گولی دور سے ماری جائے تو زیادہ آواز آتی ہے اور جسم سے لگا کر ماری جائے تو کم آواز ہوتی ہے۔
کمیشن نے کہا کہ نرسری والوں نے جو کہا آپ نے مان لیا، ایک طرف تفتیش درست نہیں کی اور دوسری طرف ان کا دفاع بھی کررہے ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ آپ کو تفتیشی افسر نہیں بلکہ پولیس میں ہی نہیں ہونا چاہیے۔ کمیشن کے مطابق ڈاکٹرز بتا چکے ہیں کہ گولی جسم سے لگا کر نہیں ماری گئی۔ کمیشن نے کہا کہ کارکردگی زیرو ہے لیکن سب کا دفاع کررہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو پولیس پر شک ہوتا ہے۔
سیکیورٹی گارڈ سے متعلق کمیشن نے پوچھا کہ کیا سیکیورٹی کمپنی سے گارڈ کے بارے میں تصدیق کی گئی اور کیا کمپنی سے گارڈ کو اسلحہ فراہم کرنے کی تصدیق کی گئی۔ کمیشن نے پستول کی رسید کے حوالے سے بھی سوال کیا کہ اسلحہ برآمد نہیں ہوا تو رسید کیسے ملی۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ گارڈ مظہر نے کمپنی کا لیٹر اور رسید دکھائی تھی، تاہم انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے وہ لیٹر گارڈ نے خود بنائے ہوں۔
پستول سے متعلق شبیر لغاری نے بتایا کہ سی سی ٹی وی احمد بھاردے نے دی تھی اور احمد نے وہ ایس ایچ او عدیل افضال کو دی تھی۔ سی سی ٹی وی میں میر رضا پستول اٹھاتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ ان کے مطابق احمد اور گارڈ مظہر نے بتایا کہ پستول گارڈ کا ہے۔
میر رضا کے موبائل فون سے متعلق کمیشن نے پوچھا کہ فون کس کو ملا تھا۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے سو گز دور ایس ایچ او عدیل افضال نے موبائل ریکور کیا تھا۔ ان کے مطابق ریکوری کا میمو فیصل کے نام سے بنا ہے۔ جبران ناصر نے بتایا کہ موبائل فون، واچ اور ہر چیز کی ریکوری پر اے ایس آئی فیصل رحیم کا نام ہے۔
جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ عبوری چالان میں موبائل فون جس فرد سے ملا اس کے تین نام لکھے ہیں۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ انہیں 8 اگست کو موبائل فون ملا اور میمو میں ریکوری والے شخص کا نام سجاد ولد امین لکھا ہے۔ کمیشن نے ولدیت کے بارے میں سوال کیا تو شبیر لغاری نے بتایا کہ میمو میں ولدیت غلط لکھی ہے، ان کے ریکارڈ میں ولدیت گامن خان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ساجد نے کہا تھا کہ موبائل اس کے چھوٹے بھائی سجاد کو ملا۔
جبران ناصر نے کہا کہ سجاد کا بیان میمو میں شامل نہیں۔ کمیشن نے میمو میں ریکوری کے وقت ردوبدل سے متعلق سوال کیا۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ میمو کے مطابق موبائل فون سیل کیا گیا تھا اور انہیں 8 اگست کو اے ایس آئی فیصل نے موبائل فون دیا۔ کمیشن نے پوچھا کہ فون سیل شدہ حالت میں ملا تو اتنے دن تک کہاں تھا۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ اے ایس آئی فیصل نے کہا تھا کہ فون فرانزک کے لیے سی ٹی ڈی کے پاس بھیجا گیا تھا۔
کمیشن نے سوال کیا کہ اگر فون سی ٹی ڈی کے پاس گیا تھا تو سیل کیسے تھا۔ شبیر لغاری نے کہا کہ انہیں فون سیل شدہ حالت میں ملا، ہوسکتا ہے دوبارہ سیل کیا گیا ہو۔ قتل اور شواہد چھپانے کی دفعات سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ باڈی ملنے کے بعد دفعات شامل کی گئیں اور شواہد چھپانے کی دفعہ اس بنیاد پر شامل کی گئی کہ لاش کی شناخت مٹانے کی کوشش کا شک ہوا تھا۔
شبیر لغاری نے بتایا کہ 30 جولائی کو کرائم سین یونٹ کو بلایا گیا تھا اور سی ایس یو نے ییلو ٹیپ لگائی تھی۔ میر رضا کی والدہ مریم نے کہا کہ 31 جولائی تک کرائم سین محفوظ نہیں تھا۔ شبیر لغاری نے کہا کہ ان کے سامنے ییلو ٹیپ لگی تھی، ہوسکتا ہے بعد میں ہٹا دی گئی ہو۔
کمیشن نے موبائل فون ملنے والی جگہ پر سی سی ٹی وی کیمروں کے بارے میں پوچھا تو شبیر لغاری نے بتایا کہ وہاں کیمرہ نہیں ہے۔ فوٹیج کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کچھ فوٹیج دیکھی ہے لیکن اس کے آگے پیچھے کی فوٹیج نہیں ہے۔ ان کے مطابق فون پھینکنے کی سی سی ٹی وی موجود ہے، تاہم جہاں فون پھینکا گیا وہ جگہ کیمرے میں نہیں ہے۔
کمیشن نے کہا کہ سرکار کا پیسہ اس کمیشن پر ضائع ہورہا ہے کیونکہ تفتیشی افسر نے اپنا کام نہیں کیا۔ شبیر لغاری نے کہا کہ تفتیشی افسر اکیلا ہوتا ہے اور رات کے تین، چار بج جاتے تھے۔ کمیشن نے پوچھا کہ کیا انہوں نے سینیئر افسران کو خط لکھا کہ انہیں کیا مشکلات ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ وہ تھانے میں بیٹھے رہے، سارا کام دوسرے کرکے لاتے رہے اور وہ دستخط کرتے رہے۔
واچ سے متعلق کمیشن نے پوچھا کہ 31 جولائی کو واچ کس سے وصول کی گئی۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ اے ایس آئی فیصل رحیم نے 8 اگست کو سیل شدہ واچ لاکر دی۔ کمیشن نے پوچھا کہ آٹھ دن واچ کہاں تھی۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ اے ایس آئی نے کہا تھا کہ واچ بھی فرانزک کے لیے سی ٹی ڈی بھیجی گئی تھی۔ سی ٹی ڈی کی کوئی دستاویز فراہم کیے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ فیصل رحیم نے زبانی بتایا، ان کے پاس کوئی رپورٹ نہیں۔
کمیشن نے پوچھا کہ اے ایس آئی فیصل رحیم کو بند کیوں نہیں کیا گیا۔ میر رضا کی بہن علیشباہ نے بتایا کہ 5 اگست کو اے آئی جی آزاد خان سے ملنے گئے تھے تو انہوں نے واچ کے کچھ اسکرین شاٹس دکھائے اور بتایا کہ موبائل فون سے دعا بھی ملی۔ جبران ناصر نے کہا کہ جس وقت فیملی کو اسکرین شاٹس دکھائے گئے اس وقت واچ سیل تھی۔
علیشباہ کے مطابق 7 یا 8 اگست کو ایس ایس پی زبیر نذیر نے بتایا کہ واچ سے کچھ نہیں ملا۔ فیملی نے واچ واپس کرنے کا کہا تو بتایا گیا کہ واپس کردیں گے، تاہم نئی تحقیقاتی ٹیم بننے کے بعد ڈی آئی جی عامر فاروقی نے کہا کہ واچ واپس نہیں کرسکتے، تحقیقات جاری ہیں۔ جبران ناصر نے کہا کہ این سی سی آئی اے کے پاس جانے سے پہلے تک واچ سیل نہیں تھی۔
آئی کلاؤڈ سے متعلق جبران ناصر نے بتایا کہ میر رضا کی واچ پر ای میل آئی تھی کہ ان کے آئی کلاؤڈ پر لاگ ان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دو دن بعد کسی نے لاگ ان کرکے بیک اپ ڈیلیٹ کردیا تو کچھ نہیں ملے گا۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ 12 اگست کو موبائل اور واچ این سی سی آئی اے کو بھیجے گئے، تاہم 13 اگست کو فیملی کے عدم اعتماد پر این سی سی آئی اے سے واپس لے لیے گئے۔ اس کے بعد تفتیش ان سے لے لی گئی اور تمام دستاویزات و شواہد نئے تفتیشی افسر کے حوالے کردیے گئے۔
ہولسٹر سے متعلق شبیر لغاری نے بتایا کہ 31 جولائی کو ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی نے اسے ریکور کیا تھا۔ کمیشن نے میمو پر تفصیلات درج نہ کرنے پر سوال کیا تو شبیر لغاری نے کہا کہ میمو پر تفصیلات لکھنی چاہئیں۔ کمیشن نے کہا کہ یہ تو جعلی کاغذات ہیں اور خدشہ ظاہر کیا کہ ان گواہان کے بیانات بھی ریکارڈ نہیں کیے گئے ہوں گے۔
گیسٹ ہاؤس سے متعلق کمیشن نے مالک کا نام پوچھا تو شبیر لغاری نے کہا کہ انہیں مالک کا علم نہیں، گیسٹ ہاؤس چلانے والے کا نام علی شیر ہے۔ کمیشن نے پوچھا کہ گیسٹ ہاؤس کی سی سی ٹی وی فوٹیج لے لی تو ڈی وی آر کیوں ضبط نہیں کیا۔ شبیر لغاری نے بتایا کہ ہر تھانے میں آئی ٹی کا فوکل پرسن ہوتا ہے جو ٹیکنیکل معاملات دیکھتا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ اگر آپ کچھ کرتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، آپ بھی ذمہ دار ہیں۔ شبیر لغاری نے کہا کہ انہوں نے اپنی طاقت سے زیادہ کام کیا ہے۔ کمیشن نے جواب دیا کہ آپ کہاں چلتے رہے، آپ کا کام نظر نہیں آرہا۔ کمیشن نے سوال کیا کہ اگر ان کا بیٹا ہوتا اور اس کا تفتیشی افسر ایسا کرتا تو کیا وہ مطمئن رہتے۔
کمیشن نے میر رضا سے رقم مانگنے والی آڈیوز لیک ہونے اور علی شاز کی آڈیو وائرل ہونے سے متعلق بھی سوالات کیے۔ کمیشن نے کہا کہ علی شاز کا بیان بھی ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ کمیشن نے ایپل واچ کے تین کروڑ روپے کے اسکرین شاٹس کا حوالہ دیتے ہوئے شبیر لغاری سے کہا کہ جو علم ہے وہ بتائیں۔
کمیشن نے کہا کہ پورے کیس کے شواہد انہیں ایس ایچ او عدیل افضال اور ایس آئی او لاکر دیتے رہے۔ پوسٹ مارٹم سے متعلق شبیر لغاری نے کہا کہ اگر گولی دور سے ماری جائے تو گولی لگنے والا زخم چھوٹا ہوتا ہے، اگر پاس سے ماری جائے تو انٹری پوائنٹ بڑا ہوتا ہے۔
کمیشن نے کہا کہ ایک انسان کو گولی ماری گئی اور وہاں صرف ایک گملے کے ٹکڑے پر خون ملا، کیا یہ انہیں عجیب نہیں لگا؟ کمیشن نے سوال کیا کہ کیا انہیں نہیں لگا کہ ممکن ہے کہیں اور سے باڈی لاکر پھینکی گئی ہو۔ شبیر لغاری نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں، ابھی رائے نہیں دے سکتا۔
جبران ناصر نے بتایا کہ میر رضا کی قبر کشائی کے دن تیار کی گئی رپورٹ میں لکھا گیا کہ گولی سینے پر لگی اور کمر سے نکلی، جبکہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی رائے کے بعد آبزرویشن دی جائے۔ کمیشن نے پوچھا کہ کس بنیاد پر یا کس کے کہنے پر یہ رائے دی گئی اور جو چیز تحریر کرنے کے مجاز نہیں تھے وہ کیوں لکھی۔
شبیر لغاری نے کہا کہ پہلے پوسٹ مارٹم میں یہ تفصیلات بتائی گئی تھیں۔ کمیشن نے سوال کیا کہ دوسرے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ شامل کی گئی تھی۔ جبران ناصر نے کہا کہ پہلے پوسٹ مارٹم کی وقت بھی پوسٹ مارٹم سے پہلے ہی رپورٹ میں یہ تحریر کردیا گیا تھا۔
کمیشن نے شبیر لغاری سے پوچھا کہ کیا انہیں ایسی تفتیش پر کبھی افسوس ہوتا ہے۔ شبیر لغاری نے جواب دیا کہ ان کا ضمیر مطمئن ہے۔ کمیشن نے جمع کی گئی فوٹیجز کی قانونی حیثیت کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ آپ تفتیشی افسر ہیں، بتائیں کون سا جج ان فوٹیجز کو تسلیم کرے گا۔
کمیشن نے آج کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے تھانہ فیروز آباد اور گلستان جوہر کے سیل شدہ روزنامچے وصول کرلیے۔ کمیشن نے کہا کہ بدقسمتی سے روزنامچے فراہم کیے جانے سے قبل بیانات ریکارڈ کیے جاچکے تھے۔ کمیشن کے مطابق تھانوں کے روزنامچے سیل حالت میں فوکل پرسن کو واپس کیے جاتے ہیں۔
کمیشن نے مزید کارروائی 21 ستمبر تک ملتوی کردی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل